پاکستان سے لین دین
- جمعرات 27 / نومبر / 2014
- 4244
پاکستان کے بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان کے سیاسی اور مذہبی معاملات میں دخل دینے یا اُن پر رائے زنی کا کوئی حق نہیں ۔ وہ “ شٹ اپ “ کا کاشن بھی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان صرف اُنہی کا ہے اس لئے اُنہیں پاکستان نے بہت کچھ دیا بھی ہے ۔
بہت کچھ دیا کی ترکیب پر اعتراض کی بھی گنجائش ہے اور سوال کی بھی ۔ کیونکہ بہت سے دانشوروں ، لفافہ صحافیوں اور اینکر پرسنوں کو پاکستان نے یہ بہت کچھ دیا نہیں بلکہ اُنہوں نے یہ “ بہت کچھ “ چھینا ، جھپٹا ، نوچا ، لوٹا اور کھسوٹا ہے ۔ اُنہوں نے حکمران جماعتوں سے اپنی سیاسی وابستگی ، کاسہ لیسی ، خوشامد اور بے جا تعریف کا معاوضہ وصول کیا ہے ۔ اپنے سیاسی مُربیوں کی مہربانیوں سے وہ خاک سے افلاک بنے ہیں اور انہی ناجائز اثاثوں کی بنا پر اُن کا طبقہ یعنی کلاس بدل گئی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ جس طرح اسمبلیوں کے اُمیدواروں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ اسی طرح منشی سے مہا بلی بننے والے دانشوروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے کہ شاہ کا مصاحب بننے سے پہلے اُن کی مالی اوقات کیا تھی اور مصاحبی کمانے کے بعد اُن کا بنک اکاؤنٹ کتنا ہے اور املاک کی مالیت کیا ہے ۔
وہ یہ بات آخر کس بنا پر کہتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں رائے دینے اور پاکستان کے حالات پر تبصرہ کرنے کا حق صرف اُنہی کو حاصل ہے ۔ کیا وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سمندر پاکستانی پاکستان سے کچھ لیتے نہیں بلکہ پاکستان کو کچھ دیتے ہیں ۔
کیا دیتے ہیں؟
زرِ مبادلہ جو پاکستان کی بیمار معیشت کو توانائی فراہم کرنے والا ٹانک ہے ۔
ہر سال بیرونی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی اپنے آبائی ملک کو زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں لیکن اِس کے عوض اُنہیں وہ حق بھی حاصل نہیں جو اندرونِ ملک پاکستان کے ٹیکس دہندگان کو حاصل ہے ۔ یہ ایک سنگین معاشرتی نا انصافی ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے کہ پاکستان کا قانونی ڈھانچہ ان زرِ مبادلہ فراہم کرنے والی سمندر پار پاکستانی آبادی کو اُن کی پاکستان کے لئے خدمات کے عوض وہ حقوق نہیں دیتا ہے جو پاکستان میں ٹیکس دہندگان کو حاصل ہیں ۔
نہیں ، بالکل نہیں ۔ زرِ مبادلہ بھیجنے والوں کو وہ استحقاق حاصل نہیں جو اربوں روپے قرض لے کر معاف کروا لینے والوں کو ہے ۔ اِن بےچارے سمندر پار پاکستانیوں کی حیثیت ہی کیا ہے ۔ پاکستان جہاں قانون اور انصاف بکتا ہے ، تارکینِ وطن پاکستانی نوکر شاہی ، پولیس اور بینک ملازمین کے ہاتھوں مسلسل استحصال کا شکار رہتے ہیں ۔
اب یہ نیا طالمانہ رویہ سامنے آیا ہے کہ اگر پاکستان کے سیاسی حالات پر تنقید کرو تو ردِ عمل میں مختلف قسم کی آوازیں آتی ہیں ۔
پاکستان سے باہر جو بیٹھے ہو ، اس لئے ایسی باتیں کہہ سکتے ہو ۔
تمہیں پاکستان میں کوئی اچھائی نطر نہیں آتی ۔ اچھائی کی بات کیا کرو، صرف کیڑے ہی مت نکالا کرو ۔
ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ۔
تو کیا پاکستان سے رشتہ ہی توڑ لیں ؟ اپنے خاندانی اور آبائی تعلقات پر فاتحہ پڑھ لیں ؟ پاکستان کو دہشت گردی ، کرپشن ، بھتہ خوری اور بجلی چوری کے دوزخ میں جلتا دیکھ کر اعتراض کرنے کے بجائے تالیاں بجائیں ؟
اب ذرا یہ بھی سُنیئے کہ ہؤا کیا تھا ۔
گذشتہ دنوں ایک مسیحی جوڑے کو پاکستان میں زندہ جلا دیا گیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں یہ ظلم ایسا ہی ہے جیسے قرآن میں موجود سورہ مریم کو نذرِ آتش کر دیا جائے ۔ اور میں نے یہ لکھ دیا ۔ اس پر ایک پاکستانی دانشور نے شٹ اپ کے ببولوں کا تحفہ بھجوایا اور کہا کہ یہ اسلام اور عیسائیت کے خلاف بکواس ہے ۔
جی بالکل درست فرمایا اپ نے ، مگرجس پاکستانی مسلمان نے ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلایا وہ اسلام اور عیسائیت کی خدمت تھی ؟
بعض لوگ دانشوری میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اُن کی مت ہی ماری جاتی ہے ۔ وہ جب بولتے ہیں تو اُن کے سینے میں نفرت کا بلغم مکروہ آواز سے کھڑکتا اور بو دیتا ہے ۔ مگر اُنہیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں کہ وہ اظہار کی آزادی پر قدغن لگا رہے ہیں ۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام پر پاکستان کی اجارہ داری ہے ۔ جو پاکستان کو چھوڑ گیا ، وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہوگیا ۔ جی نہیں ، میں نارویجین مسلمان ہوں ۔ مجھے اسلام پر چلنے اور اسلام سے متعلق معاملات پر بات کرنے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان میں بیٹھے بزعمِ خود دانشوروں کو ۔ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی مسلمان کو اسلام کے بارے میں اپنے خیالات کے اظہار سے کسی طرح روکے ۔ اسلام ایک گلوبل مذہب ہے ۔ یہ بنی نوعِ انسان کے لئے راہِ ہدایت ہے ۔ اور مسلمان ہونا اتنا آسان بھی نہیں جتنا کہ فی زمانہ سمجھا جا رہا ہے ۔ یہ ایک ذاتی نوعیت کی تحریر ہے ، جسے میں اقبال کے اس شعر پر تمام کرتا ہوں:
مصلحتاً کہہ دیا ، میں نے مسلماں تجھے
تیرے نفس میں نہیں گرمئ یوم النشور