عدم اعتماد دور کرنا ہو گا
- ہفتہ 29 / نومبر / 2014
- 3868
نیپال میں سارک ممالک کی 18 ویں سربراہ کانفرنس گو مگو کی کیفیت میں ختم ہو گئی۔ کانفرنس کوئی قابل ذکر کامیابی سمیٹنے میں حسب توقع کامیاب نہیں ہو سکی۔ جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ایک کانفرنس سے دوسری کانفرنس کے درمیانی وقفے میں جو کام ہونے چاہئیں وہ نہیں ہو پاتے اور نہ ہی ان پر توجہ دی جاتی ہے۔ اگر خطے کے تمام ممالک مل کر مسلسل جدوجہد کریں تو مسائل کے حل کی طرف پیش رفت ہوسکتی ہے۔ اس وقت سب سے اہم خطے کے ممالک کے درمیان میں عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنا ہے۔
سارک سربراہ کانفرنس کے اختتام پر 36 نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق سارک ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی سمیت دیگر امور پر ایک دوسرے سے تعاون اور خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کا اعادہ کیا۔ جبکہ خطے سے غربت کے خاتمے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق رکن ممالک نے زمینی راستوں کے ذریعے روابط اور علاقائی تعاون بڑھانے اور سارک ڈویلپمنٹ فنڈز کے قیام پر اتفاق کیا۔
سارک ممالک نے جنوبی ایشیا اقتصادی یونین کے قیام پر بھی اتفاق کیا جب کہ رکن ممالک نے سارک فوڈ بینک کے قیام میں حائل رکاوٹوں کو جلد ختم کرنے اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہوا، پانی اور بایو فیول کے منصوبوں پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔ اس موقع پر 2016 ء کو سارک کا ثقافتی سال کے طور پر منانے کا اعلان ہؤا ہے۔ سارک سربراہوں نے توانائی کی شراکت کے بارے میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے۔ تاہم خطے میں معاشی تعاون کے دو دیگر معاہدوں پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ پاکستان نے توانائی، سڑکوں اور ریل کے ذریعے رابطوں پر کچھ اعتراضات اٹھائے۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ وہ ان پر تیاری نہیں کر سکا تاہم اس کے باوجود آخری ملاقات میں توانائی کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ اس معاہدے پر دستخط کی وجہ شاید نواز شریف اور نریندر مودی کا مصافحہ تھا۔
جس وقت کھٹمنڈو میں نواز شریف اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے مصافحہ گیر ہوئے عین اسی وقت مقبوضہ کشمیر میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی سکیورٹی فورس کے درمیان جھڑپ میں تین فوجیوں سمیت 9 افراد کی ہلاکت کی خبریں آ رہی تھیں۔ پاک بھارت رہنماؤں کے مابین پرجوش مصافحہ ، مسکراہٹوں اور خیر سگالی کے چند جملوں کا تبادلہ ہؤا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ لیکن یہاں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا گرمجوش مصافحوں، ڈپلومیٹک مسکراہٹوں اور مختصر رسمی جملوں کے تبادلوں سے مودی کی گھٹی میں پڑی عداوت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ کیا ان رسمی اقدامات سے خطے کے مسائل حل ہونے کی توقع پوری ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق محض ایک رسم نبھائی گئی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں آنے والے دنوں میں کسی سطح پر بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ فوٹو سیشن محض سارک سربراہی کانفرنس کا بھرم رکھنے کے لئے ہؤا۔ نیپال میں خوشگوار مصافحوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصب افواج آرمی کیمپ پر سیلف پلانٹڈ حملہ کروا رہی تھی تاکہ پاکستان کے خلاف در اندازی کی نئی فرد جرم عائد کی جاسکے ( بھارت کا یہ طریقہ واردات بہت پرانا ہے)۔
اسلام آباد واپسی پر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ ہم پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں پاکستان کے وقار، آبرو اور مقام و مرتبہ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بھارت کا ہائی کمشنر سے کشمیری قیادت کی ملاقات کو جواز بنا کر مذاکرات ختم کرنا مناسب اقدام نہیں تھا۔ (نواز شریف کا یہ مؤقف برحق ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق وہاں کی مقامی قیادت ہے اور کسی بھی پیش رفت کی صورت میں ان سے ملاقات اور ان کا مؤقف جاننا نہایت ضروری ہے)۔
نواز شریف کے مطابق دنیا مقبوضہ کشمیر کو متنازع مسئلہ سمجھتی ہے اور بھارت ایل او سی پر جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار ہے۔ ( یہاں یہ واضح رہے کہ پاکستان کسی بھی سطح پر کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات کرانے کو تیار ہے مگر بھارت اپنی ازلی ڈھٹائی کے ساتھ اس سے انکارکرتا ہے) نواز شریف نے کہا کہ مودی سے دعا سلام ہوئی لیکن مذاکرات کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ مذاکرات کی ڈور خود قطع کرنے کے باوجود بھارت اب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان ہی مذاکرات میں پہل کرے۔ تاہم نواز شریف نے بجا طور پر واضح کیا کہ اب مذاکرات کے لئے ڈول بھارت کو ہی ڈالنا ہو گا۔
یہاں یہ کہنا نہایت ضروری ہے کہ سارک نے خطے کے ممالک کے باہمی تنازعات اور خصوصاً مسئلہ کشمیر پر کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اگر صورت حال یہی رہی تو کوئی بعید نہیں کہ عدم فعالیت کے باعث سارک بھی لیگ آف نیشن جیسے انجام سے دوچار ہو۔ خطے میں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اہم تنازعات کی کڑیاں بھارت سے ہی ملتی ہیں۔ چین اگرچہ سارک کا رکن نہیں مگر اس خطے کی سپر پاور چین ہی ہے اور چین کے ساتھ بھارت کے تنازعات اکثر شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ سارک کو مؤثر بنانے کے لئے اس میں چین کو مستقل رکنیت دی جائے۔ اگر سارک میں صرف موجودہ ممالک ہی نظر آتے رہے تو خطے کے مسائل جوں کے توں رہیں گے ۔ کانفرنسوں کے انعقاد پر صرف وسائل کا ضیاع ہو گا اور رہنما فوٹو سیشن کراتے رہیں گے۔ سارک کے تمام رکن ممالک خصوصاً بھارت کو اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔ تبھی خطے کے کروڑوں غریب شاید سکھ کا سانس لے سکیں۔