اردو میں ناروے کی تاریخ
- اتوار 30 / نومبر / 2014
- 9497
اردو زبان میں تاریخ نویسی کی روایت کچھ ایسی شاندار نہیں ہے جس پرفخر کیا جاسکے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو کا آغاز برصغیر میں ہؤا اور برصغیر پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد عموماً اور قیام ِ پاکستان کے بعد خصوصاً اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھ لیا گیا جبکہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔
فلسطین ، مصر اور لبنان میں رہنے والے عیسائیوں کی مادری زبان بھی وہی عربی ہے جو ان علاقوں میں رہنے والے والے مسلمانوں کی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اسلام کے حوالے سے دیکھا جائے توعربی اور فارسی کے بعد اسلام پر سب سے زیادہ کتابیں آپ کو اردو ہی میں ملیں گی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو میں اسلامی تاریخ پر لکھی گئی اکثر کتابیں مصنفین کے اپنے فرقہ ورانہ اعتقادات اور تعصبات کوسامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔
دوسری جانب 1947 کے بعد پاکستان میں اقتدارپر قابض طبقے نے قیام پاکستان کا جواز فراہم کرنے کے لئے تاریخ دانوں کو تاریخ نگاری کے بجائے تاریخ سازی کے کام پرلگادیا۔ پھر یہی تاریخ نصابی کتابوں میں شامل کر کے نئی نسل کی ذہنی تربیت کا فیصلہ کیاگیا۔ جس نے ملک میں ایک ایسی نسل تیار کی جو قیام پاکستان کے ایک مخصوص نظریہ پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے اور ناقدانہ انداز میں قیام پاکستان کے دیگر عوامل پر نظر ڈالنے والے محققین کو ملک سے غداری کا مرتکب تصور کرتی ہے۔
معروف طنزو مزاح نگار ابن انشاء نے پاکستان میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر طنز کرتے ہوئے لکھا تھا: “ شاہ اورنگ زیب بہت لائق اور متدیّن بادشاہ تھا ۔ دین اور دنیا دونوں پر نظر رکھتا تھا۔ اس نے کبھی کوئی نمازقضا نہ کی، اورکسی بھائی کو زندہ نہ چھوڑا۔۔۔۔ بعض ہندو مورخین نے عالمگیر کے متعلق بہت غلط بیانیاں کی ہیں، مثلاً یہی کہ وہ متعصب تھا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اگر متعصب ہوتا تو جو سلوک اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا وہ ہندو راجاؤں وغیرہ سے کرتا “ (اردوکی آخری کتاب، صفحہ 74 لاہور اکیڈمی)
اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان کے ممتاز محقق ڈاکٹر مبارک احمد لکھتے ہیں کہ “ برطانوی اقتدار کے خلاف تحریک آذادی سے لے کر قیام پاکستان اور اس کے بعد موجودہ دورتک ہماری تاریخ سیاست کے زیر اثر لکھی جاتی رہی ہے۔ سیاست دانوں نے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے جو لائحہ عمل بنایا ، ہمارے مؤرخین نے اس کی تکمیل میں تاریخ کو استعمال کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ اور سیاست ایک ہی راستہ پر چل کھڑے ہوئے اور یہی تاریخ کے لئے المیہ ثابت ہؤا۔ جس طرح درباری مؤرخین دربار کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اسی طرح ہمارے جدید مؤرخ سیاست دانوں کے نظریات و افکارمیں گرفتار اہل اقتدار کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جس طرح درباری تاریخ نویسی تنگ نظری کا شکار ہوکر تاریخ کا وسیع مفہوم نہ دے سکی۔ اسی طرح ہماری جدید تاریخ نویسی نفرت و فرقہ ورایت کا شکار ہوکر ، وسیع القلبی اور وسیع النظری کی تعلیم نہیں دے سکی “ ۔ (المیہ تاریخ ، صفحہ 273 ۔ پروگریسو پبلشرز، لاہور)
میں نے یہ تمہید اس لئے باندھی کہ گزشتہ دنوں مجھے تاریخ کی ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملاجو کسی پیشہ ور مؤرخ یا نام نہاد دانشور کی تحریر نہیں بلکہ اس کتاب کے لکھنے والے گزشتہ پچیس تیس سال سے ناروے کے دارلحکومت اوسلوکے ایک پاکستانی نژاد سیاستدان ہیں جن کا نام خالد محمود چوہدری ہے۔ خالدمحمود نے ناروے کی تاریخ اردو زبان میں لکھ کر ایک اہم کارنامہ انجام دیاہے۔
تاریخ ِ ناروے نامی اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے یہ کتاب لکھتے وقت تاریخ سازی کے بجائے تاریخ نویسی کو اہمیت دی اور ناروے کی گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ کو مختصر انداز میں اردو میں منتقل کردیا ہے۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں اسے لکھنے کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے خالد محمود کہتے ہیں: “ ناروے کی تاریخ اردو میں تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یورپ کی اس قوم کے ماضی کو جان سکیں کہ اس نے کس کٹھن اور دشوار گزار راہ سے گزر کر ترقی کرتے ہوئے اپنے آپ کو دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ۔“ (تاریخ ِ ناروے، قائد پبلشرز ، اوسلو)
قائد پبلشرز اوسلو کی شائع کردہ 363 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ مصنف نے اسے تحریر کرتے وقت انتہائی سادہ زبان استعمال کی ہے تا کہ عام افراد بھی اس کتاب سے پوری طرح مستفید ہوسکیں۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف ممالک کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے اردو قارئین کے لئے بھی یہ کتاب انتہائی دلچسپی کا باعث ہوگی۔ مصنف نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس کتاب میں ناروے کی گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے تمام اہم واقعات کوضرور شامل کیا جائے۔ چاہے وہ بحری قزاقوں وائی کنگز (Vikings) کا ذکر ہو یا ناروے کے پہلے بادشاہ ہارالد ہورفاگرے (Harald Hårfarge) کا، چاہے وہ ناروے پر سوئیڈن یا ڈنمارک کے قبضے کا ذکر ہویا آئین کی تشکیل کا۔ ناروے کے قدیم مذہب کا ذکر ہو یا یہاں عیسائیت کے آغاز وپھیلاؤ کا، مزدورں کے حقوق کی بات ہو یا عورتوں کے حقوق کی، ناروے کے سماجی اداروں کا احوال ہو یا سیاسی اداروں اور جماعتوں کا تذکرہ۔ غرض کہ مصنف نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ ناروے کی تاریخ کا کوئی ایک بھی ایسا شعبہ یا واقعہ ، جو اہم ہو ، اس کا تذکرہ اس کتاب میں ضرور کیا جائے۔
مجھے اس کتاب میں اگر کوئی کمی نظر آئی تو وہ ہے اس میں حوالہ جات کانہ ہونا ہے۔ گو مصنف نے کتاب کے آخر میں کتابیات (صفحہ363) کی فہرست دی ہے تاہم ایک مستند تحقیقی کتاب کا تقاضہ یہ تھا کہ اس کتاب میں جہاں اہم باتوں کا تذکرہ کیاگیا ہے ، یا جہاں کسی کتاب سے استفادہ کیا گیا ہے وہاں ان کتابوں کے حوالے دئے جانے چاہیے تھے۔ اس سے اس کتاب کی تحقیقی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ چند دوسری باتیں جنھیں اس کتاب میں کمی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک اس کتاب میں موجود بعض مقامات پر کتابت کی غلطیاں ہیں جو باآسانی دور کی جاسکتی تھیں۔
میں اپنی بات کے ثبوت میں صرف چند مثالوں پر ہی اکتفا کروں گا۔ یعنی تسلیم کی جگہ“ تسلم “ (صفحہ163)، ختم کردئیے کی جگہ “ ختم دئیے “ (صفحہ 184)، منسوب کی جگہ “ منصوب “ (صفحہ 185)، قابل اعتراض کی جگہ “ قابل احتراز “ (صفحہ 233)، وغیرہ جیسی کتابت کی غلطیاں ذرا سی توجہ سے دورہوسکتیں تھیں۔ اس کے علاوہ بھی کتاب میں چند دیگر مقامات پر زبان کی غلطیاں موجود ہیں جس کے باعث اِن مقامات پر تحریر گنجلک اورمبہم نظر آتی ہے، جنھیں دور کرکے تحریر کو سلیس اور رواں بنایا جاسکتا ہے ۔
ایک اہم بات جس کا تذکرہ کرنا ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ اس کتاب کا اختتام ناروے میں 1970 کی دہائی کے آغاز میں یورپی یونین میں شمولیت کے سوال پر ہونے والے استصواب رائے ( ریفرنڈم) پر کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ناروے میں تارکین وطن کی آمد، خصوصاً پاکستان سے آنے والے تارکین وطن اور اس ہجرت کے نتیجے میں نارویجئین معاشرے پرپڑنے والے اثرات کا ذکر اس کتاب میں موجود نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ مصنف جلد ہی اس کمی کا ازالہ کرتے ہوئے اس کا دوسرا حصہ ضرورتحریر کریں گے جس میں وہ گزشتہ چالیس سال کی تاریخ ، خصوصاً ناروے کی ترقی میں پاکستانی تارکین وطن کے کردار پر ضرور روشنی ڈالیں گے۔
آخر میں میں اس کتاب کے مصنف خالد محمود کو اردو زبان میں تاریخ ِ ناروے جیسی بہترین کتاب لکھنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔