زکوٰة ادا کرنے پر قدغن
- سوموار 01 / دسمبر / 2014
- 4160
امریکہ کی مسلم تنظیموں نے امریکی صدر باراک اوباما سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے زکوٰة کی شکل میں دوسروں کی امداد اور خدمت خلق کے حق کو بحال کریں اور اس تعلق سے سابق امریکی صدر جارج بش نے جو مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے اس کا ازالہ کریں۔
مسلمان اس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ زکوٰة کی بنیاد پر افراد یا جماعت میں سے کسی کی مدد کریں گے تو انہیں دہشت گردی کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کے جرم میں پکڑ لیا جائے گا یا پریشان کیا جائے گا۔ امریکہ کی دو اسلامی تنظیموں ” امپنیک “ اور ” احسنا “ نے ایک خط لکھ کر اوباما کی توجہ اس طرف مبذول کروائی ہے کہ امریکی اسلامی تنظیموں کی کونسل نے جو نفع حاصل کرنے کی بنیاد پر کام نہیں کرتی تھیں کو اس اتہام کی بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا کہ انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مالی مدد فراہم کرتی ہیں۔ اسلامی تنظیموں نے اپنے طور پر بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ امریکی وزیر خزانہ کو اپنے بے ضرر عمل کی یقین دہانی کرا سکیں کہ لگ بھگ سات تنظیموں کو اسی الزام پر بند کر دیا گیا تھا کہ وہ زکوٰة کی آڑ میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مالی طور پر مدد دیتی ہیں اور ان کو فروغ دیتی ہیں۔
امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں نے اس امریکی قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے جس کے ذریعے کسی غیر ملکی فلاحی ادارے کی مدد یا مالی اعانت کرنے پر دہشت گردی کے قانون کے تحت جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ زکوٰة ادا کرنا اسلام میں فرض ہے اور ان کی اس عبادت کے حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
شہری حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو مدد فراہم کرنے کا امریکی قانون اتنا غیر واضح اور پیچیدہ ہے کہ اس کی وجہ سے افراد اور تنظیمیں اپنی مالی امداد کے استعمال کا ریکارڈ رکھنے کا ناممکن کام سرانجام نہیں دے سکتیں اور ان تنظیموں کے بقول اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے امریکی مسلمان دیگر مسلمان ملکوں میں بھی خیرات کے طور پر رقم بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کہ کہیں یہ رقوم دہشت گردی کے ساتھ منسلک قرار نہ دے دی جائیں اور ایسا صرف روپے پیسے کے معاملہ میں نہیں ہے بلکہ کسی بھی طرح کی مدد اس قانون کی زد میں آ سکتی ہے۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک امریکی تنظیم ” کراماہ “ سے وابستہ وکیل ابوسی کا کہنا ہے کہ کراماہ افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول کی مدد کرنا چاہتی تھی لیکن ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اس اسکول کی مدد کرنا قانونی طور پر صحیح ہے یا نہیں؟ اس قانونی پیچیدگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اس منصوبے پر سرے سے عمل ہی نہ کر سکے اور اسکول کے لئے اشیاء افغانستان نہ بھیج سکے۔
امریکہ کے مالیاتی قوانین بلکہ خود امریکی آئین کے مطابق حکومت امریکہ کو یا امریکہ کے کسی بھی ادارہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکی شہریوں سے ان کے مذہبی تشخص کی بنیاد پر غیر مساوی سلوک کریں اور مذہب کی بنیاد پر ان پر پابندی عائد کریں یا ان کی آمدنی کے ذرائع و وسائل معلوم کریں ( یہ ایک الگ بحث ہے کہ زکوٰة کا نظام مغرب کی نظر میں ایک متنازعہ مسئلہ ہے) ، پھر کیا سبب ہے کہ امریکہ کے لگ بھگ آٹھ لاکھ مسلمانوں کے ساتھ حکومت کے مالیاتی ادارے ، سکیورٹی ادارے اور دوسرے سرکاری و غیر سرکاری ادارے مذہبی بنیاد پر غیر مساوی سلوک کر رہے ہیں؟ اس کا واضح جواب میری نظر میں یہ ہے کہ 9/11 کے بعد ہر مسلمان وہاں مشکوک ہو گیا ہے یہی سبب ہے کہ امریکہ میں آج محمد ، احمد ، علی ، خان اور اسی جیسے دوسرے اسلامی ناموں والے افراد سے غیر معمولی احتیاط برتی جاتی ہے اور ہر موقع پر ان کو اپنی شناخت کی تصدیق کرانے کا مسئلہ درپیش ہے۔
بی بی سی نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق امریکی مسلمانوں کی قومی سطح پر نمائندگی کرنے والی تنظیم ” کونسل آف امریکن مسلم ریلیشنز “ نے رقم کی ترسیل کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ” ویسٹرن یونین “ پر الزام لگایا ہے کہ وہ بلا وجہ مسلمان گاہکوں کو ہراساں اور ان کی رقوم ضبط کر رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے کچھ عرصہ سے مسلمان شہریوں کی طرف ان کی رقوم کو ناجائز ذریعہ آمدن کہہ کر ضبط کئے جانے کی شکایت موصول ہو رہی ہیں اور یہ بھی کہ ویسٹرن یونین نے محمد ، احمد ، علی اور خان جیسے ناموں کے حامل افراد سے ان کے مذہب ، رہائش ، کاروبار ، ذریعہ آمدن اور قومی شناخت کے بارے میں پوچھ تاچھ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ تنظیم نے اسے ” مذہبی پروفائلنگ “ کا نام دیا ہے۔ یہ یاد رہے کہ ویسٹرن یونین کا اربوں ڈالر کا کاروبار دنیا کے سو سے زائد ملکوں میں پھیلا ہؤا ہے۔
رقوم ضبط کئے جانے کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے تنظیم کی ایک عہدیدار حمدان حسن نے بتایا کہ چند روز قبل ایک سیاہ فام اوکلی محمد علی نے جب نیو یارک سے شکاگو میں اپنے ایک رشتہ دار کو بھجوانے کے لئے رقم ویسٹرن یونین کی ایک شاخ میں جمع کرائی تو کچھ ہی گھنٹے بعد انہیں کمپنی کے ایک اہلکار نے فون کیا اور کہا کہ چونکہ ان کا نام محمد ہے اس لئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنی تصویر مہیا کریں۔ محمد علی نے جواباً احتجاج کیا اور کہا کہ وہ رقم واپس لینا چاہیں گے لیکن ویسٹرن یونین نے ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تصویر دئیے بغیر وہ اپنی رقم واپس نہیں لے سکتے۔
ویسٹرن یونین کی ترجمان وینڈی ہربرٹ نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ محمد علی کی رقم ضبط کئے جانے کا عمل امریکی قوانین اور قواعد کے مطابق ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا ان قوانین و قواعد کا اطلاق صرف محمد ، احمد ، علی اور خان نامی لوگوں پر ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ویسٹرن یونین رقوم کی ترسیل کا کاروبار وزارت خزانہ سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق کرتی ہے۔ تاہم اس نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس حکومت کی طرف سے دی گئی ایک ” واچ لسٹ “ موجود ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ جب کمپیوٹر سسٹم کسی گاہک کے واچ لسٹ میں درج نام کی شناخت کرتا ہے تو قانون کے مطابق ان پر لازم ہے کہ وہ اس گاہک کی رقم ضبط کر لیں۔ ترجمان وینڈی ہربرٹ نے مزید بتایا کہ ویسٹرن یونین پیٹریاٹ ایکٹ کے نفاذ سے پہلے بھی رقم بھیجنے والے افراد کی چھان بین کرتی تھی۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکی کانگریس نے جب پیٹریاٹ ایکٹ پاس کیا تو ہمیں حکم دیا گیا کہ رقوم بھیجنے والی کمپنیوں پر لازم ہے کہ حکومت کی ” واچ لسٹ “ کو اپنے کمپیوٹر سسٹم میں شامل کریں۔ یہی وجہ تھی کہ محمد علی کا پہلا اور آخری نام ( محمد اور علی) واچ لسٹ میں شامل تھا تاہم مسٹر محمد علی کی تصویر مہیا کرنے کے ایک دن بعد ان کی رقم واپس لوٹا دی گئی۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں لگ بھگ آٹھ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں سے دو تہائی ملسمان بیرون ملک پیدا ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل آف امریکن مسلم ریلیشنز کے ارکان ویسٹرن یونین سے ایسے واقعات کی وضاحت طلب کر رہے ہیں اور ان ناخوشگوار واقعات کی روک تھام پر زور دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں جب نجی طور پر کام کرنے والے مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کو امریکی حکومت نے ” مسلم شناخت والے افراد “ کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کر رکھی ہے اور ان کو ایسے ناموں کی لسٹ بھی فراہم کر رکھی ہے تو خود حکومت کے سرکاری محکموں اور ان اداروں میں کیا ہو رہا ہو گا۔ امریکن اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے گزشتہ دنوں سین فرانسسکو میں مسلم ایڈووکیٹس نامی تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں متعدد عرب امریکیوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔
آخر میں میرے لئے یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ صدر باراک اوباما نے اپنی قاہرہ میں کی گئی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ زکوٰة ادا کرنے کے معاملہ میں امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ تعاون کریں گے۔ کب؟ یہ انہوں نے نہیں بتایا ............