پاک بھارت تعلقات اور سار ک کا کردار

  • بدھ 03 / دسمبر / 2014
  • 5122

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندستان کو پاکستان کا قیام ابتداء ہی سے گوارا نہ تھا ورنہ اثاثہ جات کی تقسیم میں دیانت وامانت کا دامن نہ چھوڑا جاتا تو ان تنازعات سے بچا جا سکتا تھا جو اس وقت دونوں قوموں کو درپیش ہیں۔ اس طرح 1965 ، 1971 سمیت کئی دیگر جنگیں نہ ہوتیں اور نہ ہی ملک میں عصیبت کا ماحول پیدا ہوتا ۔ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کا پاکستان سے الگ ہونے کا دل خراش واقعہ وقوع پذیر ہوا۔ پاکستان نے ہمیشہ بھر پور کوشش کی ہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے باہمی تعلقات کی بہتری کیلئے مذاکرات کئے جائیں ۔

بے نظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی دیگر اقدامات کے ساتھ پاک بھارت تعلقات میں تعطل کے خاتمے کیلئے ذاتی طور اہم کردار ادا کیا۔ میاں نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات پر زور دیا ۔ راوں سال تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھی 1999 کی طرز پر پاک بھارت تعلقات بہتر کرنے کیلئے کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے نریندرمودی کے بھارتی وزیراعظم بننے کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی ۔ البتہ مودی نے ان کی جانب سے خیرسگالی کا مثبت جوب دینے کے بجائے انہیں دہشت گرد ملک کا سربراہ قرار دیتے ہوئے چارج شیٹ تھمادی ۔ علاوہ ازیں لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کا مظاہر ہ کیا گیا اورپاکستان کی سرحدوں پر فائرنگ شروع کردی ۔

پاک بھارت تعلقات میں سب سے اہم رکاوٹ کشمیر کا تنازعہ ہے جس پر اقوام متحدہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کررکھی ہے جبکہ بھارت کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ جو بنیادی طور پر اس کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں اور المیہ یہ ہے کہ مودی نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر اس کی مداخلت کو غلط ٹھہراایا دیا۔ اس عمل کو اقوام متحدہ کی توہین قرار نہ دینا ناانصافی نہ ہوگی۔پاکستان کا پہلے روز سے یہی موقف ہے کہ کشمیریوں کو اظہاررائے کا حق دیا جائے تاکہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ انہیں کس طرح سے رہنا ہے۔ لیکن بھارت نے ہمیشہ اس کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ ان کی آزادی سلب کرنے کیلئے مسلسل ان پر مظالم ڈھارہا ہے تاکہ وہ ٓزادی کے مطالبے سے باز آجائیں۔

پاکستان نے ہر دور میں بھارتی جارحیت اور من مانیوں کے باوجود مثبت ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ اس بار بھی کوشش یہی کی گئی کہ معاملات دوستانہ ماحول میں حل کئے جائیں تاکہ خطے میں امن و امان کی فضاء قائم ہوجائے ۔ مگر مسلسل اشتعال انگیزی کے باعث حکومت کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اب بھرپور رد عمل کا مظاہرہ کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ پہلی بار کسی پاکستانی وزیراعظم نے دلیری کا ثبوت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خطے میں اگر تنازعات پیدا ہورہے ہیں تو ان کا اصل ذمہ دار بھارت ہے۔ جو جنوبی ایشیا میں اپنا تسلط برقرار رکھنے کا خواہشمند ہے ۔

پاکستان اس ساری صورتحال کے باوجود آج بھی جنوبی ایشیا کو تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ اور غربت، جہالت ، بیماری اور بیروزگاری کے خاتمے سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششوں پر یقین پیہم رکھتا ہے ۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہونے والی اٹھارویں سالانہ سارک سربراہی کانفرنس سے خطاب میں میاں نواز شریف اس تنظیم کو امن و خوشحالی کیلئے خطہ کے عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا ہے ۔انہوں نے سارک کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔ کیونکہ پاکستان کی خواہش ہے کہ سارک کو بھی یورپی یونین کی طرح موثر بنایا جائے ۔ اگر یورپی یونین اور دینا کی دیگر علاقائی تنظیمیں قابل رشک ترقی کرسکتی ہیں تو سارک جو 30سال سے علاقائی تنظیم کی حیثیت سے اپنا وجود رکھتی ہے ، وہ بھی رکن ممالک کی باہمی ترقی اور بہبود کے شعبوں میں اپنا مقام کیوں نہیں بناسکتی ۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے اور مقام افسوس یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی غربت ، افلاس ، بیماری اور ناخواندگی کا شکار ہے۔ یہاں انسانی اور سماجی اشاریے نہایت نچلی سطح پر ہیں ۔ اس خطہ کا اہم ترین تشخص یہ ہے کہ ا س کی آبادی کا 20 فی صد سے زائد حصہ 24سے 25سال کی عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن اس عظیم افرادی قوت سے سوائے شدت پسندی کے سوا اور کوئی دوسرا تعمیری کام نہیں لیا جارہا ۔

ہم جانتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعہ کا تصفیہ کئے بغیر پاک بھارت تعلقات میں بہتری ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں سارک کا کردار بھی موثر تنظیم کی حیثیت سے نہیں رہا اور اس کا اٹھارواں اجلاس بھی اس کشیدگی کو کم نہیں کرسکا ۔ جس کی واضح مثال دونوں رہنماؤں کا سٹی ہال میں موجود ہونے کے باوجود علیک سلیک نہ کرنا اور ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے گریز کرنا تھا۔ یہ بات میڈیا پر موضوع بحث بھی رہی۔ البتہ اختتامی سیشن کے موقعہ پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم جس گرم جوشی سے ملے ہ۔ لیکن وہ کسی بریک ترو میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

اختصار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں صورتحال کی بہتری مقصود ہے تو سارک اپنا موثر کردار ادا کرتے ہوئے بھارت کو غاصبانہ عزائم سے باز رکھنے کے اقدامات کرے۔ وگرنہ آگ کا یہ الاؤ بھڑکتا رہے گا جس سے بیرونی قوتوں کو اپنے مفاد کے حصول میں بی آسانی پیدا ہوگی جو کسی لحاظ سے خطے کیلئے خوش آئند نہیں ہے۔