وطن کی فکر کر ناداں

  • جمعہ 05 / دسمبر / 2014
  • 4858

پاکستان ہمیشہ کی طرح آج بھی فکری کنفیوژن ، سیاسی انتشار ، معاشرتی ابتری ، اقتصادی بد حالی اور لاقانونیت کے شکنجے میں جکڑا ہؤا ہے ۔ معاشرے کے مراعات یافتہ طبقے جنہیں اشرافیہ کہا جا رہا ہے ، دراصل پاکستان کی بورژوا سرمایہ دار اور اقتدار پسند قوتوں کا  گٹھ جوڑ ہے جو  کُرسی کی حفاظت کو جمہوریت کی حفاظت کہتا ہے ۔

جب کہ اسمبلی کے باہر گلی کے پارلیمان میں کھڑے  حزبِ اختلاف کے خود ساختہ لیڈر عمران خان ، کُرسی کی اس جمہوریت کو مسروقہ جمہوریت قرار دے رہے ہیں۔ وہ موجودہ وزیر اعظم کو آئین کے آرٹیکل چھ کے تیر سے شکار کرنا چاہتے  ہیں کیونکہ وہ مسروقہ جمہوریت کو آئین سے غداری سمجھتے ہیں ۔

آئین کا یہ آرٹیکل چھ وہی دفعہ ہے جس کے تحت جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کاروائی کی انتقامی چکّی میں پیسا جا رہا ہے ۔ پسِ پردہ قوتیں جن کا مفاد فوج سے وابستہ ہے ، جنرل مشرف کے خلاف عدالتی کاروائی کو پسند نہیں کرتیں  اور وہ طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنوں اور تحریکوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہیں اور کر رہی ہیں۔ لیکن قضا سے جناب طاہرالقادری تو اس احتجاجی منظر سے ہٹ گئے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت نے اُن کا اعصابی احتساب شروع کر دیا ہے ۔ اب عمران خان اپنے ساتھیوں اور مشیروں کے ہمراہ دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں  ۔

پاکستان کے لوگ  ذہنی اور روایتی طور پر ہمیشہ غیبی امداد کے منتظر رہنے والے سریع الاعتقاد لوگ ہیں اور وعدوں کے ہر نئے جال میں پھنس کر خوشحالی بلکہ اس سے ایک قدم آگے جنّتِ ارضی کے ایسے بنجر خوابوں میں کھو جاتے ہیں جو تعبیر کی فصل کبھی نہیں دیتے ۔
پاکستان جو سیاسی طوائف الملوکی اور گروہی سیاست کی نہایت بھدی مثال ، ایسے سیاسی قائدین کے ہتھے چڑھا ہؤا ہے ، جو عوام کی غربت ، بد حالی اور مجبوری کی ماری لاشوں پر سیاست کرتے آئے ہیں  ۔ یہ قائدین ، ان کی تنظیمیں اور ادارے ذیل کے چار خانوں میں تقسیم ہیں ۔
1۔ فوجی قائدین ، مسلح افواج اور ایجنسیاں
2 ۔ مذہبی قائدین ، مذہبی جماعتیں ، مسلح لشکر ، جتھے ، جیش اور جنود
3۔ سول قیادت ، بیوروکریسی ، پولیس اور غُنڈے
4 ۔ میڈیا ، دانشور  اور این جی اوز

ان چاروں قوتوں کے  درمیان کوئی چہار طرفہ رابطے یا کوارڈی نیشن کا باقاعدہ بندوبست موجود نہیں ہے ۔  چنانچہ پاکستانی معاشرہ بیرونی خطرات سے زیادہ ان چاروں خانگی حریفوں کی پالیسیوں سے نالاں اور پریشان ہے ۔

صرف اسی پر بس نہیں ، معاشرے کے اندر نسلی ، ثقافتی اور فرقہ وارانہ تضادات نے لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے ۔ مہاجر ، سندھی ، پنجابی ، سرائیکی ، بلوچی اور پٹھان ایک دوسرے سے الجھتے ہوئے  عدم برداشت کے کرب سے گزرتے رہتے ہیں ۔  اور پھر پٹھانوں کے اندر قبائل کا ایک ہفت کشور ہے جس نے فاٹا ، پختون خواہ اور شمالی علاقہ جات میں اپنا جرگہ نظام رائج کر رکھا ہے، جو کئی حوالوں سے وفاق کی رٹ کے لئے چیلنج بنتا رہا ہے اور ہے ۔ بدقسمتی سے نہ تو ہماری سول انتظامیہ اس ہزار پا کو زنجیر کر کے کسی نظام سے مربوط کر سکی اور نہ ہی فوج انہیں تسخیر کر سکی ۔ آپریشن ضربِ عضب آج بھی جاری ہے اور جانے کب تک جاری رہے گا ۔

جس معاشرے کے اس قدر حصے بخرے ایک دوسرے سے مزاحم اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں وہاں کون سی جمہوریت چل سکتی ہے ؟
بے چارہ عام آدمی اُن لوگوں کی ہاں میں ہاں ملا کر خاموشی اختیار کرنے میں جان کی امان سمجھتا ہے ، جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اللہ نے بنایا ہے اور اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے گا ۔  مگر اللہ نے مخلوق کے لئے ایک راستہ متعین کر رکھا ہے ، جسے مخلوق خود ہی اپنی بد اعمالیوں سے مسمار کر رہی ہے ۔

پچھلے چار مہینوں سے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں اور اور انقلاب کے نعروں نے ہل چل مچا رکھی تھی ۔ ان کی دیکھا دیکھی جوابِ آں غزل کے طور پر ہر سیاسی جماعت نے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے جلسے بازی شروع کر دی ہے ۔
یہ جلسے بازی ان جماعتوں کی سیاسی قوت کا مظاہرہ ہے یا نہیں ، اس سے قطع نظر  ، اس سے نقصان یہ ہورہا ہے کہ عوام مسلسل تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں اور یہ تقسیم متحارب گروپوں کی چپقلش اور آویزش کو ہوا دے رہی ہے۔ جس سے ملک ایسی خانہ جنگی کی طرف رواں دواں ہے ، جس میں بالآخر گلی کوچوں میں دست بدست لڑائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ 

اس خطرے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دھرنوں کی سیاست کو خیر باد کہہ کر باہمی رواداری ، خیر سگالی اور دو طرفہ تعاون کے ذریعے بات چیت کے دروازے کھولے جائیں ورنہ یہ اندر کا دشمن ، باہر کے دشمن سے زیادی خطرناک ثابت ہوگا :
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
۔۔۔۔۔ اقبال ۔۔۔۔۔۔
اور پاکستان کو چلانے والے ادارے جتنی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہیں اور اُن کے سربراہان اور عملہ جتنا لائق ہے ۔ اُس کا اندازہ تو پاکستان کی مجموعی معاشرتی صورتِ حال ، ترقی کے معیار اور امنِ عامہ کی صورتِ حال سے لگایا جا سکتا ہے ۔ اور وہ پرانا شعر جو کبھی سردار عبدالرب نشتر نے پڑھا تھا ، یاد انے لگا ۔ جانے کیوں :
نیرنگی ء سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل اُنہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھ