کراچی سے بہاول پور بذریعہ ٹرین

  • سوموار 08 / دسمبر / 2014
  • 4674

میں نے پچھلے چوبیس برسوں میں پاکستان میں ٹرین کا سفر نہیں کیا تھا۔ پچھلی مرتبہ میں ٹرین میں اس وقت سوار ہوا تھا جب ’’ نان سٹاپ‘‘ ٹرین سے لاہور سے فیصل آ باد کا سفر درپیش تھا۔ اس وقت میں لاہور میں اپنی سرکاری نوکری اور ہزاروں’’ حسین ‘‘یادیں چھوڑ کر اپنے آ بائی شہر واپس جا رہا تھا۔ اس کے بعد فن لینڈ آ نے کا سبب پیدا گیا اور پاکستان میں ٹرین کا دوبارہ سفر ایک خواب بن کر رہ گیا۔

بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں سے ایک مہینہ ننھیال میں گزارنے کے لئے بھی اپنی امی جان اور بہن بھائیوں کیساتھ ٹرین کا سفر کیا جاتا تھا۔ وہ خوبصورت سفر کسی عیاشی سے کم نہیں ہوتا تھا، جس کا ہم بہن بھائی سارا سال منتظر رہتے تھے۔فیصل آ باد سے خوشاب تک کاسفر کئی طرح کے مزے اور رنگینیاں سمیٹے ہوتا تھا۔ امی جان گھر سے پراٹھے، شامی کباب، اور چکن روسٹ وغیرہ بنا کر ساتھ لاتی تھیں، تو ابو جان سٹیشن سے کولر میں برف اور پانی بھروا کر ساتھ رکھ دیتے تھے۔ ہم بچوں کو چائے نہیں ملتی تھی لیکن امی جان اپنے ساتھ تھرمس میں گر ماگرم چائے بھی رکھتی تھیں۔ راستے میں ٹرین جب کسی سٹیشن پر رکتی تھی تو ہم بچے امی جان سے قلفی اور آ ئس کریم کی فرمائش کرتے تھے ۔ جو جلد ہی پوری کر دی جاتی تھی، کیونکہ ٹرین وہاں چند منٹ ہی رکتی تھی۔ اسی طرح ٹرین جب کسی دوسری ایکسپریس ٹرین کے’’ کراس‘‘ ، یا کسی جنکشن پر زیادہ دیر رکتی تھی تو میں اور میرا چھاٹا بھائی اس سٹیشن پر اترنے کی فرمائش کرتے تھے، جس پر امی جان سختی کیساتھ ڈانٹ دیتی تھیں اور وہ فرمائش کبھی بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس سفر کے دوران بہت سے دوست بھی بنتے تھے جن کیساتھ کئی برسوں تک قلمی دوستی چلتی رہی۔ اس وقت میں خود بچہ جبکہ اب بچوں والا بن چکا تھا۔ اسی نوعیت کی بے شمار یادیں تھی جن کو تازہ کرنے کو جی چاہتا تھا، لیکن موقع نہیں مل رہا تھا۔

امسال اکتوبر کے مہینے میں کراچی میں پاکستان کونسل آ ف آ رٹس نے ساتویں اردو کانفرنس کاا نعقاد کیا تو مجھے فن لینڈ سے اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ بلا شبہ میرے لئے یہ ایک اعزاز تھا کیونکہ اس سے قبل فن لینڈ سے اس کانفرنس میں کبھی بھی کسی کو شمولیت کا موقع نہیں ملا تھا۔ بہاول پور میں میرے ایک پیارے دوست میجر طاہر مجید رہتے ہیں، جو کہ چولستان میں ہورٹی کلچر، ثقافت، تعلیم اور مقامی لوگوں کو صحت و صفائی کی سہولتیں پہنچانے والے ایک بڑے این جی او کے مہتمم ہیں۔ مجھے ان سے ملنے بہاول پور جانا تھا۔ میں نے سوچا کے بذریعہ ہوائی جہاز جانے کے بہاول پور بذریعہ ریل گاڑی سفر کیا جائے اور اپنے چوبیس سال پرانے خواب کی تکمیل کرنے کا اس سے اچھا موقع شائد اگلے چوبیس سال بھی نہ ملے۔

کراچی میں میرے پیارے دوست اور بھائی محسن رضوی کی مدد سے ٹرین کا اے سی سلیپر کا ٹکٹ ایک دن پیشگی خرید لیا گیا۔ ٹرین کا ٹکٹ پیشگی خریدنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اس کے لئے آ پکے پاس آ پکا اصلی قومی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔ ویسے اگر آ پکے پاس یہ دستاویز نہیں ہے تو آ پ کسی بھی شخص کے نام پر اور کسی کا بھی موبائیل نمبر دے کر یہ ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر مسافر کو اپنے قومی شناختی کارڈ پر بکنگ کرانے کا مقصد کوئی سیکورٹی ایشوز ہیں توپھر کسی بھی اجنبی کے قومی شناختی کارڈ اور موبائیل نمبر پر بکنگ کرانے کی سہولت سے کیا یہ مقصد فوت نہیں ہو جاتا؟

مجھے اس بات کا بھی پہلی مرتبہ علم ہوا ، اور خوشی بھی ہوئی کہ اس ریلوے کو کسی پرائیویٹ کمپنی نے خرید لیا ہے اور مسافروں کے لئے بہتر سہولتیں دستیاب ہیں۔ اگلے روز میں علی الصبح بیدار ہوا، ہوٹل سے چیک آ ؤٹ کیا، ٹیکسی پکڑی اور وقت مقررہ پر ریلوے سٹیشن پہنچ گیا۔ میرا پاکستان میں ایک ماہ قیام کا اراداہ تھا، اس لئے میرے پاس سامان بھی زیادہ تھا، مزید برآ ں کانفرنس سے کئی شعرا کرام، ادیبوں اور اساتذہ کی کتابیں بھی تحفے میں ملیں تھیں۔ اس لئے سامان اور بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ ویسے بھی کراچی کا یہ سٹیشن چونکہ میرے لیئے اجنبی تھا اس لئے قلی کی خدمات حاصل کیں۔ گاڑی چلنے کا وقت صبح پانچ بجے تھا اور گرد و نواح کی مساجد سے فجر کی اذانیں سنائی دے رہی تھیں۔ میرے کوپے میں میرے علاوہ پانچ مزید مسافروں کی’’ برتھ‘‘ بھی قرار پائی تھی۔ دو برتھوں کے حقدارسرائیکی زبان بولنے والی ایک بوڑھی خاتون اور انکا ایک باریش جوان بیٹا تھا۔ یہ بوڑھی خاتون بار بار اپنے بیٹے سے پوچھتی تھیں کہ ’’ ٹایم کیا ہوا ہے اور ٹرین کب چلے گی‘‘۔ ، جبکہ دوسری دو برتھوں پر بھارت سے کراچی آ ئی ہوئی ماں بیٹی تھیں جو لاہور واپس جا رہی تھیں اور انہوں نے لاہور سے دہلی کے لئے فلائیٹ لینی تھی۔ چھٹی اور آ خری برتھ ابھی خا لی تھی۔

میں نے اپنی روم میٹ بھارتی خواتین کے احترام اور بوڑھی خاتون کے اعزاز میں اپنے لئے ’’ٹاپ‘‘ برتھ کا انتخاب کیا اور ’’ اوپر چڑھ‘‘ گیا۔ اوپر کی برتھ پر جانے کے لئے کسی لوہے کی سیڑھی کا انتظام نہیں تھا اس لئے درمیانی برتھ پر پاؤں رکھ کر اوپر جانا پڑتا تھا۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ مجھے ’’ حاجات‘‘ کی تکمیل کے لئے ’’ واش روم‘‘ جانا پڑیگا تو میری روم میٹ خواتین کو میرے برتھ سے بار بار نیچے اترنے اور دوبارہ اوپرچڑھنے سے دقت ہو گی۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک آ واز سنائی دی: ’’ تکیہ کمبل، تکیہ کمبل‘‘ ۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آ ئی کہ یہ کسی طرح کی آ واز ہے، شائید کسی مسافر کا تکیہ اور کمبل گم ہو گیا تھا، لیکن جلد ہی اس شخص نے ہمارے کوپے کے دروازے سے اپنی گردن اندر گھسائی اور زور سے بولا، ’’ تکیہ کمبل‘‘۔

میں نے جھک کر دیکھا تو مجھے اس آ دمی کے ہاتھ میں تکیے اور کھیس نظر آئے۔ تب مجھے سمجھ آ ئی کہ یہ لوگوں کو آ رام فراہم کرنے کی غرض سے یہ اشیاء کرائے پر دے رہا تھا۔ میرے پاس گرم چادر تو موجود تھی لیکن تکیے کی ضرورت تھی۔ میں چونکہ پچھلی رات اچھی طرح سو بھی نہیں سکا تھا اور بیدار بھی جلدی ہو گیا تھا اس لئے تکیہ کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ میں نے بہاول پور تک کے سفر لئے ایک عدد تکیہ ساٹھ روپے کے عوض کرائے پر لے لیا۔ لیکن جونہی اسے اس آ دمی کے ہاتھ سے اپنی برتھ پر منتقل کیا، مجھے اس میں سے کئی انواع و اقسام کی ’ ملکی و غیر ملکی ’ خوشبوئیں‘‘ آ ئیں جو یقیناًاس تکیے کے گذشتہ مالکان کی ہو گیں۔ ان خوشبوئیات میں عربی عطر سے لیکر فرانس کے تمام پرفیومز کی ملی جلی ’’ مہکیں‘‘ شامل تھیں۔

تھوڑی دیر بعد ایک اور مانوس آ واز سنائی دی، اس مرتبہ یہی شخص ’’ ناشتہ نا شتہ‘‘ پکار رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ پہلے واش روم کا چکر لگا لیا جائے پھر ناشتہ کرونگا۔ یہ سوچ کر روم میٹ خواتین سے معذرت کی اور نیچے آ کر واش روم تلاش کیا۔ لیکن ابھی میں کوپے سے باہر ہی نکلا تھا کہ واش روم کی مہکار نے اپنے ’’ ہونے کا پتہ‘‘ بتا دیا۔ طوعاََ کرہاََ واش روم تک پہنچا لیکن اس کی اندر سے حالت دیکھ کر اپنی حالت غیر ہو گئی۔ واش روم میں پانی دستیاب نہیں تھا اور فرش ہر طرح کی غلاظت سے اٹا ہوا تھا۔ میں ہاتھ دھونے کی بجائے ہاتھ ملتا ہوا وہاں سے واپس آ یا اور سوچا کہ ’’ ریسٹوڑنٹ‘‘ والے ڈبے میں جاتا ہوں۔ چلتی ٹرین میں جان ہتھیلی پر رکھ کر پانچ چھ ڈبوں کے اندر سے گذر کر جب ریسٹورنٹ ڈبے میں پہنچا تو یہ ڈبہ سگریٹ کے دھویں سے بھرا ہواتھا۔ ہر میز پر لوگ بیٹھے ناشتہ، کھانا اور سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں ذرا آ گے بڑھا تو دیواروں پر ’’ تمباکو نوشی منع ہے‘‘ کے کتبے سجے دیکھے۔

ایک ویٹر سے مینجر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بڑی بڑی مونچھوں والے، سیاہ عوامی سوٹ میں ملبوس اس شخص کی طرف اشارہ کیا جو اپنے سامنے ایک رجسٹر اور دائیں ہاتھ میں پنسل تھامے بیٹھا تھا۔ میں جا کر اس شخص کے بائیں ہاتھ بیٹھ گیا، میرے بیٹھنے پر اس نے اپنا بائیاں ہاتھ میز کے نیچے سے باہر نکالا، جس میں اس نے سگریٹ تھاما ہؤا تھا۔ میری معنی خیزمسکراہٹ کا سبب جاننے کے لئے جب اس نے استفسار کیا تو میں نے اس کی توجہ ان کتبوں کی طرف مبذول کرائی جن پر تمباکو نوشی کی مما نعت کی گئی تھی۔ اس نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنا سگریٹ توبجھا دیا لیکن مسافروں کو منع کرنے سے معذرت بھی کر لی۔

میں نے ناشتے کا آ رڈر دیا، جو آ دھ گھنٹے کے انتظار کے بعد جب میرے سامنے آیا تو ایک جلا ہوا فرائی انڈا، دو جلے ہوئے سلائس، جو گلابی رنگ کے ٹائلٹ پیپر میں لپٹے ہوئے تھے۔ میں نے ناشتہ واپس کرنا چاہا تو مینجر صا حب، جو میرے برابر ہی بیٹھے ہوئے تھے، نے ناگوار سے لہجے میں کہا کہ باؤ جی، آ پ ناشتہ کریں یا نہیں لیکن آ پکو ڈیڑھ سو روپیہ ادا
کرنا پڑیگا، کیونکہ ناشتہ آ پکے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اور ہم کسی فائیو سٹار ہوٹل میں نہیں ، ٹرین میں ہیں! می اسکی مونچھوں کے تاؤ اور لہجے کے الاؤ کو دیکھ کر اس باؤ نے ادائیگی میں ہی عافیت سمجھی ۔ میں چار کپ چائے اور بسکٹ کا ناشتہ کر کے اپنے کوپے میں واپس آ گیا۔

وہاں پہنچا تو میری روم میٹ بھارتی خواتین گھر سے لایا ہوا ناشتہ تناول فرما رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے ناشتے میں شامل ہونے کی دعوت دی، جو میں نے اس شرط پر قبول کر لی کہ چائے میری طرف سے ہوگی۔ اس طرح گھر کے پراٹھوں، شامی کباب اوراچار نے بچپن کے سفر کی یاد تازہ کر دی۔ بہاول پور تک کا باقی سفر ان خواتین کیساتھ باتیں کرتے ہوئے گذرا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار کراچی میں مقیم ہیں اور یہ خاتون تیرہ سال بعد انہیں ملنے آ ئی تھیں اور انہوں نے عید قربان گائے کی قربانی کر کے منائی تھی۔ حیدر آ باد دکن کی اس فیملی نے بتایا کہ وہاں اگرچہ مسلمان آ زادی کیساتھ روزمرہ کے معمولات سر انجام دیتے ہیں لیکن ا نہیں ہر وقت ہندوؤں سے ایک خوف سا لا حق رہتا ہے کہ کب کسی معمولی واقعے کے نتیجے میں شہر میں ہنگامے شروع نہ ہو جائیں۔ یہ ٹرین اپنے وقت مقررہ سے پانچ گھنٹے تاخیر کیساتھ بہاول پور پہنچی جہاں میجر طاہر مجید اپنے عملے کیساتھ میرے منتظر تھے۔ انہیں دیکھ کر سفر کی تھکاوٹ دور ہو گئی اور میرا ٹرین میں سفر کا دیرینہ خواب بھی پورا ہو چکا تھا۔