اسلامی جمہوری پاکستان کی تلاش

  • ہفتہ 13 / دسمبر / 2014
  • 4435

1973 کے آئین نے مہر ثبت کر دی کہ پاکستان کا نام  اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن 47ء سے لے کر 2014 تک ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس ملک میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہو گا۔ قیام پاکستان سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں۔ جب اقبالؒ نے پاکستان کا تصور پیش کیا تو اس میں کسی جگہ نہیں لکھا تھا کہ یہ سندھی، بلوچی، پٹھان، پنجابی، کشمیری کیے لیے ہے۔ اقبال ؒ نے یہ بھی نہیں کہا تھا کہ میرا تصور کسی سنی ، شیعہ، وہابی، دیوبندی یا کسی بھی اور مخصوص فرقے کے لئے ہے۔

بلکہ انہوں نے یہ تصور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے دیا تھا۔کیوں کہ مسلمان برصغیر پاک و ہند میں اچھوتوں جیسی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اسی لیے دو قومی نظریہ سامنے آیا۔ جو لوگ دو قومی نظریے کو نہیں مانتے وہ صرف مودی سرکار کے اقدامات یا پھر ماضی قریب کی تاریخ میں گجرات کا حشر دیکھ لیں۔ اور ابھی کچھ دن پہلے ہی تو بابری مسجد کی شہادت کا دن بھی تھا۔

اقبال ؒ کے تصور کو قائد ؒ نے عملی جامہ پہنایا ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ پاکستان اس لئے بنایا گیا تا کہ مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس میں اقلیتوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جو اکثریت کو ہوں گے۔ لیکن 1947ء سے پہلے اور بعد کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو گیا۔ 47ء سے پہلے پاکستان کے قیام کی جہدو جہد میں صرف مسلمان شامل تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد آزاد فضاء میں یہی مسلمان سنی، شیعہ، بریلوی، وہابی، دیوبندی وغیرہ بن گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے ساتھ بھی آج وہی سلوک برتا جا رہا ہے جو کسی دور میں برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا۔جو لوگ قیام پاکستان سے پہلے ایک قیادت میں اکھٹے تھے انہوں نے قیام پاکستان کے بعد اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی۔ اور بھانت بھانت کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

آئین میں اسے مسلمان کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ایسا شخص جو اللہ کی وحدانیت پر مکمل یقین رکھتا ہو۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم پر بطور آخری نبی مکمل ایمان رکھتا ہو۔لیکن آج اس تعریف پر پورا اترنے کے باوجود بھی کفر کے فتوے عام ہیں۔ جن زبانوں پر قیام پاکستان سے پہلے یک زباں ہو کر " پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ" کے نعرے بلند تھے۔ آج وہ گولی کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ کہاں گیا وہ پاکستان جس کی بنیادی ہی اسلامی نظریہ تھا؟ کہاں گیا وہ پاکستان جو لا الہ الا للہ کی عملی تفسیر تھا؟ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کہیں دور رہ گیا ہے جب کہ شخصیات ، گروہ، فرقے مضبوط ہو گئے ہیں۔ آج کوئی خود کو سنی کہلوانے پہ فخر محسوس کرتا ہے تو کوئی شیعہ۔ کوئی خود کو بریلوی کہلواتا ہے تو کوئی وہابی کہے جانے پہ سینہ پھلاتا ہے۔ لیکن فرقوں میں بٹی قوم نہ جانے کیوں صرف مسلمان کہلوانا پسند نہیں کرتی۔ یعنی ہم اسلامی پاکستان کی روح سے کوسوں دور چلے گئے ہیں۔ہمیں نظام اسلامی چاہیے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں لبرل ازم، روشن خیالی، اعتدال پسندی اور شدت پسندی وغیرہ کو ملا کر ہم نے ایک چوں چوں کا مربہ بنا رکھا ہے۔ ہم نہ اپنے آباء کی تقلید کر پائے۔ نہ مغرب کی مکمل پیروی ۔ بس ایک کنفیوز سی قوم بن کر رہ گئے۔

اسلامی پاکستان کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں تو ہم ایک عرصے سے کوشاں ہیں۔ خدا کرے کہ ہم پاکستان کو اسلامی ملک بنا سکیں۔ اب اگر جمہوریہ پاکستان کا ذکر کریں تو اس سلسلے میں بھی حالات حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ جمہوریت ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں تمام شہری نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔لیکن پاکستان میں جمہوریت کو صرف چند خاندانوں کی باندی سمجھ لیا گیا ہے۔ اور عام شہری کو اس سے دور رکھا گیا ہے۔ جو نظام اکثریت کی رائے سے فیصلے کرنے لیے وجود میں آیا تھا اسی نظام کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ پاکستان اس نظام کی ابتر شکل کی بہترین مثال ہے۔

جمہوریت کی خوبی ہے کہ لوگ آزادی سے اپنے نمائندے چن سکتے ہیں جو ان کے لیے قانون سازی کریں۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت حقیقی معنوں میں کبھی لوگوں کی رائے سے نہیں آئی۔58ء تک کے عرصے کو کسی قدر جمہوری دور کہا جا سکتا ہے وہ بھی جمہوریت کی ابتدائی شکل ۔ لیکن اس کے بعد کی جمہوریت کا بستر گول کردیا گیا۔ ان پیدا کردہ حالات میں مادر ملت ایک فیلڈ مارشل کے ہاتھوں شکست کھا جاتی ہیں(یا جان بوجھ کر شکست سے دوچار کردی جاتی ہیں) ۔یہ ناقص جمہوریت کا پہلا عملی مظاہرہ تھاجو 65ء میں شروع ہوا۔ فیصلے جمہوری طریقے سے کرنے کے بجائے عالمی طاقتوں کی ایما پر ہوتے رہے۔70ء کے عام انتخابات کو پاکستان کے شفاف ترین انتخابات اور جمہوریت کا سنگ میل مانا جاتا ہے لیکن صد افسوس کہ جمہوری روایات کے برعکس اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہ سونپا گیا جس سے ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔

سب سے شفاف اور جمہوری انتخابات بھی ملک میں جمہوریت نہ لا سکے۔پھر جب جمہوریت کے پروان چڑھنے کی امید بندھی تو منتخب کو پھانسی دے دی گئی۔ اس کے بعد جمہوریت ایک نعرہ بن گیا لیکن عملی طور پر جمہوریت نہ پنپ سکی۔ اقتدار کی میوزیکل چیئر جاری رہی۔ عالمی طاقتیں اپنے ایجنڈے کے مطابق لفظ جمہوریت کو پاکستان میں استعمال کرتی رہیں۔ جب ضرورت ہوئی جمہوریت کانعرہ لگا کر اپنی کٹھ پتلیاں اتار دی گئیں۔ اور جب دل چاہا باوردی محافظ جمہوریت کے نگہبان بنا دیئے گئے۔ مطلب پورا ہوا تو غیر جمہوری معاہدہ کروا کے سیاستدانوں کو پھر پاکستانی سیاست میں اتار دیا گیا۔ ایٹمی طاقت حاصل کر لی لیکن جمہوریت کا مفہوم عالمی طاقتوں سے سیکھتے رہے۔ کسی لیڈر نے جمہوری راہنما بننا چاہا تو گولی مقدر ٹھہری۔ لوگوں کے سڑکوں پر احتجاج کے باوجود ارباب اختیار ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر گولیوں کا شکار ہوتے ہیں تو اسے ردعمل کا نام دیا جاتا ہے۔ غریب روٹی چرائے تو مقدمہ، امیر خون بہائے تو سیاسی رنگ۔ کیا یہ جمہوریہ پاکستان ہے یا خاندانوں کا پاکستان ہے؟کیونکہ جمہوری پاکستان ہوتا تو عوام کا ہوتا۔

وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہاں ہے جس کی بنیادیں نظریہ اسلام پر رکھی گئی تھیں۔ اور جس کی عمارت جمہوری روایات پر کھڑی کرنے کا عہد کیا گیا تھا؟کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کی بنیادوں میں ظلم سہتے مسلمانوں کا لہو ہے؟ کیا یہ وہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی آزادی کی خاطر بہنوں نے اپنی عزتوں کی قربانی دی ؟ اگر یہ وہ پاکستان نہیں تو ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ڈھونڈنا ہو گا۔ ہمیں اس پاکستان کو ڈھونڈنا ہو گا جو نہ صر ف اسلامی اقدار کا امین ہے بلکہ جمہوریت کی درسگاہ بھی ہے۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں ، اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت۔ ہمیں باہمی یگانگت سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہمارے اجداد نے قربانیاں بلا وجہ نہیں دیں۔ اور ہم ان کی قربانیوں کے امین ہیں۔