او ایس پیز کا مقدمہ
- ہفتہ 13 / دسمبر / 2014
- 4846
قوم ایک بہت پرانا عمرانیاتی تصور ہے۔ مذہبی صحیفوں میں یعقوب اور موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ متعدد دوسرے پیغمبروں کی قوموں کا ذکر آیا ہے ، لیکن اُن معنوں میں پاکستانی معاشرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی قوم نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے غیر منقسم ہندوستان میں رسولِ عربی کی معنوی قوم بننے اور اس کی نسبت سے قومیت کو رواج دے کر اسے پروان چڑھانے اور بام عروج پر پہنچانے کا خواب دیکھا اور اِس غرض سے قراردِ لاہور کی صورت میں ایک عرضی پیش کی جو منظور ہوئی ۔
یہ قومی عہد نامہ تھا لیکن اسے رقم کرنے کے بعد قوم اپنے عہد سے پھر گئی اور اس نے امریکہ کی فکری صراط پر چلنا شروع کر دیا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متبادل اسلام رائج ہو گیا جس کا نام تو اسلام ہے لیکن روح غیر اسلامی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے سرسٹھ برس میں کبھی اسوہ ء محمدی کو عملاً رائج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ، تاہم قرآنی اور فقہی اصطلاحوں کی جگالی زور شور سے جاری ہے جسے اسلام سمجھ کر سماجی طور پر قبول کر لیا گیا ہے ۔
پاکستانی معاشرت کا حال یہ ہے کہ یہ اُمّت چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر گروہ کا اپنا پاکستان ہے ۔ فوج کا اپنا پاکستان ہے ، طالبان کا اپنا پاکستان ہے ، علماء کے فقہی گروہوں کے اپنے اپنے فرقہ بند پاکستان ہیں۔ سرمایہ کاروں اور دولت مندوں کی اپنی سلطنت ہے اور دانشوروں اور شاعروں کا اپنا پاکستان ۔ اِن سارے پاکستانوں کی سرحدوں سے باہر ایک پاکستانی ڈایاسپورا ہے ، جسے سمندر پار پاکستان کہا جانے لگا ہے ۔ یہ پاکستان دنیا بھر میں پھیلا ہؤا ہے اور اس کا ایک حلقہ ناروے ہے ، جہاں میں ہوں ۔
میرے اس نارویجین پاکستان کے پاکستانی اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں ۔ ان کی حب الوطنی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔ لیکن پاکستان میں اُن سے وہی جو سلوک کیا جاتا ہے ، جو دشمنوں سے کیا جاتا ہے ۔ میں یقیناً رشتہ داروں کی بات نہیں کر رہا ہوں مگر یہ کوئی حتمی رائے بھی نہیں ہے کیونکہ رشتہ دار بھی پانچوں انگلیوں کی طرح ہوتے ہیں جو کبھی برابر نہیں ہوتیں ۔ یہ سرکاری اِدارے ہیں جو او ایس پیز (اوورسیز پاکستانی) سے معاندانہ سلوک روا رکھتے ہیں ۔ یہ پی آئی اے ہو ، کسٹم ہو ، نادرا ہو ، پولیس ہو ، مقامی عدالتیں ہوں ان سب کی شکایات کے ان گنت دفاتر لوگوں کے سینوں اور یاداشتوں میں محفوظ ہیں ۔ ان میں بد ترین امتیازی سلوک کی مثالیں بھی ہیں اور جمع پونجی سے محرومی کی بھی ۔
پاکستان میں خیر سے سمندر پاکستانیوں کی ایک وزارت موجود ہے لیکن یہ وزارت بھی متعدد دوسری وزارتوں کی طرح ایڈ ہاک یا عبوری قسم کا شعبہ یا محکمہ ہے جو صرف خانہ پُری کرتا ہے ۔ اس وزارت کے پاس سمندر پار پاکستانیوں کا کوئی باقاعدہ رجسٹر موجود نہیں ہے ، حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ نادرا کے تعاون سے او ایس پیز کا ڈیٹا بیس الگ ہوتا جس کا انتظام براہِ راست سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے پاس ہوتا جو ان کے اوریجن کارڈ او ایس پی کارڈ کے طور پر جاری کرتا ۔
کوارڈی نیشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ہر سفارت خانے میں او ایس پی ڈیسک ہونا چاہیے جو سمندر پار پاکستانیون کے امور کی نگرانی کرے اور پاکستان میں اُن کی املاک ، سرمایہ کاری اور دیگر مالی امور کی نگرانی کرے اور سب کو حسب ضرورت مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کرے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔ وزارت کو پاکستانیوں سے نہیں زرِ مبادلہ سے دل چسپی ہے جو او ایس پیز فراہم کرتے ہیں ۔ اس کے عوض اُن کو کسی قسم کی مراعات یا سہولیات دینے کا کبھی کوئی اعلان نہیں ہؤا اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام ہی بنایا گیا ہے ۔
یہ وہ صورتِ حال ہے جو پاکستانیوں کے اپنے آبائی وطن سے رشتے کو کمزور کرتی ہے اور وہ پاکستانی نسلیں جو پاکستان سے باہر ان ممالک میں پل رہی ہیں وہ پاکستان سے جذباتی اور فکری طور پر دور ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ یہ صورتِ حال پاکستانی اداروں کی پیدا کردہ ہے کیونکہ وہ درست طور پر کام نہیں کر رہے ہیں۔ اور وہ اِس لئے کہ وہاں اُس پاکستانی کو تعمیر نہیں کیا جا سکا جو پاکستانیت کی جیتی جاگتی مثال ہو ۔
آج کے پاکستانیوں کو مراعات یافتہ حکمران طبقے نے اپنی کرپشن اور بد عنوانی کی چکی میں پیس کر غیر یقینی کے زندان میں لا کر بند کر دیا ہے ۔ او ایس پیز دیکھتے ہیں کہ وہ تو زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور حکمران اور سیاستدان ، پاکستانی سرمائے کو بیرونی ممالک میں لے جا کر چھپا دیتے ہیں یا وہاں کاروباری ادارے قائم کر کے پاکستان کے بجائے غیر پاکستانی معاشرتوں کی معیشت سنوارنے میں لگے ہیں ، تو پاکستان کا یہ اقتصادی منظر نامہ انہیں غیر پاکستانی سا ، بلکہ پاکستان دشمن سا لگنے لگتا ہے مگر کیوں ؟
شاید اس کی وجہ حسب ذیل ہے :
پاکستانیت ایک منفرد فلسفہ تھا ، ایک سبق تھا ، ایک روحانی طرز، زیست تھا مگر بھلایا جا چکا ہے۔ بنگلہ دیش کا جنم اس طرز، زیست کی کمر میں ایک چھرا تھا جس نے قراردادِ لاہور کی دستاویز دو ٹکڑے کردی تھی ۔ قوم کو انیس سو اکہتر کے اسی مہینے میں سقوطِ ڈھاکہ کا جو دھچکا لگا تھا اس کا اب تک کوئی مداوا نہیں ہو سکا ۔ اور سمندر پاکستانی اور خاص طور پر ان کی نئی نسل اس تذبذب میں ہے کہ اُن کی اصل شناخت کیا ہے :
دل کے ٹُکڑوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں