یہ آگ کیسے بجھے گی
- اتوار 14 / دسمبر / 2014
- 4773
چند برس میں وہ نسل ختم ہو جائے گی جو ہمیں ان دنوں کے قصے سنایا کرتی تھی جب پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اور ہندو مسلم بھائی بھائی بن کر رہتے تھے۔ ان کے مندر اور مسجدیں الگ الگ تھیں۔ بعض صورتوں میں آبادیاں بھی پرے پرے تھیں مگر ان کے دل ملے ہوئے تھے۔ وہ اپنے اپنے خدا کو پوجتے لیکن اس سے صرف محبت کرنے اور انسانیت عام کرنے کا سبق حاصل کرتے تھے۔ تب مسجد کا مولوی ہندو کی ریشہ دوانیوں، منافقت، کریہہ خصلت اور پاکستان بلکہ اسلام دشمنی کے قصے ازبر نہیں کرواتا تھا اور سلیبس کی کتابوں میں بھی ابھی کسی محمود غزنوی نے تلوار اٹھا کر اور سومنات گرا کر اسلام کو زندہ جاوید کرنے کا عمل شروع نہیں کیا تھا۔
یہ بزرگ ان دنوں کے قصے سنانے والوں کی آخری نسل ہے جن دنوں میں ہندو فارسی عربی اور اردو کے ماہر ہوتے تھے اور مسلمان ہندی لکھنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب زبانوں کو عقیدہ عطا کرنے کا عمل شروع نہیں ہوا تھا۔
شاید یہ کہنا مکمل طور سے غلط ہو گا کہ اس قسم کے جذبات اور لوگ موجود نہیں تھے۔ اگرچہ یہ ایک غیر متعلقہ بحث ہے لیکن اس سے مفر نہیں ہے کہ ہندوستان کی جدید تاریخ میں کئی مسلمان اور ہندو رہنماؤں نے ایسے نعرے ایجاد کئے اور مہمات کا آغاز کیا جن کا مقصد ایک دھرتی پر بسنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں چوکنا رہنے کی تلقین کرنا تھا۔ ہندووتا یا پان اسلام ازم کے یہ نعرے یا تحریکیں تھوڑے تھوڑے عرصے بعد خود ہی دم توڑنے لگی تھیں۔ اس قسم کے جذبات، خیالات اور نعروں کو سماج نے قبول کرنا شروع نہیں کیا تھا۔ لوگ ایسے نعرے سنتے ضرور تھے مگر ان پر کان نہیں دھرتے تھے۔ یہ تحریکیں ابھرتیں اور ازخود دم توڑ جاتی تھیں۔ کہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کی زندگی ان نعروں کا پرتو نہیں تھی۔ انہیں اس سماجی انتظام کو اتھل پتھل کرنے میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تھی جو صدیوں سے بھائی بندی، اخلاص اور تحمل و برداشت کے سنہری اصولوں پر استوار تھا۔
گزشتہ صدی کے آغاز میں برصغیر پر قابض انگریز سرکار کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوا۔ یہ جدوجہد مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر شروع کی۔ اس کا بنیادی مقصد بیرونی نوآبادیاتی طاقت سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ اس عمل میں مسلمانوں نے دریافت کیا کہ ان کے بعض گروہی سیاسی اور معاشی مفادات کو نظرانداز کیا جارہاہے۔ اس احساس نے پہلے کانگریس میں احتجاج کو جنم دیا پھر مسلم لیگ کی بنیاد پڑی اور بالآخر 1940ء کی قرارداد منظور ہوئی۔
اس سیاسی تحریک نے شدت اختیار کی تو دوسری جنگ عظیم سے شکستہ برطانوی سرکار ہندوستان میں بدستور قدم جمائے رکھنے کے قابل نہیں تھی۔ ویسٹ منسٹر کے سیاستدانوں کو ہندستان چھوڑنے کی جلدی تھی۔ اس دوران مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنما اس بات پر آپس میں الجھے ہوئے تھے کہ پوسٹ کالونیل ہندوستان کیسا ہو گا۔ محمد علی جناح کا موقف تھا کہ ایک ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن کے طور پر مسلمان صوبوں اور ریاستوں کو وسیع اختیار نہ ملنے کی صورت میں، مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے علیحدہ ملک قائم کرنا بہتر سیاسی حل ہو گا۔ کانگرسی رہنماؤں کی ہٹ دھرمی اور مسلم لیگ میں موقع پرست اور ہوس اقتدار میں مبتلا لوگوں کی شمولیت کی وجہ سے ہندو اور مسلمان سیاستدانوں کے راستے علیحدہ ہوتے چلے گئے۔ انگریز کو جانے کی جلدی تھی اور وہ کسی بھی انتظام کے ساتھ ہندوستان کی انتظامی ذمہ داری سے نجات حاصل کر کے برطانیہ کی ترقی پر توجہ مبذول کرنا چاہتے تھے۔ سیاسی عمل ابھی پختہ نہیں ہوا تھا۔ سیاسی نعروں نے ابھی سنجیدہ اور قابل عمل حل کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ ان خطوں میں آباد لوگوں کو ابھی اپنی نئی شناخت کو سمجھنے کا وقت نہیں ملا تھا کہ برصغیر کو تقسیم کرنے اور سرحدوں کو ہوچ پوچ متعین کرنے کا عمل مکمل کر دیا گیا۔
ان مسلط کردہ فیصلوں سے وہ سماجی ڈھانچہ جو صدیوں کے میل جول سے وجود میں آیا تھا یکایک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ محبت نفرت میں بدلی تو ہاتھ تلوار کے دستے اور بندوق کے ٹریگر تک پہنچ گئے۔ تقسیم کے وقت بنگال میں شروع ہونے والی معمولی سی شورش نے یہ صورت اختیار کی کہ اس آگ میں لاکھوں انسان مارے گئے، بستیاں اجڑ گئیں، عورتیں بے حرمت ہوئیں اور نفرتوں نے اپنے ڈیرے ڈال دیئے۔ آج ہم انہی نفرتوں کی فصل کاشت کررہے ہیں۔ البتہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نفرت کی سرحد بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کسی مذہب یا عقیدے تک محدود ہوتا ہے۔ مگر یہ ان اشاریوں کو اپنے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جب انسان عقل کے دروازے اور علم کی کتابیں بند کر کے نفرت کے سہارے ان ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے لگتے ہیں تو ان میں اور وحشی درندوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ نفرت ایک ایسا احساس اور کیفیت ہے کہ اسے پھیلنے اور زور پکڑنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس میں مبتلا ہونا آسان ہے مگر اس سے نجات حاصل کرنا ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت کے جس رویہ کو ہندو مسلمان اختلاف کو ابھارنے کیلئے پیدا کیا گیا تھا۔ تقسیم کے بعد اس قوت نے دونوں ملکوں میں اپنے اپنے طور پر تخریبی عمل کا آغاز کیا۔
پاکستان کی حد تک ہم جانتے ہیں کہ ہندو برتری سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد میں اہل پاکستان پر دین اور قومیت کے نام پر قوت حاصل کرنے والوں نے قبضہ کر لیا۔ استحصال کا آغاز ہوا، جبر سے نجات کا راستہ زنداں کا سفر ثابت ہونے لگا۔ پاکستان ٹوٹا، مسلمانوں نے اپنے ہی بھائیوں کو قتل کیا اور اسے جہاد قرار دیا۔ بنگالیوں کی نسل تبدیل کرنے کے لئے بدنماتحریکوں کو خوشنما اسلامی نام عطاکئے گئے اور انسانوں سے امن و شانتی کی رتیں چھین لی گئیں۔
میں نے جس جانے والی نسل کا ذکر کیا ہے وہ ہم سب کے گھروں میں کسی نہ کسی صورت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ایک طویل تھکا دینے والے سفر سے گزرنے والے یہ لوگ ان موسموں کا حال بتاتے ہیں جب انسان نے عقیدہ اور اس سے منسلک اطوار کی بنیاد پر انسانیت کو تج نہیں کیا تھا۔ یہ نسل امید کی کرن دکھاتی تھی اور آگے بڑھنے کے لئے روشنی بہم پہنچاتی تھی۔
اب کہ ہم اس نسل سے محروم ہو رہے ہیں۔
اب کہ ہمیں ساتھ رہنے اور مل کر خوش ہونے کے خوابناک قصے سنانے والے بھی ہم سے رخصت ہوا چاہتے ہیں۔
اب کہ نفرت کی آگ میں ہم تباہی کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔
اب کہ ہمارے وجود کا انحصار نفرت کے اس حصار کو توڑنے پر ہے اور
اب کہ ہم مار دھاڑ اور جہاد و قتال کے سارے ہتھکنڈے آزما چکے ہیں۔
کیا اب وقت آ گیا ہے کہ ذرا دم لے لیں۔
دم لے لیں کہ مارتے مارتے اور مرتے مرتے ہماری سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ انسان تڑپ رہا ہے۔ پیاس گہری ہو چکی اور آگے بڑھنے کی ہمت جواب دیا چاہتی ہے۔
دم لے لیں کہ شاید ہوش آئے اور ہم ان خوبیوں پر نظر ڈال سکیں جو انسان کوامن اور احترام آدمیت عطا کرتی ہیں۔
دم لے لیں کہ زادِ سفر اکٹھا ہو تاکہ سفر رائیگاں کو تج کے ہم کسی بامقصد منزل کا تعین کر سکیں۔
یہ شاید خوابناک باتیں ہیں۔ آپ انہیں جذباتی فقرے بازی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن نفرت کے جس بھنور میں ہم پھنسے ہیں اس کی وحشت کم کرنے کیلئے کبھی کبھی خواب دیکھ لینا چاہئے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے بھی یہ خواب دیکھا اور آنے والی نسلوں کو بیداری کی بنیاد دے گیا۔ اس خواب کا نتیجہ تھا کہ جنوبی افریقہ کے ایک گھٹا ٹوپ عقوبت خانے سے نیلسن منڈیلا کے نام سے ایک سورج نے جنم لیا جس نے ہمارے عہد کی تاریکیوں کو پاش پاش کردیا۔
آیئے اپنے ہلکے پھلکے خوابوں کے ذریعے اس تابناک روشنی کی چند کرنوں کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔
آئیے امن کی بات کریں۔
مل کرآگے بڑھنے کی کوشش کریں۔
یا یہ سوچیں کہ کیا اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ میسر ہے۔
تو ذرا دم لے لیں۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں جوش، جذبہ اور احساس کی شدت تو بہت ہے لیکن عقل، فہم یا معاملات کو سمیٹنے اور راہ نکالنے کا طرز عمل ناپید ہے۔ اس لئے پاکستان یا بھارت، کہیں بھی باہمی تعلقات کے حوالے سے میرٹ پر بات نہیں ہو سکتی بلکہ اس رشتہ میں بہرطور جذباتیت در آتی ہے۔ یہ رویہ گمراہ بھی کرتا ہے اور راہ بھی کھوٹی کرتا ہے لیکن اس منزل کا پتہ نہیں دیتا جو امن اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کے لئے ضروری ہے۔
گزشتہ دنوں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے سلسلہ میں بھارت کا ایک وفد پاکستان کے دورہ پر آیا تھا۔ اس وفد میں ایک 24سال کی لڑکی نکیتا سنگلا بھی شامل تھی۔ واپسی پر اس نے جذبات سے بھرا ایک مضمون لکھا۔ اس مضمون میں پاکستانی میزبانی کی جی بھر کے تعریف کی گئی ہے اور اس مزاج پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت میں ہر شخص پاکستان کے بارے میں بے چینی اور تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ آنے سے پہلے لوگ اس سے پوچھتے رہے کہ تم دیوانی تو نہیں۔ ایک ایسے ملک میں جا رہی ہو جہاں نہ زندگی محفوظ ہے اور نہ جس ملک کی شہرت اچھی ہے۔ تمہارے پاسپورٹ پر اگر پاکستان کا ویزا لگا ہوگا تو تمہیں امریکہ کا ویزا نہ ملے گا۔ جنگ ہو گئی تو کوئی تمہیں وہاں سے اس ملک میں واپس نہ لا سکے گا۔ مگر ضد پر آئی ہوئی ایک جوان لڑکی بھلا کس کی سنتی ہے۔ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر اس ملک میں ایسا کیا ہے جس کی بنا پر ہر شخص اسے پاکستان جانے سے روک رہا ہے۔
اس کے بعد کا سارا مضمون پاکستانیوں اور ان کی میزبانی کی تعریفوں سے بھرا ہے۔ مس سنگلا ایک ایسا ملک دریافت کرتی ہے جہاں بھارت سے آنے والوں کو ہار پہنائے جاتے ہیں اور ریڈ کارپٹ بچھا کر ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ جہاں قومی اسمبلی کا ممبر ایک لڑکی کے لئے اپنی نشست چھوڑ دیتا ہے اور جہاں کے لوگ.....وہ عام افراد ہوں یا وزیروں مشیروں جیسے خواص، بھارت سے آئی مہمان کی دعوت کرنے، سیر کروانے اور سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے بے چین نظر آتے ہیں۔ ہفتہ بھر کا یہ دورہ یوں پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ میزبانوں میں سے ایک بزرگ سے جب نکیتا اس خواہش کا اظہار کرتی ہے کہ مجھے لاہور کی کوئی شادی کی تقریب دیکھنے کا شوق ہے تو میزبان برجستہ اور پرتپاک لہجے میں جواب دیتا ہے: ’’بیٹا اس میں کیا مشکل ہے۔ ہمارے مذہب میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔ میں شادی کر لیتا ہوں تاکہ تم یہ تقریب دیکھ سکو‘‘۔
اس جواب میں نکیتا کو جوش میزبانی سے زیادہ اصلی اور سوندھے پنجابی حس مزاح کی چاشنی محسوس ہوتی ہے اور وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتی ہے۔ مضمون نگار کا مشورہ ہے کہ آیئے سیاست چھوڑیں، ٹیلی ویژن چینلز کی اسکرین سے باہر نکلیں اور اس ہمسایہ ملک کو دیکھیں جو ہم جیسا ہے جو محبت سے لبریز ہے۔ نکیتالکھتی ہے کہ ہمارے ملک علیحدہ ہو گئے لیکن ہمیں اپنی روح میں دیواریں کھڑی نہیں کرنی چاہئیں۔
گزشتہ چند ہفتوں میں یہ مضمون اخبارات میں شائع ہوا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کیا گیا۔ پاکستانیوں نے اسے اپنی امن پسندی کے لئے سرٹیفکیٹ بنا کر ایک دوسرے کو دکھایا۔ دیکھو پڑھو یہ بھارت کی ہندو لڑکی کیا کہتی ہے۔
لمحہ بھر کو ہم اس لڑکی کی بات مان لیتے ہیں لیکن اس میں اتنی تبدیلی کر لیتے ہیں کہ ہمسائے کے دالان میں جھانکنے سے پہلے اپنے ماحول پر نظر ڈالیں۔ دیکھیں کہ کیا ہم اس مبالغہ آمیز توصیف کے مستحق ہیں۔
گلی کی اس نکڑ پر موجود پنواڑی کی دکان یا باربر شاپ پر جمع لوگوں سے پوچھیں۔ پتہ چلے گا کہ بھارت نے کس طرح پاکستان کے ساتھ دشمنی کا رشتہ نبھایا ہے۔ اسکول کے طالب سے لے کر استاد سے دریافت کریں تو وہ آپ کو تاریخ کے ایسے اوراق دکھائیں گے جن میں سے سچ یوں نکال دیا گیا ہے جس طرح کوئی ان پڑھ بیوٹیشن اپنے میک اپ سے اصل صورت کو ناقابل برداشت بنا دے۔ ٹیلی ویژن اینکرز کی حشرسامانیوں کا تو ذکر ہی کیا، آپ دانشوروں کے ان کالموں پر ہی طائرانہ نظر ڈال لیں جو آپ کو ہمسایہ ملک کی ایسی کریہہ تصویر دکھاتے ہیں کہ دوستی کرنے کی بجائے تین حرف بھیجنے کو دل چاہے گا۔
اور یہ سب احساسات ہم سب کے دل میں جمع ہیں۔ اس تاریخ کو بھی ہم نے بدلا ہے اور اس اینکر کو زہر اگلنے کا حوصلہ بھی ہمیں نے دیا ہے۔ صحافی اور دانشور وہ بات لکھتا ہے جو ہم سننا چاہتے ہیں۔ قوم کا مزاج یک رخی پر مائل کر دیا گیا ہے۔ ترقی پسند دانشور اور مصنف پروفیسر مبارک حیدر اسی رویہ کو تہذیبی نرگسیت قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی تعریفیں سننے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اس میں اتنا اضافہ کرنے دیجئے کہ اگر نکیتا یا اس جیسی کوئی دوسری معصوم لکھنے والی یہ تعریف نہ کرے تو بھی ہم دل میلا نہیں کرتے۔ اپنے بارے میں دوسروں کے سچ کو ہم پروپیگنڈا ، نفرت اور منافقت قرار دے کر خود اپنی تعریف کرنے لگتے ہیں۔
اپنی ذات کی پجاری اس قوم کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بے بہرہ کر دیا گیا ہے۔
روز و شب اس موضوع پر ہر محفل اور ہر گھر میں گفتگو ہوتی ہے کہ ہمارے قومی سماجی بحران کی وجوہات کیا ہیں۔ہم اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ بہتر سے بہتر دلیل لاتے ہیں لیکن دل میں بنائے خودپرستی کے بت کو توڑنے کی ہمت جٹا نہیں پاتے۔ اسی لئے ہم ایٹم بم جیسی موت کو سمیٹ کر اسے قومی افتخار کا نام دیتے ہیں۔ اپنے سے پانچ گنا ملک کے خلاف جنگ کے لئے وہ سارے وسائل فراہم کر دیتے ہیں جو ہمارے بچوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے درکار ہیں۔ ہم تو لیڈر بھی اسی کو مانتے ہیں جو ہمیں یہ نہ بتائے کہ ہم تیزی سے تباہی کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں بلکہ یہ کہے کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن دشمنی ضرور پروان چڑھائیں گے۔
خواتین و حضرات میری یہ ساری باتیں ہو سکتا ہے کڑوی ہوں کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ ناقابل فہم جذباتیت کا پرتو ہوں کہ عمر کے اس حصے میں اس انسان کوکھوجتے کھوجتے تھک گیا ہوں جس کا ذکر میرے ماں باپ مجھ سے کیا کرتے تھے۔ اس محبت کو پانے میں ناکام ہوں جو سب کے لئے ہو۔ جو تخصیص نہ کرتی ہو۔ جو بھید بھاؤ نہ جانتی ہو۔ جس کا کوئی مذہب، رنگ اور نسل نہ ہو۔ جوسب کے لئے ہو اور جو نفرت کی بنیاد پر پروان نہ چڑھائی جائے۔
میں نے کہا میں تھک گیا ہوں۔ یہ ایک ذاتی اظہار یہ ہے۔ قومیں مقصد پانے کے لئے تھک نہیں سکتیں۔ وہ یا آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہیں یا تاریخ کے اواق میں گم ہو جاتی ہیں۔ اس لئے تھکنے اور مایوس ہونے کا آپشن موجود نہیں ہے۔ یا تو ہم مٹ جائیں گے یا آگے بڑھیں گے۔ ہمیں آگے بڑھنے کے لئے نفرت، دشمنی اور تعصب سے لڑنا ہو گا۔
یہ کام کئے بغیر ہم ان روشن راہوں کو تلاش نہیں کر سکتے جو ہم سے روٹھ گئی ہیں۔ کامیابی کا راستہ سرحدوں پر فوج جمع کرنے، گودا م میں بارود ذخیرہ کرنے اور ایٹم بموں کی تعداد اور میزائلوں کی رینج بڑھانے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ہمیں ان اقدار اور خوبیوں کو تلاش کرنا ہو گا جو ترقی، کامیابی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہیں۔
یہ ممکن ہے بھارت ہمارا دشمن ہو۔ یہ بھی امکان ہے کہ ہندو قوم پرستی کی بنیاد پر طاقت پکڑنے والا حکمران گروہ پاکستان کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو۔ لیکن ان برائیوں سے نمٹنے کے لئے انہی برائیوں اور خصلتوں کو اپنانا ضروری نہیں ہے۔ انتہاپسندی کبھی انتہاپسندی سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے صبر و تحمل اور اس سے بھی بڑھ کر دیانت کی ضرورت ہے۔ ہمیں بطور قوم خود کو کھوجنا ہو گا اور اس کی پرداخت کرنا ہو گی۔ اس وقت جس قومی بحران کا ہمیں سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم ان نعروں اور نفرتوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک وقتی ہیجانی کیفیت کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے لیکن انہیں ایک نعرہ اور پھر مقصد بنا کر اس خطے میں آباد لوگوں سے ان کی شناخت چھیننے کی باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی۔
اس نفرت انگیز مہم کو ختم کئے بغیر اور تاریخ سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ استوار کئے بغیر اور گمشدہ سچائی کو تلاش کئے بغیر ، ہم خطہ پاکستان میں آباد لوگوں کو باہم جوڑنے اور ایک قوم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ نفرتوں کی یہ مہم ہمیں ہزاروں نہیں لاکھوں لاشیں دے چکی ہے لیکن اس کے علمبردار اب بھی قتال عام کی نوید دیتے ہیں۔ یہ ہم سے ہمارے ہی بھائیوں کو چھین چکی ہے لیکن ہم تقسیم در تقسیم کے پیغام کو ازبر کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ سیاست اور عقیدہ کے ملغوبہ سے جو بھیانک اور ناقابل عمل اصول مرتب کئے گئے ہیں ان کو مان لینے ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم قتل کرنے والے کو ہیرو، لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی بات کرنے والے کو دانشور اور بنگلہ دیش کے قیام میں اپنی غلطیاں مان لینے والے کو فاتر العقل کہتے ہیں۔ہم اگر یہ چلن نہیں چھوڑیں گے تو راہ کھوٹی کریں گے۔
پاک بھارت تعلقات میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔ ان کے بہت سے حل بھی ہیں۔ اویس شیخ صاحب ان کے حوالے سے ضرور ہمیں آگاہ کریں گے۔ لیکن میری ناقص رائے میں ان دو ملکوں کے تعلق کوخراب کرنے میں دو ہی عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ ہیں نفرت اور اسے ختم کرنے کے لئے مزید نفرت..... اس نفرت کو ابھارنے اور ہتھیار بنا کر منزل طے کرنے والوں نے ابھی تک صرف اس ملک کو دولخت اور اس کے باشندوں کو پارہ پارہ کیا ہے۔ اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے متبادل یعنی رواداری اور انسانیت کو بھی ایک موقع دیا جائے۔
رب ذوالجلال آپ کا میرا اور وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔
(یہ مضمون 13 دسمبر کو اوسلو میں جنوبی ایشیا میں امن کے مسائل پر منعقد ہونے والے اجلاس میں پڑھا گیا۔ اس اجلاس کا اہتمام ویژن فورم اور پاکستان فیملی نیٹ ورک ناروے نے کیا تھا)