مسلمان ناگوار ہوا کا جھونکا کیوں

  • سوموار 15 / دسمبر / 2014
  • 4098

برطانیہ میں ایک نسلی مساوات کا شعبہ قائم ہے۔ پچھلے دنوں اس نسلی مساوات کمیشن کے چیئرمین نے تین نکات اٹھائے ہیں یعنی مسلمانوں سے تین سوال کئے ہیں۔ جیسا کہ امید تھی مسلمانوں نے اس پر سخت اعتراض اور لے دے کی ہے۔

کمیشن کے چیئرمین کا پہلا سوال یہ ہے کہ:

مسلمانوں کی قیادت کھل کر اور بے باکی سے انتہا پسندوں اور دہشت گردی کے خلاف بات کرے۔

مسلمان رہنماﺅں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عام مسلمانوں کو یہ باور کرائیں کہ اسلام کا صحیح نقطہ نظر یہی ہے کہ وہ عورتوں کو جبری شادی کے لئے مجبور نہیں کرتا کہ وہ ہزاروں میل دور بیٹھے کسی اجنبی شخص کو اپنا مجازی خدا مان لے۔

تیسرا نقطہ یہ ہے کہ مسلمان رہنما اور قیادت ان لوگوں کی کھل کر مذمت کرے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نوعمر مسلمان بچیوں کا ختنہ کرانا ان کا تہذیبی اور ثقافت حق ہے۔

نسلی مساوات کمیشن کے چیئرمین ہی نہیں سابق ہوم سیکرٹری ڈیو بلنکٹ نے بھی انہی ایشوز کو بنیاد بنا کر مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ہوم سیکرٹری نے برطانیہ کا شہری بننے کے لئے انگریزی زبان کا ٹیسٹ بھی متعارف کرایا تھا۔ اس کا بھی اصل ہدف برصغیر کے مسلمان ہی تھے۔ اسی طرح برطانوی شہری بننے پر نیا حلف وفاداری اٹھانے کا عمل بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس طرح مسلمان برطانیہ میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں یا کر دئیے گئے ہیں کہ وہ ” گھر کے اندر چھپے دشمن“ ہیں کہ انہیں بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے ، تو کیا اس سے یہ ثابت ہؤا کہ مسلمان اسلام کے علاوہ کسی ریاست ، ملک یا قانون کا وفادار نہیں ہے؟

ابھی حال ہی میں ممتاز امریکی کالم نگار تھامس ایل فرینڈمین نے دنیا سے ایک دلچسپ سوال کیا ہے۔ وہ پوچھتا ہے ” کیا بات ہے کہ جب ہندو سینکڑوں مسلمانوں کو ہلاک کرتے ہیں تو عرب ممالک اور عرب ذرائع ابلاغ جذبات سے عاری ایک سرخی لگا دیتے ہیں۔ لیکن جب اسرائیل ( ایک ایسی لڑائی جس میں مسلمان بھی یہودیوں کو ہلاک کرتے ہیں) اگر چند مسلمانوں کو ہلاک کر دیتا ہے تو سارا عالم مشتعل ہو جاتا ہے؟“۔ میرے حساب سے دنیا کی صورتحال اور بالخصوص مسلمانوں کی دہشت گردی کا سب سے زیادہ تعلق 11 ستمبر کے امریکہ پر حملوں کے بعد سے جوڑا جا رہا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دینا مغربی دنیا کا عمل نہیں بلکہ ردعمل ہے۔

ان مسلمانوں میں اعتدال پسند مسلمانوں کی کیا شرح ہے؟ یہ ایک بحث طلب سوال ہے لیکن برطانیہ میں بالخصوص اور یورپ میں بالعموم انتہا پسندوں کو میڈیا زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے پولیس کی طرف سے روک کر تلاشی اور پھر ان کی گرفتاریوں کے واقعات میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس بات کا گواہ ہوم آفس اور میٹرو پولیٹن پولیس کا ریکارڈ بھی ہے۔ کہنے والے ( یہ کہنے والا میں بھی ہو سکتا ہوں) یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت انتہا پسند مسلمانوں سے خطرہ مشرق وسطیٰ سے یورپ میں منتقل ہو گیا ہے۔ اس بات کی نشاندہی یو پی آئی (یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل) کے سابق چیف ایڈیٹر مارٹن واکر نے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے اجلاس میں کی۔ مارٹن واکر کے خیال میں اگر ترکی کو یورپین یونین میں شامل کر لیا جاتا ہے تو یورپ میں مسلمانوں کی تعداد تین فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گی جس کے سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے ڈرامائی اثرات ہونگے اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ لبرل اور ڈیمو کریٹک مسلمانوں کا ایجنڈا انتہا پسند مسلمانوں کے ایجنڈے سے قطعی مختلف ہے۔

دوسرا ایشو جبری شادیوں کا سنگین مسئلہ ہے۔ برطانیہ کا دفتر خارجہ اب تک اس ضمن میں لاکھوں پونڈز خرچ کر کے ڈیڑھ سو سے زائد لڑکیوں کی زندگیاں بچا چکا ہے لیکن ہنوز نتائج وہ برآمد نہیں ہو سکے جس کی امید کی جا رہی تھی۔ ایک نیا قانون جس کے ان دنوں خوب چرچے ہیں جس کے تحت 21 سال سے کم عمر برطانوی شہری لڑکیوں پر برطانیہ میں آباد ہونے کے خواہشمند تارکین وطن سے شادی پر پابندی لگا دی گئی ہے اور جو لوگ اس بنیاد پر برطانیہ آنے کی اجازت طلب کریں گے کہ انہوں نے برطانوی شہری سے شادی کر رکھی ہے ، ان کو بھی 21 سال کی عمر ہونے تک انتظار کی گھڑیاں کاٹنی پڑیں گی۔ ہوم آفس کے خیال میں وہ یہ منصوبہ بنا کر اپنی رسی اس لئے کھینچ رہی ہے کہ آئے دن ان اسکینڈلوں سے جان چھوٹے گی جس کی آڑ میں کم سن لڑکیوں کو برطانیہ سے باہر بھیج کر ان کی زبردستی شادی کر دی جاتی تھی۔ اب شاید ایسا نہ ہو سکے۔

اب آئیے تیسرے اور آخری ” اعتراض “ کی طرف ........ نوجوان یا نوعمر لڑکیوں کے ” ختنے “ کا مسئلہ۔ یہ مسئلہ سرے سے اسلامی ہے ہی نہیں نہ اس کا صرف مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس جسمانی نقص کا تعلق گرم آب و ہوا والے افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔ بعض افریقی اور عرب ممالک اس قبائلی رسم پر عمل کرتے ہیں۔ یہ صومایہ ہو یا ایتھوپیا ، سوڈان ہو یا مراکش ، گھانا ہو یا نائیجیریا ، لیبیا ہو یا ٹمبکٹو .... وہاں کے رہنے والے مسلم اور غیر مسلم دونوں نے یہ رسم اپنا رکھی ہے۔ اسے صرف مسلمانوں کی ثقافت کا نام دنیا میرے حساب سے مناسب نہیں۔ جغرافیہ کے اثرات انسانی اجسام پر ہوتے ہیں مذاہب پر نہیں۔ سردی گرمی کا اثر مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں پر یکساں انداز میں ہوتا ہے۔ اس لئے صرف مسلمانوں ہی کو مورد الزام ٹھہرانا سراپا ناانصافی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف پہلے ہی ” چارج شیٹ “ کافی طویل ہے۔ اس میں ان کے ختنہ کا اضافہ دراصل اسلام فوبیا میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ معاشرہ کو نئی شکل دینے میں فکر سے زیادہ ان میکانکی ذرائع کا ہاتھ ہوتا ہے جو فکر کی نشر و اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔