گھر واپسی اسکینڈل
- سوموار 15 / دسمبر / 2014
- 4207
گزشتہ دنوں آگرہ کی ایک کچی بستی میں رہنے والے تقریباً 50؍ غریب مسلمان خاندانوں کو “ گھر واپسی “ کے نام پر ہندو بنانے کا دعویٰ کیا گیاہے۔ تقریب کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی تھیں جن میں ٹوپی پہنے ہوئے کچھ مسلمان ایک ہندو مذہبی تقریب میں حصہ لیتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ جس کے بعد پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہؤا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکمران بی جے پی پر ملک کے سیکولر اصولوں سے کھلواڑ کرنے کا الزام لگایا۔ جن مسلمانوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے خود اپنی مرضی سے ہندو مذہب قبول کیا تھا، اب ان کا الزام ہے کہ انھیں دھوکے سے تقریب میں بلایا گیا تھا اور تنظیم کے مقامی رہنماؤں نے انھیں راشن کارڈ اور شناختی کارڈ بنوانے کا لالچ دیا تھا۔
دوسری طرف بجرنگ دل کے مقامی رہنما اجو چوہان کا کہنا ہے مسلمانوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا تھا اور اب وہ “ خوف “ کی وجہ سے ان پر الزام لگا رہے ہیں۔ اس کے برعکس مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ خوف کی وجہ سے تقریب میں شریک ہوئے تھے اور انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انھیں ہندو بنایا جارہا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ کوڑا اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور تعلق مغربی بنگال اور بہار سے ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ قائم کیا ہے کیونکہ ملک میں لالچ دے کر مذہب تبدیل کرانا ایک جرم ہے اور مذہب تبدیل کرنے سے پہلے ضلعی انتظامیہ کو مطلع کرنا ضروری ہے۔
اس دوران ایسی ہی ایک مزید تقریب کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سرگرم وشوہندو پریشدکے برج صوبے کے صدر پرمود جاجو کا کہنا ہے کہ علی گڑھ میں کرسمس کے موقعہ پر منعقد ہونے والے پروگرام کو تبدیلی مذہب کہنا غلط ہے ۔ کیونکہ ہم صرف ان لوگوں کو واپس بلا رہے ہیں جو پہلے مختلف وجوہات کی بنا پر ہندو مذہب کو چھوڑ کر گئے تھے۔ لہذا یہ گھر واپسی کا پروگرام ہے۔
پروگرام کے تعلق سے تیاری یہ ہے کہ اگر حکومت پروگرام پر پابندی لگاتی ہے اور ہندو رہنماؤں کی گرفتاری ہوتی ہے تب بھی پروگرام میں لوگ پہنچیں گے۔ اس کے لیے دو دو تین تین افراد پر مشتمل ٹیمیں تیار کی جا رہی ہیں۔ چاہے شکل بدل کر جانا پڑے یا کسی بھی طرح مگر پروگرام ضرور ہوگا۔ ایک لمحہ کے لیے ٹھہریں اور توجہ فرمائیں کیا یہ دل و دماغ پر چھائی ایسی دھن نہیں ہے جس کا طریقہ بھی غلط اور مقصد بھی غلط ہے۔ اس کے باوجود منظم منصوبہ بندی اور حد درجہ مقصد سے وابستگی نے افراد و گروہ کو یہ حوصلہ بخشا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہر چیلنج قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔
گفتگو چونکہ “ گھر واپسی “ کی ہو رہی ہے لہذا یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کو وہ گھر آنے کی دعوت دے رہے ہیں یا دیگر مذاہب کے لوگوں کو ایک بار پھر بقول شخصے گھرواپسی کروائی جا رہی ہے، اس گھر واپسی میں ، گھر سے بھاگنے اور گھر چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی؟ یہ جاننا اس سے زیادہ اہم ہے کہ انہیں گھر واپسی کروائی جائے۔ تصور کریں ایک ایسے گھر کا جو صرف تصورات میں موجود ہولیکن حقیقت میں وہ گھر ہو ہی نہیں۔ وہ گھر جس میں واپسی کی بات کہی جا رہی ہے ۔ اگر یہی گھر واپسی ہےتو ایسے گھر میں واپسی کا کیا حاصل کیا ہوگا؟
لیکن معاملہ درحقیقت یہ نہیں ہے۔ معاملہ تو پیٹ سے وابستہ ہے۔ اور وہ بھی ایسے شکست خوردہ بھوک کے ماروں کا جن کے دن کا آغاز و اختتام ہی روٹی کے چند ٹکڑوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔اور واقعہ بھی یہی ہے کہ جب انہیں معمولی درجے کے سہارے دینے کے وعدے کیے گئے تو انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ان کے سروں کو ٹوپیوں سے کیوں ڈھانپا جا رہا ہے۔ وہ اس ہون میں گھی اور تیل کیوں چھڑک رہے ہیں جو ان کے شب وروز کا حصہ نہیں ہے۔ وہ کیوں ایسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں جو ان سے مخلصانہ ہمدردی نہیں رکھتے۔
وہ تو صرف بھوک و پیاس کے مارے ہوئے تھے۔ گندگی اور کوڑے کی بدبو دن رات برداشت کرنے والے حقیقی زندگی کی خوشبوؤں سے محروم تھے۔ سورج کی تیز تپش اور قلب و روح تک کو منجمد کرنے والی ٹھنڈ ، جن کے دلوں اور دماغوں کو منجمد کرچکی ہو، وہ کیا جانیں تشخص کس بلا کا نام ہے۔اس سب کے باوجود جب وہ حقیقت سے واقف ہوئے تو وہ بے چین اور بے قرار ہو گئے۔ رب العالمین کے سامنے روئے اور گڑگڑائے ۔ جو غلطی نا واقفیت کے بناپران سے سرزد ہو گئی تھی اس کی تلافی کے لیے دعائیں کیں۔ بلاآخر ڈھونگ سے پردہ اٹھ گیااور حقیقت پوری طرح آشکارا ہو ئی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ سوال یہ بھی اٹھنا چاہیے کہ جس ملت کا وہ سرمایہ ہیں،کیا وہ ملت ان پر توجہ دے رہی ہے؟ قوم و ملت کے جیالے، اُن لوگوں کے خلاف محاذ کھولنے کو تیار ہیں،جو ملت کے افراد کوکبھی ڈرا دھماکر تو کبھی لالچ دے کر “ گھرواپسی “ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اِس ملت کے وہ خوشحال افراد جن کو اللہ نے اپنی نعمتوں سے بے انتہا نوازا ہے، نعمتوں کا ایک حقیر حصہ بھی بھوک و پیاس اور گھر وں سے محروم لوگوں پر خرچ کرنے کو تیارنہیں۔ ہاں اگر ان کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے تو پہلے وہ خدا کے عطا کردہ جسم اور اس کی توانائیوں پر ایک طویل لیکچر دے کر خوب ذلیل کرتے ہیں اوربعد میں حقارت بھری نظروں کے ساتھ روپیہ دو روپیہ تھماتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
توجہ فرمائیں اللہ کی نظر میں ذلیل و حقیر کون ہے؟ وہ جو وسائل زندگی سے محروم ہیں یا وہ جو سب کچھ رکھنے کے باوجود محرومین ومستحقین کونہ کچھ دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ اور یہ کچھ دینا اور کرنا صرف مال و دولت سے ہی متعلق نہیں ہے بلکہ اللہ کی عطا کردہ وہ تمام نعمتیں اس میں شامل ہیں جنہیں ہم وقت، صلاحیت، اثر و رسوخ اور علم و ہنروغیرہ کے ناموں سے جانتے ہیں۔ کیا کوئی ایسا مسلمان ہندوستان میں ہے جو لینے والوں کی بجائے دینے والوں میں شمار ہوتا ہو، جس کا ہاتھ نیچے والوں کی بجائے اوپر والوں میں ہواور پھر بھی وہ محرومین ومستحقین کے لیے کچھ نہ کرسکے؟ نہیں ایسا کوئی شخص نہیں ہے۔ چاہے وہ مرد و یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، اگر اللہ نے اسے اوپر ہاتھ والوں میں شامل کیا ہےتو وہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اپنے آس پاس نگاہ دوڑائی جائے، حقیقت سے واقفیت حاصل کی جائے، اسلام سے شعوری وابستگی اختیار کی جائے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہؤا جائے۔
ضرورت مندوں کی مدد اورذلت و پستی سے نکالنے کی منظم سعی و جہد کے ساتھ بندگان خدا کو اسلام سے شعوری واقفیت پہنچائی جائے۔ سب سے پہلے واقعہ کے پس منظر میں متاثرہ افراد اور ان جیسے دیگر افراد کو ہدف بنایا جائے۔ ساتھ ہی بلاتفریق مذہب و ملت تمام انسانوں کی “ حقیقی گھر واپسی “ کرائی جائے۔ ممکن یہ عمل اللہ کو پسند آجائے اور ذلت و خواری سے اللہ ہمیں محفوظ کردے۔