اتفاق و اتحاد کی ضرورت

  • منگل 16 / دسمبر / 2014
  • 7020

اسلام ایک آفاقی دین ہے اور عالم گیر مذہب ہے اسے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ۔ اور یہ دین پورے کرہ ارض کے انسانوں اور جنوں کے لیے ہمیشہ کے لئے ہے ۔ اس دین میں جامعیت اور کاملیت ہے اور ساتھ سا تھ لچک بھی ہے کہ یہ ہر طبقہ کے انسانوں کے لیے اور کرہ ارض کے ہر باسی کے لیے قابل عمل ہے ۔ اور اس دین کو اللہ تبارک و تعالی نے تمام ادیان پر غلبہ عطاء فرمانے کے لے نازل فرمایا ہے ۔

قرآن کریم میں واضح طور پر ارشاد ہے ۔ ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِےُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ۔وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیدَا۔ اللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت کا پیغام دے کر بھیجا تاکہ ان کا لایا ہوا دین تمام ادیان پر غالب آجائے ۔ اور پھر اعلان کیا کہ یہ دین کونسا ہے ؟ فرمایا اِنَّ الدِّےْنْ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامَ بے شک دین اللہ تعالی کے نزدیک اسلام ہے۔اور دین اسلام کے ماننے والوں کا نام مسلمان رکھا اور اعلان کیا ھو سمکم المسلمین ( سورہ حج آیت نمبر 78) اور حضور اکرم ﷺ نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ارشاد رفرمایا اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمُ اور ہر مسلمان کی نشانی یہ بتلائی اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہِ وَ ےَدِہِ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور ایک مسلمان کو دوسرے مسلمون کے لیے سلامتی کا نشان بننے کے لیے ایک سبق دیا کہ جب بھی کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرے تو کہے اَلسَّلاَمُ عَلَےْکُمْ اور دوسرا مسلمان جواب میں فورا کہے وَعَلَےْکُمُ السَّلَامُ اور سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے بہت سے خطابات میں اس بات کی بار بار تلقین فرمائی کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں پوری وضاحت فرما دی کہ کسی بھی مسلمان کو کسی دوسرے مسلمان پر قومیت کی وجہ سے، علاقائیت کی وجہ سے، رنگ و نسل کی وجہ سے یا زبان کی وجہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ اور آپ کا یہ فرمان اللہ تبارک و تعالی کے فرمان عالی کی تشریح تھی ۔ ہر مسلمان کی آبرو ایک جیسی ہے کسی مسلمان کی عزت مال جان کے نقصان کی کسی دوسرے کو کسی صورت میں اجازت نہیں ہے ۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا میں نے جاہلیت کی تمام رسوم اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالی ہیں ۔

یہ اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی تشریح تھی جو سورہ حجرات کی آیت نمبر 113 میں ہے ۔ ےَااَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرِ وّْاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبَا وَّ قَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْاِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہِ عَلِیمُ خَبِیرَ اے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا ) سے پیدا کیا ہے ۔ تمہارے خاندان اور قبیلے صرف ایک پہچان کی خاطر ہیں۔ بے شک تم میں سب سے بڑا عزت والا شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ۔ بے شک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ۔

ان تمام فرمودات عالیہ سے واضح ہوتا ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔اور کسی بھی مسلمان کو جو عزت و عظمت حا صل ہے وہ صرف تقوی و پرہیزگاری ہے جو کہ قرب خدا وندی اور حضور اکرم ﷺ کا سبب ہے ۔ علاوہ ازیں کوئی بھی چیز کسی دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے مختلف زبانیں جو مختلف ممالک میں اور مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں ان کے متعلق بھی واضح طور پر کہ دیا کہ ان زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہے ۔ سورہ روم کی آیت نمبر 22 میں ارشاد فرمایا وَ مِنْ آےَاتِہِ خَلْقَ السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ اِخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَ اَلْوَانِکُمَ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لِاَےَاتِ لِّلْعٰلَمِےْنَ بے شک آسمانوں اور زمین کی خلقت میں اور زمین پر بولی جانے والی مختلف زبانوں میں اور انسانوں کے رنگوں میں جو فرق ہے یہ اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں میں سے ہے ۔

ان تمام وضاحتوں کی بناء پر ہی اللہ تبارک و تعالی نے حکم دیا وَاعْتَصِمُوْ بِحَبْلِ اللّٰٰہِ جَمِےْعَا وَّلاَ تَفَرَّقُوْ اے ایمان والو تم سب کے سب متحد ہو کر اللہ تعالی کی رسی کو یعنی دین اسلام کو تھام لو اور آپس میں تفرقہ بازی مت کرو یعنی مذہب کے طور پر یاعلاقائیت کی بناء پر یازبانوں کے اختلاف کی بناء پر یا رنگ و نسل کی بناء پر یا امارت اور غربت کی بناء پر یا کسی بھی اور وجہ سے آپس میں تفرقے مت ڈالو اور جدا جدا ٹولیوں میں تقسیم نہ ہونا بلکہ سب کے سب ایک ہی سچے نبی ﷺ کی ایک ہی امت بن کر زندگی گذارنا ۔

کتنے دکھ اور افسو س کی بات ہے کہ امت مسلمہ انہی تعصبات میں پڑ کر گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ کسی علاقے کی شناخت کی بناء پر مثلا پٹھان سندھی بلوچی پنجابی سرائیکی کہلوانا کوئی عیب نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی زبان بولنا مثلا عربی فارسی انگریزی اردو پنجابی سرائیکی یا دنیا بھر کی کوئی بھی زبان بولنا بھی کوئی عیب نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ تمام خطے اللہ تبارک و تعالی نے ہی بنائے ہیں اور تمام زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہی ہے اس کی یہ حکمت کے راز ہیں کہ اس نے اپنی پوری زمین کو آباد رکھنے کے لیے یہ تقسیم فرمائی مگر ان میں سے کوئی بھی چیز دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے جو شخص جس علاقے سے بھی تعلق رکھتا ہے یا جو بھی زبان بولتا ہے وہ عزت والا ہے عظمت والا ہے ۔ اور ہر زبان بولنے والا اور ہر خطے میں رہنے والا دوسرے کا احترام کرنے کا از روئے دین وایمان پابند ہے ۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے لوگوں کے ذہنوں میں لوکل مہاجر کی بھی ایک تفریق پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ بات کسی طرح بھی باعث فخر نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام جب مکہ مکرمہ میں تھے تو سب کے سب لوکل تھے جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو سب کے سب مہاجرین کی صف میں شامل ہو گئے ۔اور مدینہ طیبہ کی آبادی انصار یعنی لوکل کہلائی ۔ اس بناء پر اللہ تعالی نے قراٰن کریم میں متعدد بار مہاجرین و انصار کا لفظ استعمال فرمایا اور سب کے لیے اپنے انعامات کا وعدہ فرمایا اور دین اسلام کی ترقی میں مہاجرین و انصار کا حصہ برابر ہے ۔ آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کو آپس میں الفت و محبت سے اور ایک دوسرے کا مکمل احترام کرنے کا سبق دیا اور اس کی تاکید کی اور زندگی مبارک کے آخری لمحات تک یہ سبق دیتے رہے ۔

آپ نے تمام عصبیتوں کو بالکل برا جانا ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر فوج دوپہر کو ایک جگہ آرام کر رہی تھی ایک کنویں سے پانی لینے کے لیے دو شخص گئے ان میں سے ایک شخص وہ تھا جو ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آ یا ہوا تھا اور ایک شخص مدینہ طیبہ کا ہی باشندہ تھا ۔ وہاں ان کا کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تو دونوں نے اپنے اپنے رشتہ داروں کو آواز دی مہاجر کی برادری مہاجرین تھے وہ آ گئے۔ لوکل کی برادری لوکل تھی وہ آ گئے اورہ یہ صرف رشتہ داری اور تعلق کی بناء پر آواز دی گئی مگر دہاں چند منافقین نے اسے لوکل مہاجر کا جھگڑا قرار دینے کی کو شش کی۔ بعدمیں عبداللہ بن ابی جو ہمیشہ اسلام کے سا تھ دشمنی میں پیش پیش رہتا تھا اس نے کہنا شرع کر دیا کہ جب سے یہ مہاجرین آئے ہیں ہمارا شہر تناہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ان کو نکال باہر کرو۔ اور اس نے پوری طرح سے لوکل مہاجر مسلئے کو ہوا دینے کی ناپاک کو شش کی۔ حضور اکرم ﷺ جو اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے وہاں ان تک یہ جھگڑے کی باتیں پہنچیں تو آپ ﷺ وہاں جلدی سے پہنچے اور فرمایا کہ یہ کیا فضول باتیں میں سن رہا ہوں ۔ میں نے جس جاہلیت کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالا تھا تم اسی کو دوبارہ زندہ کرنا چا ہتے ہو ۔ اور فرمایا چھوڑ دو ان باتوں کو ۔ آپ سب بھائی بھائی ہیں پھر آپ نے سب کی صلح کرا دی ۔

ان باتوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ میں جو اختلافی امور پائے جا رہے ہیں جس بناء پر قتل و غارت تک نوبتیں پہنچ رہی ہیں یہ سرا سر دین مذہب کے خلاف با تیں ہیں ۔ مسالک میں جو اختلاف ہے اگر علمی حد تک رہے اختلاف مخالفت میں تبدیل نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان عالی ہے اختلاف امتی رحمۃ میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہے جب کسی مسئلے میں اختلاف ہوتا ہے تو اہل تحقیق کتب دینی پر زور دیتے ہیں اور کثرت سے مطالعے ہو تے ہیں اور اس مسئلے کا علمی حل تلاش کیا جاتا ہے ۔ اور اس قسم کے علمی اختلافات اصحاب رسول اللہ کے درمیان بھی رہے ہیں۔ لیکن باہمی عزت و عظمت میں کبھی کوئی فرق نہ آ یا اور نہ ہی ایک دوسرے کے مقام و مرتبے کو پہچاننے میں کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے۔

میرا تجزیہ یہ ہے کہ تمام مسالک کے درمیان اصولی باتوں پر اختلاف بہت کم ہے ۔ اور فروعی باتوں پر بہت زیادہ ہے ۔ کسی بھی مسلک کے کم علم لوگ فروعات کو اصولوں پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جب کہ یہ تمام مسالک کے اہل علم کے نزدیک اصول پرستی مقدم ہے ۔ ضرورت ہے کہ اہل علم طبقہ آ گے آئے اور باہمی محبت الفت کو رواج دے اور عوام میں اختلافی مسائل کو کم سے کم لے جانے کی کو شش کرے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پوری امت کو ایسے اختلافات سے محفوظ رکھے جو باعث نزاع و مخالفت ہوں جس بناء پر جھگڑا فساد اور قتل و غارت کی نوبت پہنچے۔ آمین