اب انتہا ہو گئی
- منگل 16 / دسمبر / 2014
- 4124
جو لوگ کل تک پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست اور شدت پسندی کا گڑھ قرار دیتے تھے آج ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ درندہ صفت طالبان نے لڑائی ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں تک پہنچا دی ہے۔ انسانیت سے عاری ننگ انسانیت طالبان کے حملوں میں شہید بچوں کے لہو سے تاریخ پاکستان کو اس موڑ پر لے آئی ہے جہاں تاریخ کا دھارا پلٹا جا سکتا ہے۔ آج بھی پاکستانی قوم شیطانوں کے اس گروہ کیخلاف متحد نہ ہو سکے تو ایسی قوم کو تاریخ میں زندہ رہنے کا حق نہیں ملے گا۔
آج پشاور میں سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے دہشت گردوں نے اسکول میں گھس کر 132 ننھے فرشتوں کو موت کی وادی میں پہنچا دیا۔ وہ معصوم پھول جو ابھی کھلے بھی نہ تھے انہیں کچل دیا گیا۔ اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد 1600ہے جبکہ نرسری سے پانچویں تک کے بچوں کی تعداد 600 ہے۔ اسکول پر اس وقت حملہ کیا گیا جب اسکول کے آڈیٹوریم میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبا کی ایک تقریب ہو رہی تھی۔ کچھ جماعتوں میں بچوں کے امتحانات ہو رہے تھے اس لئے سکول میں بچوں کی تعداد معمول سے کم تھی۔ اسی دوران سکول میں اچانک دھماکہ ہؤا اور پھر اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ ان دھماکوں اور اس فائرنگ نے کتنی ہی ماؤں کی گودیں اجاڑیں اور کتنے ہی والدین کی کمر کو توڑ کر رکھ دیا۔ ڈھٹائی کی انتہا تو یہ ہے کہ واقعہ کی ذمہ داری طالبان درندوں نے ببانگ دہل قبول کی اور آپریشن میں اپنے بچوں کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔ اس طرح بدلہ لیتے ہیں یہ اسلام کے ٹھیکیدار۔
یہ ایک درد ناک حقیقت ہے کہ ننھے شہیدوں کی اتنی بڑی تعداد نے ہر محب وطن شہری کے دل کو مٹھی میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ میں اتنی بڑی تعداد میں معصوم طلبا کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ننھے منے معصوم طلبا کا مکتب دیکھتی آنکھوں مقتل بن گیا۔ معصوم بچوں کی شہادت پر ملک کے طول و عرض میں سوگ کی کیفیت طاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہے۔ پوری دنیا میں دہشت گردوں نے اپنی مذموم کارروائی کے دوران اتنی بڑی تعداد میں بے گناہ، نہتے اور پھولوں جیسے معصوم طلبا کے خون سے ہولی نہیں کھیلی۔ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری اس دلخراش واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ آج ہر صاحب اولاد کی آنکھیں پر نم اور دل زخم زخم ہے۔ معصوم بچوں کی شہادت ایسا قومی المیہ ہے جسے کوئی بھی صاحب اولاد فراموش نہیں کر سکے گا۔
اللہ تعالی کی جانب سے اولاد کی نعمت سے سرفراز ہونے والے یقیناًیہ جانتے ہوں گے کہ بچوں کی اس طرح کی المناک موت انسان پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ آج متاثرہ اسکول کے باہر بھی انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ شہر بھر میں قیامت صغریٰ کا سماں تھا۔ پریشاں حال مضطرب مائیں اور اشک بار بے چین والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کی تلاش میں اسکول کے باہر مجسم تشویش و اضطراب تھے۔ آج ہمارے ٹی وی چینلز نے بھی صائب فیصلہ کیا اور اعلیٰ صحافتی اقدارکی پیروی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی بربریت و سفاکیت کے مناظر براہ راست نشر نہیں کئے۔ تاہم اسکول کے باہر موجود والدین کی حالت زار ہر دل کو مٹھی میں جکڑ رہی تھی۔
انسان نما درندے یعنی طالبان آج شاداں و فرحان ہونگے کیونکہ ان کا بزدلانہ حملہ کامیاب رہا۔ قومی سطح پر اس حملے کے دلخراش اثرات اپنی جگہ لیکن اس وحشیانہ حملے کی اذیت بین الاقوامی برادری نے بھی محسوس کی ہے۔ اس حملے سے اس بات کی صداقت میں اب کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ جنرل راحیل شریف کی ان درندوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کی بات کوئی سیاسی بیان نہیں اور نہ ہی پاک فوج اب کسی طالبان گروہ کو ’’ اسٹریٹجک اثاثہ ‘‘ سمجھ کر افغانستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ طالبان کا معصوم بچوں پر یہ بزدلانہ حملہ ہی اس بات کی دلالت ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر وہ قبیح عمل انجام دے رہے ہیں جس کی اجازت انسانیت اور اسلام دونوں ہی ہرگز نہیں دیتے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی، سماجی، شہری اور جمہوری حلقے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے خلاف کام کرنے والی قوتوں کی سرکوبی میں افواج پاکستان کاساتھ دیں۔ آج کے دردناک سانحہ نے پاکستانیوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب انتہا ہو چکی ہے اور آئندہ اس قسم کے لہو رنگ واقعات کا انسداد ہونا چاہئے۔ حکومت نے سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے مگر اب اعلان سوگ سے کام نہیں چلے گا۔ اب قوم کے ساتھ ساتھ ہمارے رہبروں کو وہ رویہ اپنانا ہو گا جو اس خونچکاں واقعہ کے بعد کوئی زندہ قوم اپنا سکتی ہے۔ کیونکہ اب انتہا ہو گئی۔