سانحہ پشاور ۔۔۔ نئے پاکستان کی بنیاد
- جمعرات 18 / دسمبر / 2014
- 4142
پاکستان نازک ترین دور سے گزر رہا ہے یہ ایسی گردان ہے جو کچھ عرصے سے تواتر سے کی جارہی ہے حالانکہ ملک جب سے معرض وجود میں آیا ہے اسے تب سے ہی اندرونی و بیرونی خدشات لاحق ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ملک کو دنیا کے دیگر ممالک کے مقابل ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن نہیں کرسکا ہے ۔
آمریت نے اس حوالے سے سب سے زیادہ مسائل پیدا کئے ہیں بالخصوص مشرف دور نے ملک کوا یک ایسی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنایا جو بعد کے حالات نے خود پاکستان کے لئے مشکلات کا سبب بنی۔ آج پوری قوم اس کی شر انگیزیوں کے باعث مفلوک الحال ہے۔ طالبان افغانستان میں اپنے اقتدار کی ناکامی کے بعد ایک محفوظ مقام کی تلاش میں تھے، انہیں پاکستان دنیا میں سب سے محفوظ اور اپنی کارروائیوں کیلئے اہم جگہ کے طور پر میسر آگیا ۔ انہوں نے اسلامی نظام شرعیت کو جواز بناکر نہ صرف سادہ لوح اور بھولے بھالے عوام کو بیوقوف بناکر یرغمال بنایا بلکہ ملک کے نظام کو تباہ کردیا ۔ مشرف کے بعد پی پی پی کے دور حکومت میں بھی طالبان کیخلاف بھر پور یا موثر کارروائیاں نہ ہونے سے ان کے حوصلے بلند ہوئے اور ملک بھر میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ طالبان ملک میں حاکمیت کے دعوے دار بن گئے ۔ ملک میں طالبائزیشن نے اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کرلی ہیں کہ وطن عزیز کو معاشی و اقتصادی نقصان علاوہ عوام غیر محفوظ ہوگئے۔ ہزاروں بے گناہ افراد جن میں بزرگ ، بچے اور خواتین شامل تھیں لقمہ اجل بنے ۔لیکن اس کا طالبان پر کوئی اثر ہوا نہ حکومتی سطح پر کوئی موثر اقدام کیا ۔
نوازشریف نے اقتدار سنبھال کر ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کام ک�آغاز کیا۔ انہوں نے طالبان سے پر امن مذاکرات کرنے کیلئے فضاء قائم کی اور گزشتہ سال ستمبر میں ا ے پی سی بلائی جس میں ملک کی تمام تر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے یک زبان ہوکر حکومت کا ساتھ دینے کا عزم کیا ۔ اس سیاسی یکجہتی کے بعد میاں نوا ز شریف نے خلوص دل سے قدم بڑھایا لیکن طالبان کی جانب سے اس کے برعکس کارروائیاں جاری رہیں ۔ فورسز کے اہلکار ہدف بنے ، عام شہریوں کا قتل عام ہوا اور سرکاری تنصیبات کو بھرپور نقصانات پہنچایا گیا۔اسی وجہ سے حکومت کوآپریشن ضرب عضب شروع کرنے پر مجبور کردیا ۔
یہ ایک ایسا اقدام تھا کہ جس سے شمالی وزیرستان کے ہزاروں خاندان اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے پر ہوگئے لیکن قوم کی جانب سے اظہار یکجہتی و امداد نے انہیں اپنے مستقبل کی بہتری کیلئے ہر مشکل برداشت کرنے پر آمادہ کیا ۔ حکومتی سطح پر آپریشن کے باوجود کوشش کی گئی کہ جو طالبان تائب ہوجائیں انہیں قومی دھارے میں شامل کرلیا جائے ۔ البتہ تخریب کاروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہی۔ فیصلہ ہوا کہ ملک بھر میں دہشت گرودں کی کمر توڑنے کیلئے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری اور ہیجان کی کیفیت ہے جس کی وجہ سے کسی نہ کسی طرح سے دہشت گرد آزادانہ کارروائیاں کررہے ہیں اسی کا پیش خیمہ سانحہ پشاور کی صورت میں سامنے آیاہے ۔ 16 دسمبر کا دن پاکستان کیلئے ایک سیاہ دن کے طور پر تصور کیا جاتا ہے اس روز ملک ودلخت ہوا تھا۔ لگتا ہے کہ وہ دن ایک بار پھر ملک کی تاریخ کا حصہ بن گیا ہے ۔ جی چاہتا ہے کہ کاش یہ سیاہ دن کیلنڈر سے ہمیشہ کیلئے مٹ جائے ۔ ابھی ہم اس دن کی بری یادوں کو رو رہے تھے کہ سانحہ پشاور نے ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیل دیا۔ ہمارے مستقبل پر حملہ ہوا اور132بچے شہید کردئے گئے ۔قوم سکتے میں آگئی۔ ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ ماؤں کی گود اجڑ گئیں ۔ ہر مکتبہ فکر اس دلخراش واقعے سے بے دم ہوگیا ۔ ملک میں چہار سو سوگ کا عالم ہے ۔ کوئی سوچ ، کسی سمجھ سے بالاتر اس واقعہ نے اگر کچھ کیا ہے تو یہ ہے کہ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جگا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایک پھر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بلائی گئی مشاورتی کانفرنس میں عمران خان سمیت ملک بھر کے تمام سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی جو اس بات کا مظہر ہے کہ اختلافات اپنی جگہ مگر ملک کی سالمیت اور اس کا تحفظ ہر شے پر مقدم ہے ۔
وزیراعظم نے عزم کیا ہے کہ شدت پسندی و دہشت گردی کی کیخلاف کارروائیوں میں کسی بھی سطح کوئی تمیز نہیں رکھی جائے گی اور ملک دشمنوں کا قلع قمع ہو نے تک جنگ جاری رہے گی ۔ بزدلوں کو ان کے بلوں سے نکال کر ملک سے مکمل صفایا کردیا جائے گا۔ یہ اعلان خوش آئند ہے ۔ پشاور میں ہونے والا واقعہ کسی بھی طرح سے انسانی المیہ سے کم نہیں ۔ معصوم جانیں لینے والے کسی بھی لحاظ سے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ۔وقت آگیا ہے کہ اب حساب چکتا کیا جائے ، اس کیلئے باقاعدہ مربوط اور موثر لائحہ عمل ناگزیر ہوگیا ہے ۔
132جانوں کا نقصان قوم کیلئے ایک عظیم نقصان سے کم نہیں لیکن یہ امر سب سے اہم ہے کہ اتحاد و اتفاق کے جو دئے بجھ رہے تھے وہ ان شہداء کے خون سے پھر روشن ہوگئے ہیں اوران کی قربانی ایک سوئی ہوئی قوم کو جگانے کا باعث بن گئی ہے ۔ عمران خان نے دھرنا ختم کرکے جس فراخ دلی اور سیاسی شعور و بلوغت کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ قابل قدر ہے اور اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کا ملکی سالمیت اور دفاع کیلئے دہشت گردی کیخلاف متحد ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ 1971ء میں جس غیر محتاط رویہ کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور ملک تقسیم ہوا تھا اب ایسا نہیں ہوگا ۔ بلاشبہ عوام ، سیاسی رہنماؤں اور فوج کا متحد ہوجانا ایک نئے پاکستان کی بنیاد ہے۔
سلام ہو ان ننھے مجاہدوں پر کہ جن کی بدولت ملک درست راہ پر گامزن ہورہا ہے۔