لہوکس کے ہاتھ پر۔۔۔

  • جمعہ 19 / دسمبر / 2014
  • 4697

اپنے جگر گوشوں کو دفنا کر مُردے تو ویران گھروں کو لوٹ آئے کہ جن سے یہ حیات پاتے تھے وہ تو اُن وحشی درندوں نے ان سے چھین لئے جنہیں کچھ مجہول ذہن آج بھی اپنے بھٹکے ہوئے بھائی قرار دیتے ہیں۔
لیکن ان معصوم فرشتوں کے اصل قاتل ہیں کون ؟

مجہول دماغ انہیں ایک مرتبہ پھر فلاں فلاں ایجنسی کے ایجنٹ قرار دے کر اپنے متبرک چہروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے وثوق سے فرمادیں گے کہ کوئی مسلمان تو ایسا کر ہی نہیں سکتا کیونکہ خوف خدا رکھنے والا ہر مسلمان جانتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
لیکن سنا ہے کہ حملہ آوروں میں سے کچھ عربی بول رہے تھے !
تو کیا ہؤا ! نورانی چہروں والے فرمائیں گے۔۔۔ عربی تو کافر بھی بول سکتے ہیں ۔ اور فلاں فلاں ایجنسیوں کے ایجنٹ تو ایسی عربی بولتے ہیں کہ خود مسلمان کیا بولیں گے۔

اب آپ کا جی چاہے تو ان سے بحث جاری رکھیئے تاوقتیکہ ان کے چہرے نفرت سے سیاہ نہ پڑ جائیں اور یہ آنکھوں سے آگ اور منہ سے زہریلا کف نہ اگلنے لگیں۔

سنا ہے تقریباٌ ستر برس قبل ایک ایسا ملک بنانے کی نوید دی گئی تھی جس میں مسلمان آزادانہ اپنی اقدار کو فروغ دے سکیں گے اور جہاں ہر مذہب اور مسلک کے لوگوں کو عقیدے کی آزادی ہو گی۔
یہ بھی سنا ہے کہ اسکے بنانے والے دین کو ریاست سے الگ ر کھنا چاہتے تھے اور انکا خواب یہی تھا کہ یہاں بسنے والے بہت ہی قلیل عرصے میں بلا تفریق مذہب و عقیدہ ایک ایسی قوم میں تبدیل ہو جائیں گے جو ، اول آخرپا کستانی کہلائے گی اور اس پر فخر بھی کرے گی۔

نورانی چہروں والے اس تاریخ کو نہیں مانتے۔ بلکہ جب ایسی کوئی ریاست بنانے کی مہم جاری تھی تو وہ اسکی جدوجہد کرنے والوں کو بھی نہیں مانتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ ایسی کسی ریاست کے تصور کو ہی کفر اور اسکے بنانے والوں کو کافر قرار دیتے تھے۔

یہ الگ بات ہے کہ آج ان کے دعووں اور گھڑی گھڑائی تاریخ کے مطابق یہ ملک بنا اور بنایا ہی مذہبی ریاست کے طور پر گیا تھا۔ سو چونکہ اب مذہب کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے لہٰذاہ وہی اسکے جائز وارث اور محافظ بھی ہیں۔
اور محافظ تو آپ نے دیکھ ہی لیا یہ کیسے ہیں۔
یہ وہ محافظ ہیں جن کی عباؤں اور برقعوں کے وسیع گھیروں میں وہ درندے پناہ لیتے ہیں جنکے ہاتھ معصوم بچوں پر گولیاں برساتے ہوئے ذرا نہیں کانپتے اور جو ان کے جسموں میں اپنی نفرت کے انگارے اتارتے ہوئے ان سے کلمہ پڑھوا کر اس مقدس و متبرک کلام اللہ کی توہین بھی کرتے ہیں۔
یہ وہی محافظ تو ہیں جو بڑی ڈھٹائی سے بھرے مجمعوں میں قتال کی دعوت دیتے ہیں۔ شاید آج وہ اس بات پر زیر لب مسکرا رہے ہوں کہ انکی دعوت پر عمل ہؤا۔

صد حیف کہ جب ریاست کا نظم و نسق چلانے والوں کا واحد نصب العین اپنی ذات کی آبیاری تک محدود ہو جائے ا ور ریاست کی رٹ غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ میں چلی جائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو آج اس بد قسمت مملکت خداداد میں ہو رہا ہے۔ سوجب ان کرپشن زدہ چہروں پر ایسے کسی سانحے کے بعد آپ رنج و الم کی کی پرچھائیں لہراتی دیکھیں تو سمجھ جائیں کی یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔ جس صدمے کا تعلق انکی ذات سے نہ ہو وہ انکے لیئے نہ تو کوئی رنج ہے نہ الم۔

اگر ایسا ہوتاتو غربت اور نانصافی کی چکی میں پستے انسانوں کی قومی دولت پر پرٹوکول کے مزے لیتے اور داد عیش دیتے ان بہروپیوں کو تھر میں بھوک سے مرتے بچے بھی دکھائی دیتے اور اسپتالوں میں غلیظ بستروں پر دواؤں کی عدم دستیابی کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے مریض بھی۔ان بیواؤں اور یتیموں کی آہیں بھی سنائی دیتیں جن کے واحد کفیل آئے دن سڑکوں اور چوراہوں پر بے موت مارے جاتے ہیں۔ہر سو غلاظت اور گندگی میں لتھڑی پاک سر زمین بھی یہ دیکھ سکتے۔ فاقے اور بیروزگاری سے خودکشیاں کرتے نوجوان بھی انکی نظروں سے اوجھل نہ ہوتے۔ گدھے ،کتے مردار اور نجانے کیا کیا کھلا کر خلق خدا کو حرام خور بنا دینے والے ظالم لٹیروں کی کاروائیاں بھی ان سے پوشیدہ نہ ہوتیں۔
لیکن شاید یہ سب کچھ جانتے ہیں پر جاننا چاہتے نہیں کیونکہ کرپشن اورنا اہلی نے انکے ضمیر مردہ اور دماغ شل کر دیئے ہیں اور اب یہ مجسم بے حسی ہیں۔

اور یہ جو اب پشاور کے دل کو لرزا دینے والے سانحے پر ’’ ہم شرمندہ ہیں۔۔ ہم شرمندہ ہیں ‘‘ کے شرمناک دعوے کر رہے ہیں، انہیں چاہیئے کہ کھوکھلی شرمندگی کا اظہار کرنے کی بجائے آئینوں میں پہلے تو اپنے چہرے دیکھ کر ڈریں اور پھر شرم سے ڈوب مریں کہ یہ بھاری بھاری مچرب جسموں اور پھولی پھولی سانسوں والے وہی تو ہیں جو اب بھی اپنے بھٹکے ہوئے بھائیوں کو منانے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کے رد عمل کا اندازہ کرتے ہوئے انکا لہجہ اب اتنا کرارہ نہیں جیسا پہلے تھا۔

اور یہ اپنے خان اعظم کو ایسی کیا مجبوری درپیش ہے کہ درندوں کی جانب سے فخریہ اس قتال کی زمہ داری قبول کرنے کے باوجود ، وہ ان کا نام لینے سے ایسے شرما رہے ہیں جیسے اگلے وقتوں کی بیبیاں اپنے شوہرکا نام لینے کی بجائے اسے ’’ منے کے ابا ‘‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔

اگر کسی ملک میں اتنا بڑا سانحہ ہو جائے تو وہاں کے متعلقہ وزیر اور اہلکار اپنی کوتاہی پر عوام سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے عام طور سے مستعٰفی ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ حالات میں وزیر اعظم بھی مستعفی ہو جاتا ہے۔
پر ایسا صرف مہذب ملکوں میں ہوتا ہے جن کی فہرست میں کم از کم ہمارے علم کے مطابق کوئی اسلامی ملک شامل نہیں ہے۔

اگر ایسا ہوتا تو وزیر اعظم یا کم از کم وزیر داخلہ اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے اور اپنی نا اہلی یا کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاتے۔ ہاں ! اسکے لئے عزت نفس کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ لیکن جن کی رگ رگ میں کرپشن اور بد نیتی کا سیال دوڑ رہا ہو ، وہاں عزت نفس کیلئے جگہہ باقی نہیں رہتی۔ پس ان سے کوئی ایسی توقع کرنا عبث ہے۔

ان معصوموں کے قاتل تلاش کرنے ہیں تو پچھلے تیس پینتیس سال کی تاریخ کے ورق پلٹئے۔ان پر جگہہ جگہہ آپ کو ان کے پاک خون کے چھینٹے دکھائی دیں گے۔ اس دوران بننے والی تمام حکومتوں کے دور میں یہ سنپولیئے ان کی آستینوں میں پلتے رہے ہیں۔اب یہ اژدہے بن چکے ہیں اورچپے چپے پر ان کے بل اور کچھاریں موجود ہیں جن پر عباؤں اور برقعوں کے گھیروں کا سایہ ہے۔
ہمت ہے تو ان کچھاروں میں ہاتھ ڈالیئے۔