تاریخ کا ایک اور درسِ رائگانی
- ہفتہ 20 / دسمبر / 2014
- 4662
اِس بار سقوطِ ڈھاکہ کی برسی اپنے ساتھ رنج و الم کا ایک ایسا طوفان لے کر آئی ، جس نے سول اور عسکری حکمرانوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے ۔ پشاور میں بچوں کے سکول پر طالبان کے ایک دہشت گرد لیڈر خالد خراسانی کے حکم پر آتشیں اسلحے اور دستی بموں سے حملے کے نتیجے میں ایک سو انچاس طلبا و طالبات اور سکول کی پرنسپل اور اساتذہ سمیت سیکورٹی عملہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔
یہ اس عہد کا وہ سفاک ترین سانحہ ہے جس نے نہ صرف پاکستانی معاشرت پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں بلکہ حکمرانوں اور دفاعی اداروں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ حکمرانوں اور جرنیلوں کے تیور بدلے بدلے نظر آرہے ہیں اور اُن کے فیصلوں اور اقدامات نے رفتار پکڑ لی ہے ۔
اَخبارات ، الیکٹرانک میڈیا ور سوشل میڈیا پر بپا عزا کی مجلسوں نے اس اندوہ ناک واقعے پر بڑی درد مندی سے ماتم کیا ہے جو بدستور جاری ہے ۔ بڑے رقت آمیز اشعار کہے گئے ہیں ۔ بچوں کی میتوں پر پچھلے تین دن سے آنسو بہائے جا رہے ہیں ۔ طرح طرح کا ردِ عمل دیکھنے میں آرہا ہے ۔ بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں ۔
حسب روایت بعض دانشوروں نے وہی کلیشے دوہرایا ہے جو پچھلے سرسٹھ برس میں کئی بار دوہرایا گیا ہے کہ اس واقعے نے قوم کو متحد کردیا ہے ۔ جی ہاں ، ہمارے دانشوروں کو اس قسم کی باتیں کرنے کی عادت ہے ۔ ہمارے علما کو آسمانوں سے اللہ کی رحمت کی ضمانت حاصل ہے جسے وہ حسب ضرورت تقسیم کرتے رہتے ہیں اور پھر اس سے پہلے کہ شہیدوں اور مرحومین کی میت کا کفن باسی ہو ، وہ اس اتحاد کو فراموشی کے ڈسٹ بِن میں ڈال دیتے ہیں ۔
چنانچہ یہی ہؤا ہے ۔ اور دو سابقوں کے درمیان دھینگا مُشتی شروع ہوگئی ہے ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سابق وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ رحیم یار خان میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں موجود ہیں اور وہ اُس کی نشان دہی کر سکتے ہیں ۔ اس بیان پر پنجاب کے سابق وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے رحمٰن ملک کو دو سو فیصد جھوٹا قرار دیا ہے اور کہا ہے میں رحمٰن ملک کی گاڑی میں بیٹھتا ہوں وہ مجھے لے جا کر وہ تربیت گاہیں دکھائیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رحمٰن ملک پنجاب حکومت کو بدنام کر رہے ہیں ۔
اُدھر پختون خواہ کی حکومت نے حملے کا الزام افغان انتظامیہ پر ڈال دیا ہے جبکہ طالبان اپنے حملے کو شریعت کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں اور انہوں نے بنو قریظہ کے بچوں کی عمروں کے حوالے سے ایک حدیث تلاش کر کے اپنے دفاع میں شائع کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بچوں پر حملہ شریعت کے عین مطابق ہے۔
بایں ہمہ معاشرتی اور انتظامی رویوں میں ایک گونہ تبدیلی ضرور نظر آ رہی ہے ۔ چنانچہ 2011 میں جن دہشت گردوں کو موت کی سزا سنائی گئی تھی اُن پر عملدرامد شروع ہو گیا ہے ۔ جی ایچ کیو پر حملے کے مجرموں کو پھانسی گھاٹ کے راستے قبرستان روانہ کردیا گیا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سزا پر عملدرآمد میں تین سال کی تاخیر کیوں؟ تین سال سے ان خطرناک مجرموں کو کس لئے پالا جاتا رہا ؟ اس سوال کا جواب کون دے ؟
کچھ لوگ دبی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ چونکہ یہ معاملہ براہِ راست فوج سے تصادم کا تھا جس میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا گیا ، اس لئے انتقامی کاروائی کے طور پر ان سزاؤں پر عمل درآمد شروع ہؤا ہے۔ اور سب سے پہلے پھانسی انہی کو دی گئی جنہوں نے جی ایچ کیو اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملہ کیا تھا ۔ اس موقعہ پر یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ممتاز قادری قسم کے مجرموں کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا یا نہیں؟
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم من حیث القوم غیر ذمہ دار ہیں ۔ ہم اپنے وطن سے محبّت کے بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر جوتیوں میں دال بانٹ کر ۔ ہم قانون بنانے میں ہوشیار ہیں مگر عمل درآمد میں ہمیشہ غفلت برتتے ہیں ۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا دم بھرتے ہیں مگر سنت کے مطابق زندگی گزارنا ہمیں اس حد تک دشوار لگتا ہے کہ ہم گمراہ ہوتے ہوتے رہ جاتے ہیں ۔ مگر اپنے قول کو عمل جانتے ہیں اور نعروں کو حکمتِ عملی سمجھتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے ۔
ہم نے تقسم کے وقت بہے خون اور لٹی عصمتوں کو اس طرح یاد نہیں رکھا کہ ایسے المیے دوبارہ عود کر نہ آتے ۔ ہم نے پینسٹھ کی جنگ اور اعلانِ تاشقند کو یاد نہ رکھا ، ہم نے اکہتر کی جنگ میں پاکستان کے دولخت ہوجانے کو بھی سنجیدگی سے یاد نہیں رکھا اور جب سے افغانستان اور فاٹا میں امریکہ کی پراکسی جنگ شرع ہوئی ہے تب سے ہم اپنی سُدھ بُدھ ہی کھو بیٹھے ہیں ۔ اِس جنگ کے لیے ہم نے طالبان سازی کی ، اُنہیں تربیت اور اسلحے سے لیس کیا ، اُن کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور اُن کی مدح سرائی بھی کی ۔ مگر اب نہ تو اُن سے چھٹکارہ پانے کا راستہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کی حکومتی رٹ کو مانتے ہیں ۔ یہ محض ایک سوال یا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے سر پر لٹکی وہ کلاشنکوف ہے جس نے ہمارا امن چین ہم سے چھین لیا ہے اور ترقی کا راستہ بند کر کے ہمیں دیوار سے لگا دیا ہے ۔
اب اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
حل یہ ہے کہ طالبان کا وجود بطور لشکر ختم ہو جانا چاہیے ورنہ پاکستان کی رٹ ہمیشہ خطرے سے دو چار رہے گی ۔ میرے نزدیک لشکری طالبانِ عالمِ اسلام کے وجود پر بد گوشت کی طرح ہیں جو اُمت کو بیمار کر رہے ہیں اور جب تک اس بد گوشت کو آپریشن کے ذریعے نابود نہیں کیا جاتا تب تک عالمِ اسلام بد امنی کے چنگل سے رہائی نہیں پا سکے گا اور اس سانحے سے حاصل ہونے والا تاریخ کا یہ سبق بھی درسِ رائگانی بن کر رہ جائے گا ۔