ارتداد اور اسلام
- سوموار 22 / دسمبر / 2014
- 4578
ایک اخباری خبر کے مطابق افغانستان کا ساٹھ سالہ عبدالرحمن جو اسلامی شرعی قوانین کے تحت جیل میں بند اپنی سزائے موت کا منتظر تھا، جیل سے رہائی کے بعد اٹلی میں پناہ حاصل کرنے کے بعد میڈیا میں جلوہ گر ہؤا ........ اس نے اطالوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یسوع مسیح کی تعلیمات کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔
اس نے بتایا کہ آج دنیا میں امن و امان کے قیام کے لئے کسی جہادی یا تشدد پسند دین و دھرم کی ضرورت نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات و ہدایات کی ضرورت ہے تا کہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔ عبدالرحمن نے بڑے اعتماد کے ساتھ اخبار نویسوں کو بتایا کہ موت کی سزا کے باوجود اسے اعتماد و یقین تھا کہ یسوع میری موت کا حکم ناکام کر دے گا اور پھر ایسا ہی ہؤا۔ آج میں آپ کے سامنے موجود ہوں کیونکہ حضرت عیسیٰ نے مجھے قید و بند سے نکال کر قتل ہونے سے بچایا اور میری عیسائیت کی قبولیت کو شرف یابی بخشا اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہؤا۔
عبدالرحمن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ 24 سال قبل 1990 میں مسلمان سے عیسائی ہو گیا تھا جسے اسلام میں مرتد کہتے ہیں۔ جس پر افغانستان کی کرزئی حکومت نے اسے جیل میں ڈال دیا تھا کہ افغانستان میں اسلامی قوانین نافذ ہیں۔ اسلامی قانون کے مطابق جو مسلمان اپنے مذہب کو چھوڑ کر یا خیرآباد کہہ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لے ، چاہے وہ اہل کتاب کا مذہب ہی کیوں نہ ہو، وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا صرف موت ہے۔ ہاں اگر وہ توبہ کر لے، یعنی پھر سے اسلام قبول کر لے تو یہ سزا معاف ہو سکتی ہے۔
یہاں میں ان حلقوں کی بات کرنا چاہوں گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اگر اسے ایک مذہب میں سکون نہیں ملتا تو جہاں اسے سکون میسر آتا ہے وہاں وہ کیوں پناہ نہیں لے سکتا؟ جیسے ہر انسان کو بھوک لگتی ہے اور پسندیدہ غذا کھائے بغیر اسے سکون نہیں ملتا۔ اسی طرح انسان کے اندر ہدایت کی طلب اور روحانیت کی پیاس پیدا ہوتی ہے اور تبدیلئ غذا کی طرح تبدیلئ مذہب کو قبول کئے بغیر اسے سکون و اطمینان اور چین نہیں ملتا۔
سکون قلب و روح کے لئے اگر چوکھٹ تبدیل کر دی جائے تو یہ عمل ” گناہ عظیم “ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور چوکھٹ تبدیل کرنے کی سزا موت کیونکر ہو سکتی ہے؟ خدائے قادر مطلق کے لئے یہ بات عین ممکن تھی کہ وہ صرف ایک ہی دین پیدا کرتا اسی طرح پوری دنیا مسلمان ہو جاتی اور کفر کا نام و نشان بھی مٹ جاتا .... لیکن ایسا نہیں ہؤا ! کیوں؟ یہاں میں اپنی بات کو ایک دوسری طرح پیش کرتا ہوں (یہ بھی کچھ لوگوں کا نقطہ نظر ہے) ایک پیدائشی مسلمان اگر (کم از کم) ایک دفعہ غور و فکر کر کے اور حق و باطل کو بخوبی سمجھ کر کوئی سا بھی مذہب اختیار کرتا ہے یا ” کفر و گمراہی “ کی طرف لوٹتا ہے تو یہ بات اسلام کے لئے کیوں ناقابل قبول ہے؟ عبدالرحمن کے مرتد ہونے یا غور و فکر کر کے کسی ایک مذہب کو اپنا لینا اسے موت کا کیوں حقدار بنا دیتا ہے؟ جبکہ کسی بھی مذہب کا پیروکار اگر حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو ہم خوشی سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسا امتیاز ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ارتداد کی سزا کے سلسلے میں اسلام پر جبر و تشدد کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
یورپ کے دانشوروں کے حلقوں میں مرتد کی سزا کے سلسلے میں دونوں سمتوں سے اعتراض کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرتد کو قتل کرنا اسکی مذہبی آزادی کے منافی ہے۔ دوسرا اعتراض نہ صرف غیر مسلموں بلکہ خود دانشور مسلمانوں کی طرف سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ارتداد کی سزا ” قتل “ اسلام میں ہے ہی نہیں۔ اگر کسی مرتد کو قتل بھی کیا گیا تو وہ بطور تعزیر کے تھا نہ کہ بطور مستقل سزائے شرعی کے۔ قرآن مجید نے اللہ اور رسولﷲ سے جنگ کرنے کی سزا قتل قرار دی ہے (المائدہ 33) لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لئے بھی قتال کرو۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ارتداد کی سزا اس ملک یا ریاست میں ہے جہاں ” اسلامی حکومت “ ہو۔ کیا اس وقت دنیا کے لگ بھگ ساٹھ ممالک میں سے کسی ایک ملک میں بھی اسلامی حکومت قائم ہے؟ جن ممالک میں مسلمان اقلیت ہی ہوں اور جمہوری نظام کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہوں وہاں ارتداد کی سزا جاری نہیں ہو گی۔ یہ کچھ ارتداد پر ہی موقوف نہیں بلکہ تمام شرعی سزائیں اسلامی حکومت ہی میں نافذ ہو سکتی ہے۔
تیسری بات ........ اسلامی حکومت میں بھی ہر شخص اپنے طور پر مرتد کو قتل نہیں کر سکتا۔ بلکہ قانونی طور پر اسلامی شرعی عدالت واقعہ کی پوری تحقیق کرے گی۔ صفائی کا موقع دے گی اور جرم ثابت ہو جانے پر قدم اٹھائے گی۔ اور اگر عورت ہے تو جب تک توجہ نہ کرے اور دوبارہ اسلام قبول نہ کرے اسے قید میں رکھا جائے گا۔
سو میرے حساب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی کتابیں زمین پر اتاری گئی ہیں ان سب کا مقصد انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لوہے اور پتھر کی طرح مجبور محض اور بے اختیار نہیں بنایا بلکہ اسے اپنے اختیار سے فکر و دانش و آگہی سے خیر و شر اور حق و باطل قبول کرنے کی طاقت دی ہے۔ البتہ ہدایت و گمراہی کو اپنے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعے اس طرح واضح فرما دیا ہے کہ جس شخص کے اندر ” تلاش حق “ کا تھوڑا سا جذبہ بھی ہو گا وہ بسہولت حق کی روشنی پا لے گا اور حق پر صرف ہم مسلمانوں ہی کا اجارہ نہیں ہے! لا اکراہ فی الدین۔
ابر و باد پر قادر اور اس قدر مجبور
کہ ایک سانس کے لینے کا اختیار نہیں