خوشحالی وترقی کا راستہ

  • سوموار 22 / دسمبر / 2014
  • 4652

درحقیقت ہندوستان و پاکستان دو الگ ملک ہیں۔اس کے باوجود کبھی ایک ہونے کے نتیجہ میں ،دونوں ہی میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔یہ مماثلتیں مثبت بھی ہیں اور منفی بھی ہیں۔منفی مماثلتوں میں غربت،جہالت اور ظلم و زیادتیاں عام ہیں۔اسی کانتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پشاور ،پاکستان کے آرمی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے معصوم طلبہ پر جان لیوا حملہ ہوا۔جو انتہائی قابل مذمت ہے۔

مذمت کی ایک وجہ نہتے بچوں پر حملہ ہے تو وہیں دوسری طرف وہ بچے علم کے حصول میں سرکرداں تھے۔ جس کے لیے خود نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کی ہے۔ایک ایسے عمل میں مصروف بچے جو دینی اعتبار سے بھی قابل قدر ہے،چند لوگ جان لیوا حملہ کریں، بچوں کی معصومیت ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہ رکھے،پھر بھی انہیں غلط نہ کہا جائے ،یہ ممکن ہی نہیں ہے۔لہذا سانحہ کے بعد ہندو پاک کے تمام مسلم قائدین نے متفقہ طور پر نہ صرف حملہ کو غیر اسلامی،غیر شرعی اور انسانیت سوزکہا بلکہ ایسے لوگوں کو سنگین سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اسلام اور اسلامی تعلیمات سے لاتعلقی ایک عام بات ہو گئی ہے۔اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا،اس کی تفہیم و تشہیر غلط انداز سے کرنا،اورعمل کے معاملہ میں بالکل ہی منفی رویے اختیار کرنا،نہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہاہے بلکہ غلط فہمیوں کے فروغ میں بھی کارگر ثابت ہو ر ہے ہیں۔

ممکن ہے یہ عمل انہیں مقاصد سے کیا گیا ہو یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ متعلقہ افراد حقیقی اسلام ہی سے نابلد ہونے کے نتیجہ میں کسی اور کا لقمہ تر بنے ہوئے ہوں۔کچھ ایسے لوگوں کا لقمہ تر جن کے وجود کا مقصد ہی اسلام،اسلامی تعلیمات اور اس کے فروغ میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔اس واقعہ اور ان جیسے دیگر واقعات کے پس منظر میں لازماً اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ چند لوگ اسلام کا نام لے کر ہر دو محاظ پر مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں؟کیونکہ جن لوگوں نے یہ واقعہ انجام دیا،بقول شخصے وہ ان پر جاری ظلم کا بدلہ تھا،لیکن بدلہ کس سے لیا جائے اور کس سے نہیں۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ اسلام اس کی واضح تعلیم دیتاہے۔بدلہ تو صرف اُس شخص ہی سے لیا جا سکتا ہے جس نے ظلم کا ارکتاب کیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہی نہیں ،ان سے کیونکر بدلہ لیا جا ئے گا؟اس پس منظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس حملہ کے پیچھے بھی غیر اسلامی سوچ کرفرما رہی ہے۔ اور وہ لوگ جو بظاہر اسلام کا نام لے کر یہ اور ان جیسے دیگر غیر شرعی و غیر اسلامی کاموں میں ملوث ہیں وہ نہ اسلام اور نہ ہی مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اُن لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو اسلامی نظام اور اسلامی تعلیمات سے بغض رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ہندوستان میں تحفظ اقلیت کے عالمی دن کو مناتے ہوئے ایک طرف حکومت ہند،اقلیتوں کی ترقی و خوشحالی کی بات کرتی ہے ۔تو دوسری جانب دھرم جاگرن سمیتی کے علاقائی سربراہ راجیشور سنگھ کھلے عام کہتے ہیں کہ 31؍دسمبر2021سے قبل ،ملک مسلمانوں اور عیسائیوں سے پاک ہو جائے گا۔وہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم نے اب تک تین لاکھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوبارہ ہندو بنایا ہے۔اور ان کی تنظیم ملک کو ہندو راشٹربنانے کے لیے پر عزم ہے۔ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان یا عیسائی بننے والوں کے لیے ہمارے دلوں میں نرم گوشہ ہے اور ان کو دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کے لیے تمام سہولیات دی جائیں گی۔ اس دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری محمد عبد الرحیم قریشی کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار دراصل ان پروگراموں اور بیانوں کے ذریعے ملک کے عوام اور بالخصوص مسلمانوں کی آڑ میں تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیونکہ سنگھ پریوار اس بات سے خوفزدہ ہے کہ بہت سے ہندو اسلام کی صداقت اور سچائی سے متاثر ہوکر ہندو دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کر رہے ہیں۔

دراصل اس رجحان کو روکنا سنگھ پریوار کا مقصد ہے اوراسی لیے یہ فضا پیدا کی جا رہی ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ تبدیلی مذہب پر ہم کوئی پابندی نہیں چاہتے۔اگر کوئی شخص جس کا نام مسلمانوں جیسا ہو،بغیر دباؤ اور بغیر لالچ کے اپنی مرضی اور خوشی سے ہندو بنتا ہے تو ہمیں کو ئی اعتراض نہیں ہے۔کیونکہ ہم کو یقین کامل ہے کہ مسلمان صرف اپنے پیدا کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔لہذایک مخلوق دوسری مخلوق کی عبادت پر کبھی بھی آمادہ نہیں ہو سکتی۔ ادھر اجودھیا کے بڑے سادھوؤں نے آر ایس ایس اور اس سے متعلق تنظیموں کی طرف سے جبراً تبدیلی مذہب کرانے پر نہ صرف سخت اعتراض کیا ہے بلکہ کہا ہے کہ ان حرکتوں سے ملک میں تقسیم کی سیاست کو تقویت ملے گی۔

یہ بات بھی آپ کے علم میں رہنی چاہیے کہ آل انڈیا اکھاڑہ پریشد میں کل ۱۳؍اکھاڑے شامل ہیں ۔جس میں ۷؍شیو، ۳؍ویشنو اور ۳؍سکھوں کے ہیں۔کونسل کے صدر گیان داس کا شمار اجودھیا کے سب سے زیادہ با اثر سادھوؤں میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مذہب ایک ذاتی عقیدہ ہے، کسی کو اس میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔آر ایس ایس اور اس سے منسلک ونگ اقلیتوں کی جبراً تبدیلی مذہب کرواکر سخت جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔یہ مجرم ہیں اور ان پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔مسلمانوں کے تعلق سے تصویر کایہ دوسرا رخ ہے۔جس کی نہ صرف تعریف کی جانی چاہیے بلکہ اس غلط فہمی کو بھی دور کرنا چاہیے کہ ،ہندوستان کا رہنے والا ہر ہندوفرقہ پرست ہے اور اقلیتوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔یہاں اسی ملک میں ایسے بے شمار غیر مسلم دوست و احباب اور برداران وطن موجود ہیں،جو فرقہ پرستی کو نہ صرف برا سمجھتے ہیں بلکہ اس کے خلاف کھلے عام اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔

اس صورتحال کے پس منظر میں اگر یہ بات سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ یہ ممالک ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہیں یا تنزلی کی طرف۔تو اس سے قبل یہ جاننا اہم ہوجائے گا کہ ترقی و خوشحالی دراصل ہے کیا؟ہمارے خیال میں کسی بھی ملک کے نظم و نسق،ترقی و خوشحالی اور ارتقاء کو سمجھنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ متعلقہ ملک میں اقلیتوں اور سماجی اعتبار سے کمزور طبقات و گروہ کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے۔اگر ملک کی اقلیتیں اور کمزور طبقات خوشحال ہیں تو سمجھئے وہ ملک حقیقی ارتقار ء کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔ خوشحالی اور کامیابی کے ضمن میں کہا جاسکتا ہے کہ خوشحالی سے مراد فرد یا گروہ کو ملنے والے وہ تمام اختیار ات ہیں جن کی بنا پر وہ ہمہ جہت ترقی کر سکیں۔اس ترقی میں بنیادی نکتہ مذہب آزادی اہم ہے۔ اور نظریات کی ترسیل اس کا دوسر اجز ہے۔کامیابی سے مراد علمی ،فکری اور اخلاقی اقدار کا فروغ ہے ۔ یہی وہ دو بنیادیں ہیں جن کی بنا پرزماں و مکاں کی قیود سے باہر وسائل زندگی کو بخوبی استعمال کرتے ہوئے ہر ملک اپنی معیشت مستحکم کرتا ہے ساتھ ہی سائنس و ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کیا جاسکتا ہے۔

خوشحالی و کامیابی کے ان دو مفروضات پر آگے بڑھتے ہوئے موجودہ دور میں یا اس سے قبل ترقی یافتہ قوموں اورملکوں پر نظر ڈالیں تو صاف محسوس ہوگا،کہ کہیں نہ کہیں ان دو بنیادی نکتوں کی بنا پر مختلف قومیں ، نظریات اور اس کے حاملین ترقی سے دوچار ہوئے ۔ اور اِن کو چھوڑنے یا نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں تنزلی میں مبتلا ہوگئے۔اقتدار آیا اور گیا بھی،ملک فتح ہوئے اور چھینے بھی گئے ،غلامی کی زنجیریں کبھی کٹیں توپھر بیڑیاں پہنائی بھی گئیں،یہ سلسلہ جاری رہا،یہاں تک کہ فرد و گروہ ایک حالت سے نکل کر دوسری حالت میں جا تے رہے۔

گفتگو کے پس منظر میں یہ سوال بھی اہم بن جاتا ہے کہ کیا ایک کامیاب اور فاتح قوم ہمیشہ اُن اعلیٰ صفات سے متصف رہتی ہے ،جن کی بنا پر کسی زمانے میں وہ کامیابی سے دوچار ہوئی تھی؟اس کا ایک جواب تو ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال کے باب میں یہ دیا ہے کہ ہر فاتح قوم کے تین ادوار ہوتے ہیں۔پہلا وہ جبکہ وہ بے دریغ قربانیوں کے نتیجہ میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔دوسرا:کچھ عرصہ ہی گزرتا ہے کہ قربانیاں دینے والے آنکھوں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں اور موجود لوگ آسائش میں مبتلا ہوکرکامیابی کے اصول کو بھلا بیٹھتے ہیں۔اور تیسرا دور وہ ہوتا ہے جبکہ حقیر و ذلیل لوگ مسندوں پر آبیٹھتے ہیں۔ یہ لوگ قربانیوں اور اعلیٰ صفات سے بالکل ہی نابلد ہوتے ہیں۔ظلم و زیادتیوں کا دور دورہ ہوتا ہے اور ایک بار پھر کوئی دوسرا گروہ عظیم قربانیاں دیتے ہوئے کامیابی سے دوچار ہو تا ہے۔

ابن خلدون کے تجزیہ کے علاوہ مختصر ترین دوسرا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بحیثیت قوم ایک گروہ کے معیار اخلاق میں جس رفتار سے تنزلی آتی ہے ٹھیک اسی رفتا رسے کامیابی بھی ناکامی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اخلاقی تنزلی کے باوجود مخصوص گروہ برسر اقتدار رہتا ہے یہاں تک کہ کوئی دوسرا گروہ اخلاقی اعتبار سے اس پر فوقیت حاصل نہ کر لے۔آج مسلمانوں کو اپنے اخلاقی معیارات پر لازماً توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ یہی توجہ، غور و فکر اور تبدیلی ، کل آپ کو ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ایک ایسی کامیابی جہاں ہر فرد امن سے رہے گا اور شاد آباد ہوگا۔