“ میں تو مر گئی ہوں “

  • سوموار 22 / دسمبر / 2014
  • 4682

۔ انکل آپ کا نام کیا ہے۔
۔ میرا نام رضوان ہے بیٹے۔ اور تمہارا۔
۔ میں ارم ہوں۔ اور یہ میرا بھائی ہے۔۔خُرم۔
۔ تم اسکی بڑی بہن ہو ناں!
۔ جی انکل۔ میں چھہ سال کی ہوں اور یہ پِدو ابھی چار سال کا ہے۔
کل اسکی برتھ ڈے بھی ہے۔۔
۔ کوئی گفٹ خریدا تم نے اس کے لئے۔
۔ نہیں ! آج جاؤں گی لینے امی کے ساتھ مارکیٹ۔
۔ کیا لو گی۔
۔ میں آپ کے کان میں بتاتی ہوں۔ سرپرائز دینا ہے ناں۔ نہیں تو یہ سن لے گا۔ بڑا چالاک ہے۔
ہیلی کاپٹر لوں گی۔ ریموٹ کنٹرول والا۔
۔ واؤ ! یہ چلا لے گا ۔ کیا خیال ہے۔
۔ میں سکھا دوں گی ناں اس کو۔ مجھے تو آتا ہے چلانا۔ میں تو کمپیوٹر گیمز بھی کھیل سکتی ہوں۔
۔ ویری گڈ۔ اچھا یہ بتاؤ اب کونسی کلاس میں ہو تم۔
۔ ابھی تو کلاس ٹُو میں ہوں۔ روزانہ سٹار ملتے ہیں مجھے۔ ہاں جی ! ہوم ورک پر بھی۔
اور انکل رضوان میں آپ کو بتاؤں پچھلے سال میں فرسٹ بھی آئی تھی کلاس میں۔
۔ واہ بھئی واہ ! شاباش۔ تم تو بڑی ذہین ہو بھئی۔
۔انکل میں پائلٹ بنوں گی بڑی ہو کر۔
۔ ہیلی کاپٹر چلا لو گی۔
۔ میرا دل تو جہاز چلانے کو کرتا ہے۔ وہ بڑے والا۔ جیسے پی آئی اے کے ہیں ناں۔ وہی والا۔
۔ ڈرو گی تو نہیں۔
۔ نہیں جی ! میں نہیں ڈرتی۔ میں تو دو دفعہ کراچی جا چکی ہوں امی ابو کے ساتھ۔ اسی بڑے والے جہاز پر۔
یہ پدو بھی ساتھ تھا۔ بہت تنگ کرتا ہے مجھے۔ میں نے کہا مجھے ونڈو کے ساتھ بیٹھنے دو ۔ کہتا ہے نہیں میں خود بیٹھوں گا۔ بڑا ضدی ہے۔

۔ اچھا یہ سارے بچے تمہارے سکول کے ہیں ناں۔
۔ جی انکل ! ساری کلاسوں کے ہیں۔ وہ ہماری مس ہیں وہ شال والی ۔ بہت پیار کرتی ہیں ہمیں۔
اور وہ جو ادھر کھڑی ہے ناں۔۔ وہ جس کی یونیفارم اور منہ پر لال رنگ لگا ہؤا ہے۔ وہ نازلی ہے۔
میری بیسٹ فرینڈ۔ میرے ساتھ ہی بیٹھتی ہے ڈیسک پر۔
وہ تو انجینئر بنے گی۔ اسکے ابو بھی انجینئر ہیں آرمی میں۔
۔ تم سارے بچوں کو جانتی ہو سکول میں۔
۔ سینیئر کلاسوں کے بچے تو بڑے پراؤڈ ہیں۔ جونیئر کلاسوں کے سارے بچوں کو جانتی ہوں۔ ہم سب ساتھ ہی کھیلتے ہیں ناں۔
وہ جو فرح ہے ناں۔ وہ جس کے بالوں اور گردن پر لال رنگ لگا ہو ہے۔ یونیفارم پر بھی۔ مجھے نہیں اچھی لگتی۔
گیم میں چیٹنگ کرتی ہے موٹی۔
۔ تم تو چیٹنگ نہیں کرتیں۔۔ ارے ! یہ تم ہنس کیوں رہی ہو۔ کرتی ہو ناں۔
۔ انکل کرتی ہوں کبھی کبھی۔ اور یہ پدو بھی کرتا ہے۔ لیکن اسے تو ابھی گیم کھیلنی آتی ہی نہیں۔
میں تو مذاق مذاق میں کھیلتی ہوں اس کے ساتھ۔ ہر دفعہ جیت جاتا ہے۔ نہ کھیلوں تو رونے لگتا ہے ۔ روندو کہیں کا۔
اب دیکھیں ساری یونیفارم پر لال رنگ لگا کر آ گیا ہے۔ امی کپڑے چینج کرتی ہیں پھر میلے کر دیتا ہے۔ پھر چینج کرتی ہیں پھر میلے کر دیتا ہے۔
بہت تنگ کرتا ہے سب کونواب صاحب۔

۔ میری یونیفارم پر لال رنگ!!! جی انکل رضوان ۔ سوری۔ ہم تو صاف یونیفارم پہن کر سکول گئے تھے۔
پھر پتہ نہیں وہ پانچ چھہ انکل کہاں سے آ گئے۔ بہت اونچا اونچا بول رہے تھے۔
ہم سب بچے ڈر کر رونے لگے تو ایک ڈاڑھی والے انکل میرے پاس آئے اور بولے کلمہ سناؤ۔
مجھے تو کلمہ آتا ہے ناں انکل۔ میں تو پانچویں سپارے پر ہوں۔ نازلی بھی میرے ساتھ کھڑی تھی۔ انکل انہوں نے نازلی کا منہ کھول کر اس میں بندوق کی نالی ڈال دی۔
انکل میں تو ڈر کر ڈیسک کے نیچے چھپ گئی تھی، پر ڈاڑھی والے انکل نے مجھے کھینچ کر وہاں سے نکلا اور میری گردن پرا تنا بڑا چھرا رکھ دیا۔
میں نے کہا۔۔ انکل نہ کریں ۔۔ نہ کریں ۔ پلیز نہ کریں بہت درد ہو رہا ہے۔
انکل انہوں نے ہماری مس کو بھی آگ لگا دی۔ انکل وہ سارے انکل بہت غصے میں تھے۔ پھر وہ زور زور سے گولیاں چلانے لگے۔
ہم سب کے کپڑے لال ہو گئے تھے انکل۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا رہا تھا۔ بہت درد ہو رہا تھا انکل رضوان۔ بہت درد ہو رہا تھا۔

لیکن انکل آپ کیوں رونے لگے۔ آپ تو اتنے بڑے ہیں۔
انکل اب میں پائلٹ کیسے بنوں گی۔
میں تو مر گئی ہوں۔