دَرد اور دوا

  • منگل 23 / دسمبر / 2014
  • 4109

132 بچوں کا قتل، ان کے سر قلم کرنے کی وحشت، ان کے اساتذہ کو زندہ جلانے کا حیوانی عمل سر زمینِ پاکستان پر سر زد ہؤا۔ نہ تو یہ کوئی حادثہ تھا، نہ کسی پاگل کا عمل۔ یہ مدت سے اطلاع شدہ واقعہ تھا۔ ہر وہ شخص جو دہشت گردوں کی منطق سے تھوڑی بہت شناسائی رکھتا ہے، جانتا ہے کہ جب دہشت گرد عناصر کے مرکز پر ضرب لگائی جائے اور اس طرح ان کی قوت کم ہو جائے تو وہ تمام اصولوں اور قواعد کو بھول کر اپنے دشمن کےکمزور پہلوؤُں پر ضرب لگاتے ہیں۔ وہ اوچھی حرکتیں کرتے ہیں۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس امر پر ضرور غور کیا ہو گا کہ جب آپریشن ضربِ عضب کے نتیجہ میں دہشت گرد اپنے گڑھ میں کمزور ہو جائیں گے تو وہ پاکستانی معاشرہ کے کمزور پہلوؤں پر ضرب لگائیں گے۔ اگر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے یہ تجزیہ تیار نہیں کیا تھا، یا اگر یہ تجزیہ کرنے کے بعد ممکنہ صورت احوال کے لیے خود کو اور ملک کو تیار نہیں کیا تھا تو یہ سیکیورٹی فورسز کی نااہلی کا ناقابلِ فراموش اور مجرمانہ رویہ ہے۔

ایسے رویے مہذب ممالک میں متعلقہ اہلکاروں کے استعفوں پر منتج ہؤا کرتے ہیں۔ لیکن اس لہر میں صرف سرکاری اہلکار ہی نہیں متعلقہ وزراء اور بعض اوقات ساری کی ساری حکومتوں کو جانا پڑتا ہے۔ تاہم 150 کے قریب جانوں کے اتلاف کے باوجود پاکستان سے ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ کسی اہلکار یا سیاستدان نے اپنی نااہلی کا اعتراف کیا ہو، قوم سے اپنی کوتاہی کی معافی مانگی ہو اور اپنا استعفیٰ پیش کیا ہو۔ نواز شریف کا استعفیٰ مانگنے والوں کو خبر ہو کہ اگر ان کو نواز شریف کا استعفیٰ مانگنے کا اب بھی شوق ہے تو یہ غفلت  حکومت کو برطرف کرنے کا جائز نکتہ ہے۔

اس کے برعکس یہ ہؤا ہےکہ جاہل سیاستدانوں اور سول اور فوجی اہلکاروں نے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسے ایک سفاکانہ راستہ پر ڈال دیا ہے۔ بزرجُہروں نے اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قوم کو یہ خوشخبری سنائی کے کہ ملک میں سزائے موت پر خودساختہ پابندی اٹھا کر سزائے موت کی کوٹھڑیوں میں بند مجرموں  کو پھانسی لگائی جائے گے۔ یہ فیصلہ اتنی عجلت سے کیا گیا ہے کہ چند روز کے اندر پانچ انسانوں کو پھانسی گھاٹ پہنچا دیا گیا ہے۔ سارا ملک جیسے ٹرانس میں آ گیا ہے۔ ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ چند درجن انسانوں کو پھانسی دے کر دہشت گردی اور دہشتگردوں کا قلع قمع کیا سکتا ہے۔

ہمیں کسی دہشت گرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ میں پچھلے تیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ یہ انتہا پسند انسانیت کے لئے بھیڑیے اور تہذیب پر زہر آلود دھبہ ہیں۔ میں اکیلا نہیں، بہت سے اہلِ نظر اور اہلِ درد اُس وقت سے اس کینسر کی نشاندہی کر رہے ہیں جب طالبان نے کابل پر حکومت قائم کی تھی اور کابل کی گلیوں میں کالی حکومت قائم کی تھی۔ ہمیں اسی وقت سمجھ جانا چاہیے تھا کہ یہ لوگوں انسانوں کی شکل میں بھیڑیے ہیں۔ لیکن اس وقت بینظیر بھٹو کی حکومت نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر کے اپنی کوتاہ نظری کا اعلان کیا۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ بینظیر بھٹو کی جگہ اگر میاں نواز شریف یا جنرل پرویز مشرف کی حکومت ہوتی تو وہ کیا رویہ اختیار کرتے، لیکن گمان غالب ہے کہ کوئی بھی حکومت ہوتی پالیسی یہی ہوتی کیونکہ پالیسی ساز جی ایچ کیو تھا۔ اور کس کی مجال ہے جو ظلِ الٰہی چیف آف آرمی سٹاف کی حکم عدولی کرے۔ سرکار کا حکم تھا سو بجا لایا گیا۔ لیکن یاد رکھنے کی بات ہے کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے صرف تین ممالک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور پاکستان ان تین میں سے ایک تھا۔

جب طالبان نے اپنا زہر پاکستان میں اگلنا شروع کیا،  پاکستان کو اپنا اپنا بیجا ہؤا کاٹنا پڑا تب بھی دیانتداری اور دور رسی سے کام نہیں لیا گیا۔ تب بھی حیل و حجت کا رویہ اپنایا گیا اور شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا کر امید کی گئی کہ قوم اس زہر سے محفوظ رہے گی۔

آج پاکستان کے ہر شہری کو پوری قوت سے حکومت سے تقاضہ کرنا چاہیے کہ وہ طالبان کا قلع قمع کرے اور صمیمِ قلب سے ان تمام قوتوں کی پشت پناہی کرنا چاہئے جو اس سانپ کا سر کچلنے کا کام کررہی ہیں۔

لیکن اس نازک دور میں یہ خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس عمل میں حاکم، قوم کو کھجور سے اتار کر کھائی میں نہ پھینک دیں۔ حکومتِ پاکستان نے سزائے موت پر لگائی ہوئی پابندی اٹھا کر قوم کو غلط راستہ پر ڈال دیا ہے۔ اس مؤقف کے کم از کم تین دلائل موجود ہیں:

1۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ سزائے موت کے خوف سے یہ لوگ دہشت گردی سے باز آ جائیں گے تو یہ کم علمی اور نااہلی کا ثبوت ہے۔ وہ لوگ جو گھر سے سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں انہیں آپ سزائے موت سے کیا ڈرائیں گے۔ یہ لوگ تو موت کو اس شہادتِ عظمیٰ پر فائز ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں جس کا چکمہ ان کو سفاک اور کم علم ملاؤں نے دے رکھا ہے۔ موت کسی طرح بھی آئے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جان جہاد میں گئی ہے اور وہ اپنے آپ کو جنت کا حقدار سمجھتے ہیں۔

2۔ اس کے برعکس سزائے موت کے رائج کر نے سے، اور اس وقت رائج کرنے سے جب قوم پشاور کے زخموں سے چور ہے، حکومت نے قوم کے اس مزاج کو تقویت دی ہے جہاں عفو، احسان اور صلہ رحمی پہلے سے ہی تقریباً تقریباً ناپید ہے اور جہاں انتقام اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رواج ہے۔ پاکستانی قوم بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے متشدد مزاج ہے اور اپنے ہر عمل میں طاقت اور تشدد سے کام لیتی ہے۔ پاکستان میں طالبان کو اور طالبانی سوچ اور نظریات کو اتنی تقویت حاصل ہونے کی وجہ ہی یہ ہے کہ یہاں متشدد مزاجی کے لیے زمیں ہموار تھی۔ ایسے میں قوم کو نئے سرے سے خون کا مزا چکھانا ایسے ہی ہے جیسے کسی نشئی کو ایک نئے نشے کے ذریعہ پرانے نشہ سے ہٹانے کی کوشش کی جائے۔

3۔ پاکستان کا محکمہ پولیس اور نظامِ عدالت کتنا بدعنوان ہے اس پر لمبی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں مجرم رشوت کی مدد سے پولیس کی دست اندازی سے باہر ہو جاتا ہے اور معصوم انہی سکّوں کے نہ ہونے سے مقدموں کی رسی میں جکڑا جاتا ہے۔ یہاں اب لوگ وکیل نہیں کرتے جج کر لیتے ہیں۔ ایسے بدعنوان نظام میں سزائے موت جیسی سزا جس کوموڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے، معصوموں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

کون ہے جو دل پر ہاتھ رکھ کر یہ گواہی دے گا کہ سزائے موت پانے والے سبھی لوگ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق، صادق اور امین گواہوں کے سچی گواہی اور پولیس کی دیانتدارانہ تفتیش کے نتیجے میں ہی سزا کے حقدار پائے تھے؟ تو ان میں جو بے گناہ پولیس کی بدعنوانی، گواہوں کے خیانت اور عدلیہ کے بک جانے کی وجہ سے پھانسی پر چڑھیں گے انکا خون کا کس کی گردن پر ہو گا؟

4۔ پاکستان دنیا بھر میں تنہائی isolation کا شکار ہے۔ پاکستان کی ساکھ دنیا بھر میں کمزور ہے۔ ایسے میں سزائے موت کا نفاذ پاکستان کو اس تنہائی سے نکالنے میں مدد نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کو مزید تقویت دینے کے کام آئے گا۔

پاکستان کا ایک مدت سے بڑا مسئلہ صلہ رحمی، عفو، احسان اور اخوت کی کمی اور تشدد، انتقام اور دھونس دھاندلی ہے۔ پاکستان کی قیادت پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے خود احسان اور محبت کا سبق سیکھے اور قوم کے سامنے محبت کی مثال بن کرآئے۔ بہت سے لوگ قرآن کو سزائے موت کے نفاذ کےلئے گواہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ بے شک قرآن سزائے موت کی اجازت دیتا ہے، لیکن قرآن احسان کا حکم بھی دیتا ہے۔

حضور انور ﷺ سے زیادہ قرآن کوئی نہیں جانتا۔ آپ نے جب خطبۃ الوداع میں انتقام پر لکیر پھیری اور سب سے پہلے اپنے چچا کا خون معاف کیا تو یقیناً یہ عمل قرآن کے عین مطابق تھا۔ اسی طرح جب حضور مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو آپ انتقام لے سکتے تھے اور ان سروں کی کمی نہ تھی جنہیں انصاف کے عین تقاضوں کے مطابق تنوں سے جدا کر دیا جاتا۔ لیکن حضور نے اس دن بھی صلہ رحمی کو ترجیح دی۔ قرآن و سنت کی دہائی دینے والوں کو یہ نظر کیوں نہیں آتا۔

دنیا میں امن نہ کبھی پہلے تشدد سے قائم ہؤا ہے نہ کبھی آئندہ ہو گا۔ تشدد سے صرف یہ ہوتا ہے کہ تشدد کرنے والوں کی نفسیات مزید متشدد ہو جاتی ہے۔ آج کے پاکستان کو مزید تشدد کی ضرورت نہیں۔ اسے محبت کی ضرورت ہے۔ 

(اختر چوہدری ناروے کے ممتاز پاکستانی نژاد سیاستدان اور نارویجئین پارلیمنٹ کے سابق رکن اور ڈپٹی اسپیکر ہیں)