اعتماد سازی ضروری ہے

  • بدھ 24 / دسمبر / 2014
  • 4384

اگر یہ کہا جائے کہ وطن عزیز اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ قیام پاکستان کے وقت لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں تک کو بے گورو کفن اس لئے چھوڑ کے پاکستان آئے کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ آزاد وطن ہی ان کی منزل ہے۔  لیکن وہ اب تک اس منزل کو کھوج رہے ہیں۔

2001ء میں 9/11 کے واقعے کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہو گیا۔ یہ شمولیت ملک کے حق میں تھی یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان محتاط اندازوں کے مطابق50000سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کر چکا ہے۔ یہ نقصان ماضی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی سب جنگوں میں پہنچنے والے نقصان سے بھی زیادہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زیادہ نقصانات 2004 کے بعد ہوئے ۔ گویا پاکستان کو اتنا نقصان بیرونی محاذ پر نہیں ہوا جتنا اندرونی محاذ پہ ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور نقصانات کی تازہ کڑی ہے۔

اس قدر شدید نقصان کے بعد پاکستان کی بقاء کے لیے یہ جنگ بہت اہمیت اختیار کر گئی۔ اس سلسلے میں بہت سے آپریشنز کیے گئے۔ جس میں زیادہ اہم راہِ حق (2007) سوات، راہِ راست (2009 ) سوات،شمالی وزیر ستان میں 2004 سے جاری کشمکش،اور راہ نجات(2009) جنوبی وزیرستان ہیں۔ اس کے علاوہ سرجیکل اسٹرائیکس یعنی مطلوب افراد کے خلاف کاروائیاں بھی وقتاً فوقتاً کی جاتی رہی ہیں۔ فورسز پر حملوں کی یہ توجییہ پیش کی جاتی رہی ہے کہ فورسز دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں اس لئے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

اب پشاور میں نہتے ، معصوم بچوں کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس پر پوری دنیا کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ پوری دنیا معصوم بچوں کے ساتھ بر بریت پر انگشت بدندان ہے۔جو ظلم پشاور میں ان بچوں کے ساتھ کیا گیا اس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تویہ وار صرف معصوم بچوں پر نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کی ترقی پر کیا گیا اور اس وار سے یہ کوشش کی گئی کہ پاکستان کو پتھر کے دور کی طرف دھکیلا جائے۔ اس میں بظاہر تو بعض تنظیمیں ملوث ہیں لیکن اس اندیشے کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ یہ ایک حملہ کسی عالمی سازش کا حصہ ہو۔ تاکہ پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھا جائے۔

پاکستان میں نہ صرف تعلیم بلکہ صحت، سیاحت، معاشی ، توانائی غرضیکہ ہر شعبے پر چن چن کر حملے کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں مصروف عمل چینی انجینئرز پر حملے سے ایک تیر سے دو شکار کیے گئے۔ ممتاز ڈاکٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ قابل اساتذہ کو ہم سے جدا کیا گیا۔ اس لئے یہ جنگ شاید اب صرف دو فریقوں کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ بہت سے دشمن مل کر وطن عزیز کو نہ صرف ترقی میں پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں بلکہ اس کا مقام اقوام عالم میں بھی گرانا چاہتے ہیں۔ اور اسے دنیا کا ایک غیر محفوظ ترین ملک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ان تمام حالات میں اب سوچنا یہ ہو گا کہ کیا دشمنوں سے نمٹنے کے لئے صرف مخصوص آپریشنز یا سرجیکل اسٹرائیکز ہی کافی ہیں۔ اس وقت پاکستان کو سنگین حالات درپیش ہیں۔ ان حالات میں آپریشن نہیں بلکہ میجر سرجری کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ آپریشن صرف مخصوص خطے کو بہتر کرتا ہے۔ لیکن اس وقت پورے ملک کے حالات قابل اصلاح ہیں۔ دہشت گردی کا ناسور شہری علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ وزیر داخلہ کے بقول مدارس برے نہیں ہیں۔ لیکن اگر 90فیصد ٹھیک مدارس پر صرف 10فیصد ایسے مدارس حاوی ہو گئے ہیں جو شدت پسندی کی ترویج کر رہے ہیں تو پورے ملک میں ایمرجنسی لگا کر سرجری کی ضرورت ہے۔ جب اقلیت کی سوچ اکثریت پر حاوی ہو جائے تو پھر صرف آپریشن کارگر نہیں ہو سکتا۔ اور ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہو گی کہ آپریشن یا سرجری صرف دہشت پسند عناصر کی ہونی چاہیے۔ بلکہ یہ سرجری ملک کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔

عدلیہ کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے تا کہ بروقت فیصلے ہو سکیں اور سزاؤں پر عمل در آمد کے لیے لمبا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ملزم سے مجرم ہونے کا عمل جتنا تیز ہو گا اتنا ہی حالات بہتری کی طرف جائیں گے ۔ شعبہء پولیس کی سرجری کر کے ملکی حالات کو بہتری کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو تمام شعبوں اور بالخصوص پولیس کے محکمے میں رویوں کو بدلنا ہوگا۔ تاکہ یہ شریف النفس شہریوں کی بجائے ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کر سکے۔ اس سلسلہ میں پولیس کی بہتر تربیت کی ضرورت ہے۔

نئی حکمت عملی کا سب سے اہم حصہ فورسز کے عوام کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جنگ کبھی بھی عوام کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی ۔ عوام کا تعاون حاصل کرنے کے لئے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ عوام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے ۔ انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ پولیس والا جب عام آدمی کو روکتا ہے تو اسے کیڑا مکوڑا سمجھتا ہے۔ اس صورت میں کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ عوام ان کا ساتھ دیں گے۔ باقی فورسز کے بارے میں عوام کا تاثر نسبتاً بہتر ہے۔ لیکن اکثر وی آئی پی موومنٹ کے وقت ان کا رویہ بھی ایسا ہو جا تا ہے کہ عوام کے دل میں احترام کی جگہ غصہ لے لیتا ہے۔ اس لئے ایک بات ذہن نشین کرنا اہم ہے کہ اگر یہ جنگ جیتنی ہے تو عوام کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کریں۔ عوام اور فورسز میں اعتماد بحال کرکے یہ جنگ بھی جیتی جا سکتی ہے ورنہ ہم جانوں کے نذرانے ہی دیتے رہیں گے۔