پاکستان کی بقا کے لئے

  • ہفتہ 27 / دسمبر / 2014
  • 4739

اگر عالمِ اِسلام کے رہنما واقعی اُمّتِ مُسلمہ سے محبّت کرتے اور وہ اقوامِ عالم میں اُمّتِ مُسلمہ کو سرفراز و سربلند دیکھنے کے متمنی ہوتے تو وہ اپنے پرانے طرزِ عمل کو تج کر ایک نئی پیش رفت کی بنیاد ڈالتے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے ۔

عالمِ اسلام کی حالت یہ ہے کہ اُمّت پریشاں خیالی اور بہیمانہ تشدد کا شکار ہے ۔ طالبان ، داعش ، شبابِ ملّی اور بوکو حرام جیسی مادر پدر آزاد اور بے لگام تنظیموں نے ہر طرف غدر مچا رکھا ہے اور اُن کے پاس اپنے ناروا اقدامات اور دہشت گردی کے ہزارہا شرعی جواز اور وضاحتیں ہیں ۔

اِن تنظیموں نے عالمِ اسلام میں ہر جگہ اور عالمِ اسلام سے باہر آباد مسلمان بستیوں میں بھی اپنے انڈے بچّے دے رکھے ہیں ۔ صرف پاکستان ہی میں جیشوں ، جِندوں ، جتھوں اور لشکروں کے نام پر بیسیوں مسلح گروہ تباہی اور موت تقسیم کرنے پر ( مامور من اللہ ) ہیں ۔ ہے نا یہ خُدا کی خُدائی سے بدترین مذاق کہ رضائے الٰہی اور ناموسِ رسالت کے نام پر پاکستان کی آنے والی نسل کا خاتمہ کر دیا جائے ۔

اِس بدقسمت زمانے میں بچوں کو بہت بُرے دن دیکھنے پڑے ہیں ۔ فلسطین ، عراق ، شام ، افغانستان اور پاکستان تو خیر بدقسمت خطے ہیں ہی مگر سکولوں اور کانفرنسوں میں بچوں اور نوجوانوں کو ہلاک کرنے والے قاتل ناروے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی موجود ہیں جو سکول کے بچوں اور میدانِ عمل میں قدم رکھنے والے نوجوانوں میں موت کی ٹافیاں بانٹتے رہتے ہیں ۔

موت کے اس کھیل میں سب سے حیران کُن اور سفاکانہ رویہ اُن علما ء کا ہے جو پشاور میں بچوں کے وحشیانہ قتل کو روا جانتے ہیں ور اُس کی تائید میں شرعی حوالے پیش کرتے ہیں ۔ اُن کے اِس فلسفے کو سُن کر جنگلوں کے وحشی بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں مگر اُن کو ذرا بھی شرم نہیں آتی ۔

تعجب تو یہ کہ لگ بھگ تمام مسلمان ممالک میں ، جہاں اسلام کو امن کا دین قرار دینے والوں کی واضح جمیعت موجود ہے ، اس دین مبین کے پرچم تلے قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے ۔ حق و صداقت کے نام پر کمزور طبقوں کا استحصال ہوتا ہے ۔ عامتہ الناس طرح طرح کی مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا ہیں ۔ لکھوکھ ہا لوگ ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی عزت سے میسر نہیں ہے ۔ جمہوریت کے نام پر منظم چیرہ دستی کا دور دورہ ہے ۔ سماجی نا انصافیوں نے عام آدمی کی کھال اُدھیڑ رکھی ہے اور ملک کی مسلح افواج اور مُلک کی رِٹ کو چیلنج کرنے والے آئین کے غداروں کے درمیان ، جنہیں فوج نے اپنی سرپرستی میں پروان چڑھایا تھا ، ضربِ عضب کے نام سے زمینی اورفضائی جنگ جاری ہے ۔

عوام کی صفوں میں شدید ابتری اور ذہنوں میں پریشاں فکری کے گھونسلے ہیں ۔ وہ سخت قسم کی تشدد کی کاروائیوں کا عذاب سہ رہے ہیں ۔ خود کُش بمباروں اور طالبانی دہشت گردوں کی بھرتیوں کے دفاتر کھلے ہیں اور اُن کی روک تھام کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ۔ فرقہ وارانہ نفرت کا قابلِ قبول جواز فراہم کیا جاتا ہے ۔ ہر فرقہ دوسرے فرقے کو گردن زدنی قرار دے کر اُس کے لہو سے ہولی کھیلنا کارِ ثواب سمجھتا ہے ۔ ان حالات میں زندگی سے راہِ فرار اختیار کرنے کی ہر صورت قابلِ قبول نظر آتی ہے ۔ نوجوان طبقہ بے روزگاری کی وجہ سے جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہو کر سڑکوں پر کھلی رہزنی سے لے کر مسلح بنک ڈکیتیوں تک میں شامل ہونے کو جائز سمجھتا ہے ۔

حکومت موجود ہے لیکن اُس کے پاس حکومتیت نہیں ہے جسے رِٹ کہتے ہیں ۔ حکومت کی رِٹ طالبان ، خود کش بمباروں ، ہدف بنا کر قتل کرنے والوں ، بھتہ خوروں اور بجلی چوروں نے موقوف کر دی ہے ۔ حکومت اور عوام اس ساری صورتِ حال سے آگاہ ہیں لیکن پریشاں فکری اور غیر یقینی حالات کی بنا پر کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ کسی کو کیا کرنا ہے ۔ کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ اس وقت معاشرے کے کون سے حصے یا ادارے کو کون سا رول ادا کرنا ہے ۔ کسی سیاسی عمل میں براہِ راست شریک ہونا ہے یا پھر راہِ فرار اختیار کر کے اپنی داخلی تنہائی میں چھپ کر اور دم سادھ کر بیٹھ جانا ہے ۔

اس افراتفری میں کچھ لوگ پرانے مذہبی خیالات کو دوہرا کر سید مُنّور حسن کی طرح قتال فی سبیل اللہ کی بات کرتے ہیں اور کچھ اُن کی مخالفت میں مروجہ اخلاقیات کی ساری حدیں پھلانگ جاتے ہیں ۔ ہر سیاسی اور مذہبی جماعت اور فرقہ اپنے اپنے تعصبات کی بھاری گٹھڑیاں اُٹھائے نا معلوم سمت میں چلتا چلا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر مذاکرات کی چکی پیس پیس کر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں ۔ اسحاق ڈار اور شاہ محمود قریشی کی مذاکرات کی مادہ خر ابھی تک دھاندلی کی دلدل میں پھنسی ہے ۔ الطاف بھائی لندن والے روز مؤقف بدلتے ہیں اور مارشل لا کو آوازیں دیتے رہتے ہیں ۔ میڈیا کا گٹر مسلسل اُبل رہا ہے اور وہی پرانے چہرے ٹاک شوز میں اُبکائیاں لیتے دکھائی دیتے ہیں ۔

یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے عام آدمی سوچتا ہے کہ آخر وہ جائے تو جائے کہاں؟ وہ کس طرح سے معاشرے میں ایک ایسی زندگی شروع کرے جو قانون کی بالادستی ۔، انصاف اورامن پر مبنی ہو ۔ ہم تارکینِ وطن جو سمندر پار پاکستانی کہلاتے ہیں ، اپنے وطن سے دور ملکوں ، ملکوں پردیس میں بیٹھے پاکستانی قوم کا دکھ بانٹتے اور زرِ مبادلہ فراہم کر کے حکمرانوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں ۔ مگر ہمارے پاس پاکستان کے مسائل کا شافی اور مجرب حل نہیں ہے ۔

پردیس میں مقیم صحافی ہوں ، ادیب ہوں ، اہلِ علم حضرات ہوں ، پاکستان سے محبّت کرنے والے اِن لوگوں کے پاس کوئی اتھارٹی یا اختیار نہیں ہے جس کو بروئے کار لا کر وہ پاکستانی معاشرت کے اربابِ اختیار کو کوئی مشورہ یا ہدایت دے سکیں کہ پاکستان کو بلاؤں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ سمندر پار پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کو اس بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدگی سے کوئی راہِ عمل وضع کریں تا کہ یہ حشر ٹل سکے ۔ لیکن کیسے ؟

اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ یہ کام ناروے میں اطہر علی ، شہباز طارق ، خالد محمود ، اختر چودھری ، انیس احمد ، سید مجاہد علی اور دوسرے پاکستان دوست دانشوروں کا ہے کہ وہ بزمیں سجانے اور تقریریں کرنے سے ایک قدم آگے بڑھ کر ایک ایسی سمندر پار پا کستانی پارلیمنٹ بنائیں جو پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے کام کرے اور اس بحران کا حل تلاش کرے ۔ وما علینا البلاغ ۔