آفتاب رسالت ﷺ کا سفر آ خرت
- سوموار 29 / دسمبر / 2014
- 7222
12 ربیع الاول کی تاریخ مشہور قول کے مطابق سرور کائنات فخر موجودات سید الاولین والآخرین خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی پیدائش کی بھی تاریخ ہے اور تمام مورخین اسلام اس پر بھی متفق ہیں کہ یہی تاریخ آپ کی سفر آخرت کی بھی ہے۔ بلاشبہ پوری کائنات کے لیے یہ تاریخ سب سے بڑی خوشی کی بھی ہے کہ یہی وہ تاریخ ہے کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس عظیم ہستی کی زیارت سے اس عالم آب گل میں بسنے والی مخلوق کو مشرف فرمایا۔
اور یہی تاریخ اداسی اور غمی کی بھی ہے کہ اسی روز کائنات کی محبوب ترین ہستی جو کہ امت کی آنکھوں کا نور دل کا سرور ذہنوں کا سکون تھے ظاہری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے۔صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ اس روز باوجود اس کے کہ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مگر فراق پیغمبر اور جدائی رسول میں آنکھوں میں جو غم پھیلا ہوا تھا،اس کی وجہ سے مدینہ کی گلیوں میں اندھیری رات نظر آرہی تھی ۔ہر آنکھ اشک بار تھی ۔ ہردل ہجر کے غم میں خون کے آنسو بہارہا تھا ۔
حضور اکرم ﷺ کا سفر آخرت جب قریب آچکا تھا تو بہت سی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوچکی تھیں۔ اور بہت سے اشارات مل رہے تھے کہ آفتاب نبوت کا سفرزندگی اختمام کے قریب ہے۔ جب سورہ فتح کی بشا رت پو ری ہو چکی اور لو گ ضوق در جوق دین اسلام میں دا خل ہو چکے۔ کفر و شرک کی بیخ کنی ہو چکی ۔ فرا ئض نبوت تکمیل پا چکے۔ تواللہ تعالی جلہ جلالہ کے پیا رے پیغمبر ﷺ نے حجۃ الودا ع کا ارادہ فرمایا ۔ ہجرت سے قبل آں جناب نے دو حج فرما ئے تھے۔ اور ہجرت کے بعد یہ پہلا اور آ خری حج تھا۔ حج سے فا رغ ہو ئے تو یہ مقدس آیات نازل ہو ئیں۔ االیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں نے تمہا رے لئے تمہا رے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پو را کر دیا ۔ اور ہمیشہ کے لیے دین اسلام کو تمہا رے لئے پسند کیا ۔
یہ مقدس آ یت بشا رتِ تکمیلِ دین بھی لے کر آ ئی اور سا تھ ہی سر کا ر کی آ مد کا مقصد مکمل ہو نے کی بنا ء پر وا پسی کا اعلان بھی کر گئی۔ حج سے واپسی پر غدیر خم پر خطبہ میں ارشاد فرمایا اے لو گو میں ایک انسان ہو ں ممکن ہے عنقریب میرے پروردگار کی طرف سے کو ئی قا صد مجھے بلا نے کے لئے آ جا ئے اور میں اس دعوت کو قبول کر لو ں۔ یہ آپ کی طرف سے سفر آخرت کی طرف روا نگی کا دوسرا اشا رہ تھا ۔ ذوالحج کے آ خر میں مدینہ واپسی ہوئی۔ 26 صفر یوم دو شنبہ 11ھ کو رومیوں کے مقابلے کے لیے مقام ابنیٰ کی طرف غزوہ موتہ کا بدلہ چکانے کے لیے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی سپہ سالا ری میں لشکر تیار کیا ۔اگلے روز رات کو جنت البقیع تشریف لے گئے اور بقیع کے خلد نشینو ں کے لیے دعا ئے مغفرت اور ترقی درجات فرما ئی۔ اگلے روز درد سر اور بخار کی تکلیف شروع ہو گئی ۔ با وجو د نا سا زی طبع کے ازواج مطہراتؓ کے ہاں ان کی مقررہ با ریو ں پر تشریف لے جا تے رہے۔ مگر جب مرض کی شدت ہو ئی تو ازواج مطہراتؓ سے اجازت لے کر سیدہ کا ئنات صدیقہؓ بنت صدیقؓ حضرت عا ئشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہا ں مستقل قیام پذیر ہو گئے ۔
پا نچ روز قبل جمعرات کو حضرت عبا سؓ اور حضرت علیؓ کے سہارے مسجد میں تشریف لا ئے اور نما ز ظہر پڑھائی اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جو حیات مبارکہ کا آ خری خطبہ تھا ۔جس میں بہت سی نصیحتیں فرمائیں ۔ آ خر میں فرمانے لگے میں نے ہر اس شخص کے احسان کا بدلہ ادا کر دیا جس نے مجھ پر کسی بھی انداز میں احسان کیا تھا مگر ابو بکر صدیقؓ کے احسانات کا بدلہ قیا مت کے دن اللہ تعالی ہی عطاء فرمائیں گے۔ اور فرمایا جتنے دروا زے صحن مسجد میں کھلتے ہیں صرف ابو بکرؓ کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے با قی سب بند کر دیے جا ئیں۔ پھر فرمایا یہود نصا ری پر اللہ کی لعنت ہو جنہو ں نے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گا ہ بنایا ۔ اور بار گاہ خداوندی میں ہا تھ اٹھا کر التجا ء فرمائی " اے اللہ میری قبر کی حفا ظت آپ کے ذمہ ہے میری قبر کو سجدہ گا ہ بننے سے محفوظ رکھنا " ۔
پھر مہاجرین اور انصار کے فضا ئل بیان فرمائے اور پو ری امت کو انکے سا تھ خیر خوا ہی اور حسن سلوک کی تا کید کی ۔ آ خری الفا ظ یہ فرمائے میرے صحابہ میں تم سے پہلے جا رہا ہو ں میرا تمہارا وعدہ حو ض کو ثر پر ملنے کا ہو چکا ہے۔ وقت دور نہیں کہ تم سب مجھے وہا ں آ ملو گے۔ پھر مجلس برخواست ہو گئی۔ واپس حجرہ نور میں تشریف لے آئے ۔ عصر کی نما ز اور مغرب کی نماز کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لا ئے ۔ عشا ء کی نماز کے وقت طبیعت میں نقا ہت اور کمزو ری حد سے زیا دہ بڑھ گئی اور مسجد میں تشریف نہ لا سکے تو سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے مصلی پر کھڑا ہو نے کا حکم فرمایا ۔آپ نے جمعرات کے دن عشا ء کی نماز سے لے کرسوموا ر کی صبح فجر تک سترہ نماز وں کی اما مت فرمائی ۔
شنبہ کو نماز ظہر کے وقت جماعت کھڑی تھی صدیقؓ اکبر نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ کچھ افاقہ محسوس فرما تے ہو ئے مسجد میں تشریف لا ئے ۔ صدیق اکبر ؓ آ ہٹ پا کر پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ نے منع فرمایا اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھا ئی ۔رحلت مبارک سے ایک رو ز قبل تمام غلا مو ں کو آ زاد کر دیا ۔ گھر میں سا ت دینا ر نقد کل پو نجی تھی وہ بھی غربا ء کو تقسیم فرما دی۔سوموار کی صبح کو طبیعت کا فی حد تک سنبھل گئی ۔ نما زفجر جا ری تھی کہ حجرہ مبا رک سے پردہ اٹھا کر لو گو ں کو دیکھا ۔اس وقت رخِ انور پر بشا شت اور ہو نٹوں پر مسکرا ہٹ تھی۔ رو ئے انور قرآن کا ورق معلوم ہو تا تھا ۔آہٹ پا کر صحابہ کرامؓ نے سمجھا شائید سرکار دوعالم ر ﷺ با ہر تشریف لا رہے ہیں۔ قریب تھا کہ جو ش مسرت اور بے خو دی کی بناء پر نما ز یں توڑ دیتے مگر آپ نے پردہ ڈال دیا ۔سورج آسمانی طلوع ہو کر کچھ بلندیوں پر آ یا تھا کہ آفتاب نبوت کا سفر آ خرت قریب آ گیا۔
یک دم طبیعت پر کمزو ری کا غلبہ ہو نے لگا آپ نے حضرت فاطمۃ الزہرہؓ کو یاد فرمایا گلے لگا کر پیشانی مبا رک کو بو سہ دیا اور سیدۃ النسا ء کا خطاب عطا ء فرما یا۔ پھر حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو بلا کر چو ما اور ان کے احترام کی وصیت فرما ئی۔ پھر ازواج مطہرات کو بلا یا اور انتہا ئی ہمدردانہ گفتگو فرما ئی اور بہت سی نصیحتیں فرمائیں ۔ پھر خا تون جنت حضرت سیدہ ،طا ہرہ فاطمۃالزہرا سے سر گو شی فرما ئی اور وہ رو پڑیں۔ مہربان باپ نے لخت جگر نو ر نظر کے ضبط اور صبرکے بندھن ٹوٹتے ہو ئے دیکھے تو دوبا رہ سر گو شی فرمائی اور وہ مسکرا پڑیں۔ بعد میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے استفسار پر سیدہ کائنات بنت رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ میرے ابا حضورﷺ نے پہلی دفعہ مجھے اپنی رحلت کی اطلاع بخشی تھی۔ جس پر میں بے ساختہ رو پڑی۔ دو سری دفعہ مجھے بشارت دی کہ آپ میرے سب گھر وا لو ں میں سے سب سے پہلے میرے پاس پہنچیں گی تو میرا غم ہلکا ہو گیا اور میں مسکراپڑی ۔چنانچہ صرف 6 ماہ بعد پیغمبر رحمت ﷺ کی لا ڈلی شہزا دی اپنے مہربان شفیق و کریم باپ سے جا ملی ۔
اس کے بعد طبیعت میں لحظہ بہ لحظہ مزید کمزوری آ نے لگی۔ اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ ہا تھ میں مسواک لئے ہو ئے تشریف لائے ۔ آپ کے اشارہ پر سیدہ عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے دہن مبارک میں اسے چبا کر حضور اکرم ﷺ کو پیش فرمایا جسے آپ نے استعمال کیا ۔ اسی لمحے سینہ مبا رک میں سا نس کی رفتا ر تیز ہو گئی ۔ آپ نے یک لخت چھت کی طرف دیکھا ایسے محسوس ہوا کہ کو ئی غائبی طا قت کا ورود مسعود ہوا ہے ۔ اسے دیکھتے ہی آپ نے آسمان کی طرف ہا تھ اٹھا ئے اور فرمایا اللھم فی الرفیق الاعلی ۔ اور ایک نور کی چمک آ نکھو ں مبا رک سے نکلی اور جان جانِ آ فرین کے سپرد ہو گئی ۔ انا لللہ و انا الیہ را جعون ۔
جو ں ہی یہ جاں گداز وا قعہ پیش آ یا مدینہ میں ایک کہرام برپا ہو گیا اور ہر طرف تہلکہ مچ گیا ۔ پو را شہر حجرہ نبوی کی طرف اُ مڈ پڑا ۔ یہ خبر فوری طور پر پورے خطہ عرب میں پھیل گئی اور ہر کو نے سے مشتا قانِ دیدار نبوی مدینہ کی طرف چل پڑے۔ اصحاب رسول فرط غم سے نڈھا ل ہوگئے ۔ با لخصوص ازواج مطہراتؓ ، سیدہ فا طمۃؓ الزہرا، حضرت علیؓ ، حضرت عمر فا روقؓ، اور حضرت عثمان غنیؓ ، غم کی وجہ سے سنبھل ہی نہیں پا رہے تھے ۔ اس مو قع پر صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ وہ عظیم انسان تھے جن کو اللہ نے بے پنا ہ حو صلہ بخشا اور انہوں نے اس ا نتہا ئی اندوہناک وا قعہ پر نہ صرف اپنے غم پر کنٹرول کیا بلکہ دوسروں کو بھی حو صلہ بخشا اور سہارا دیا ۔
جسد مبارک کو سفید چا در سے ڈھانپ دیا گیا ۔ غسل کی تیاری کی گئی۔ سیدنا حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ، حضرت عبا سؓ ان کے دوبیٹوں افضل اور قثم اور حضرت اسامہ بن زیدؓ نے غسل مبارک دیا اور کفن پہنا یا گیا ۔ اور عام دیدار کے لیے حجرہ انور کے دو نو ں طرف دروا زے کھول دیے گئے لو گو ں کی جما عتیں ایک درواز ہ سے دا خل ہو کر درود و سلام پڑھتی ہو ئی دوسری طرف سے نکلنے لگیں ۔مسلسل تین روز دن اور رات یہ سلسلہ جا ری رہا ۔ اس دوران آپ کے حکم کے مطابق خلیفہ کے فوری انتخاب کا مرحلہ بھی طے ہو گیا۔کیونکہ آپ کا فرمان عالی ہے کہ ایک خلیفہ کا جب وصال ہوجائے تو اس کے کفن دفن سے پہلے دوسرے خلیفہ کا انتخاب عمل میں لے آنا چاہئے۔ تمام حا ضرین نے جمہو ری طریقہ پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا انتخاب فرمایا اور آپ کے دست بارک پر بیعت کی ۔
چہا ر شنبہ بدھ کی رات ہجرہ اطہر جہا ں چار پا ئی مبا رک تھی وہیں قبر مبا رک کھو دی گئی اور لا کھوں انسانوں نے خون کے آنسوبہا تے ہوئے کف افسوس ملتے ہوئے حبیب خدا ﷺکو قبر میں اتا را ۔اس طرح نماز جنا زہ بغیر امام کے صرف درود و سلام پڑھنے کی صورت میں مکمل کی گئی ۔حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی مبا رک درویشانہ اور فقیرانہ گزاری تھی نہ کو ئی درہم جمع کئے نہ کو ئی دینا ر ۔اگر کچھ پاس تھا بھی تووفات مبارکہ سے قبل اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا ۔ بوقت وفا ت آپ کی عمر مبا رک 63 برس تھی ۔
آپ نے زندگی مبا رک میں گیارہ شادیا ں فرمائیں۔ازواج مطہرات یعنی امہات المومنین کے نام یہ ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبریؓ۔ حضرت سودہؓ ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ۔ حضرت حفصہؓ۔ حضرت زینبؓ بنت خزیمہؓ۔ حضرت ام سلمہؓ ۔ حضرت زینب بنت جحشؓ۔ حضرت جویریہؓ۔ حضرت ام حبیبہؓ ۔ حضرت صفیہؓ۔ حضرت میمونہؓ۔ جن میں سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریؓ اور سیدہ حضرت زینبؓ نے حضور اکرم ﷺ کی زندگی مبارک میں وفات پا ئی با قی سب بقید حیات تھیں۔ اولاد میں حضرت قاسمؓ ، حضرت عبداللہؓ، حضرت زینبؓ ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ ، حضرت فا طمۃؓ ، حضرت خدیجۃالکبریؓ کے بطن مبارک سے پیدا ہو ئے ۔ ایک بیٹے حضرت ابراھیمؓ سیدہ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن مبا رک سے تولد ہو ئے۔ یہ گنبد خضریٰ جس سے پو ری دنیا کو آ نکھو ں کی ٹھنڈک اورطراوت نصیب ہو تی ہے یہ حضرت عا ئشہ صدیقہؓ کا وہ حجرہ مبارک ہے جس میں حضور اکرم ﷺ ہمیشہ آ رام فرما تے رہے۔