ہندو ریاست اور مسلمان
- سوموار 29 / دسمبر / 2014
- 4458
ہندوستان کو بحیثیت ہندو اسٹیٹ بنانے کی آوازیں ا گرچہ پرانی نہیں ہیں۔اس کے باوجود یہ آوازیں کبھی زور سے آتی ہیں تو کبھی دھیمی بھی پڑ تی ہیں۔لیکن ان آوازوں کے مدھم اور بلند ہونے کے ساتھ ہی حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ آوازیں مسلسل جاری ہیں۔اس موقع پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سلسلہ کیوں جاری رہا اور یہ آوازیں جو آج ایک نظریہ بن چکی ہیں کیونکرپختہ ہوئیں؟
پختگی کی ایک وجہ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم ہے۔ تقسیم میں ہندو اکثریت والے علاقے ہندوؤں کو ملے اورمسلم اکثریتی علاقہ مسلمانوں کو ۔چونکہ ہندو علاقہ یعنی ہندوستان ،مسلم علاقہ یعنی پاکستان کے مقابلے میں بہت بڑا تھا،لہذا یہ آوازیں نہ صرف آوازیں رہیں بلکہ ایک نظریہ میں تبدیل ہوگئیں۔جس کا شور آج کچھ زیادہ ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔مزید یہ کہ موجودہ حکومت میں مخصوص نظریہ اور فکر کے حاملین کی کثرت کی وجہ سے بھی یہ بات شدت اختیار کررہی ہے کہ ہندوستان کو ایک ہندواسٹیٹ بننا چاہیے۔یہ ان لوگوں کی خواہش ہے جوجو برسوں سے اس نظریہ کے فروغ میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی زندگیوں تک کو وقف کر چکے ہیں۔ اس خواہش کا آسر اب ا موجودہ حکومت بنی ہوئی ہے۔اُنہیں امید ہے کہ یہ حکومت نہ صرف اس نظریہ کو فروغ دے گی بلکہ بڑی حد تک تعاون بھی کرے گی۔
پھر اقلیتوں کو ایک طے شدہ حد تک سمیٹ کر رکھ دینا،ان کے اختیارات کو محدود کرنا یا ان کو اقلیت کے زمرے سے ہی خارج کرنا،وغیرہ جیسے معاملات بھی آگے بڑھیں گے۔ممکن ہے اسی بنا پر کسی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہو کہ اقلیتوں کو آبادی کے کون سے تناسب کے بعد اقلیت کے زمرے سے ہٹایا جانا ممکن ہے؟توجہ فرمائیے یہ سوال معصومانہ سوال نہیں تھا،بلکہ یہ سوال کل پھر اٹھایا جائے گا،اورمزید قوت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اس معمولی سوال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کی سمت کیا ہے اور مخصوص نظریہ و فکر اورمقصد سے وابستگی رکھنے والوں کے حوصلے کس درجہ بلند ہوا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف یہ بات بھی مسلمانان ہند کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح وہ بے فکری ، غیر ذمہ دارانہ رویہ اور لاشعوری کی زندگی سے دوچار ہیں، ان حالات میں اگر کل ملک کے ہندو جو اکثریت میں ہیں،ہندوستان کو ہندو اسٹیٹ بنانا چاہیں،تو پھر کوئی اس فیصلہ سے روک نہیں سکے گا۔اور اگر ایسا ہوا ،جوا گرچہ ایک مفروضہ ہی صحیح ، تو پھر اقلیت کی جداگانہ قومیت اور مخصوص قومی مطالبات کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔کیونکہ ایک قومی اسٹیٹ مخصوص قومیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطالبات پورے نہیں کرتی۔بلکہ وہ تو یہ کوشش کرتی ہے کہ اسے تحلیل کرکے اپنے ان ضم کر لے،یا پھر اگر وہ اپنی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کرے تو سختی سے پیش آتے ہوئے دبا دیا جائے۔ یا اسے باقاعدہ فنا ہی کردیا جائے۔
اس سنگین صورت حال کے باوجود مسلمان کہیں نیشنلسٹ تو کہیں کمیونسٹ پہچان بنانے میں سرگرم ہیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح انگریزی دور میں خان بہادر طبقہ اپنی حیثیت اور شناخت قائم کر چکا تھا۔اب اگر وہ قوم جس کی ایک بڑی تعداد پہلے مسٹر اور مس بن چکی ہے،آج اگر وہ مہاشے اور شریمتیاں بن گئیں ،تو یہ کچھ نیا نہیں ہے۔لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ معاملہ اگر زبان کی حد تک ہوتا،اور الفاظ کو زبانوں میں ہی بدلا گیا ہوتا،تو کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ لیکن اگر ان کی معاشرت، خیالات اور انفرادی و اجتماعی طرز عمل ہی تبدیلی ہوچکا ہو تو یہ صورتحال تشویشناک ہے۔لہذا جس حالت سے وہ دوچار ہیں اس میں سے انہیں کوئی دوسرا نہیں نکال سکتا۔اور ویسے بھی کسی دیگر فکر و نظر کے ہمنواکو کیا دلچسپی کہ وہ مسلمانوں کو زوال سے نکالے ؟انہیں توخود ہی اپنی صورتحال پر غور و خوض کرنا ہوگا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس زوال میں مسلمانان ہند آج مبتلا ہیں،اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟جواب میں تین صورتوں پر غور کیا جاسکتا ہے۔جو پہلے بھی بیان کیے جا چکے ہیں۔ایک یہ کہ نیشنلسٹ،کمیونسٹ اور نہ جانے کن کن ناموں سے اپنی شناخت بنانے والے مسلمان،اپنی سابقہ روش وپالیسی پر قائم رہتے ہوئے ہندو قومیت میں جذب ہونے پر تیار ہو جائیں۔دوسرے یہ کہ مسلم قوم پرستی کی موجودہ روش پر بدستور چلتے رہیں یہاں تک کہ مٹ جائیں۔اور تیسرے یہ کہ قوم پرستی اور اس کے طور طریقوں اور اس کے دعوؤں اور مطالبوں سے توبہ کرکے اسلام کی رہنمائی قبول کرلیں۔ جس کا تقاضہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی اغراض کے لیے سعی و جہد کرنے کی بجائے اپنی تمام کوششوں کو صرف اسلام کی اصولی دعوت پر مرکوز کردیں اور من حیثیت القوم اپنے اخلاق، اعمال اور اجتماعی زندگی میں اس کی شہادت دیں ۔ تاکہ دنیا یقین کر سکے کہ فی الواقع یہ وہ قوم ہے جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ محض اصلاح کے لیے جینے والی ہے اور درحقیقت جن اصولوں کو یہ پیش کررہی ہے وہ انسانی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نہایت اعلیٰ و ارفع بنادینے والے ہیں۔
آزادی کے بعد سے مسلمان سارے تجربات کرکے دیکھ چکے ہیں۔کبھی کمیونسٹوں کی طرف لپکے،کبھی نیشنلسٹوں کی طرف اور کبھی دیگر آسراؤں پر اپنے گھٹنے اور سرٹیکے۔ کل ہی کی بات ہے کہ ویسٹ بنگال،جس میں تقریباً 30فیصد مسلمان آباد ہے، وہاں مسلمان معاشی،معاشرتی،تعلیمی اور روزگار جیسے اہم شعبوں میں حد درجہ پسماندگی کا شکار ہوئے اور ہیں۔اور وہ سارے افکار و نظریات اور ان سے وابستہ تحریکات جن کی گفتگو کا آغاز تا اختتام ہی پسماندہ،کمزوروں ،ضرورتمندں اور محنت کش طبقہ کی آواز بلند کرنا تھا، مسلمانوں کی ترقی و فلاح و بہبود میں کسی بھی درجہ مددگار ثابت نہیں ہوئیں۔اسی طرح دیگر مقامات جس میں اہم ترین اتر پردیش و اطراف کی ریاستیں ہیں، نیشلسٹوں، سوشسلٹوں اور نہ جانے کن کن ناموں سے اپنی ہی زبان سے تعریفیں بیان کرنے والوں نے مسلمانوں کو ہر سطح پر نقصان پہنچایا ۔
غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ معاملہ صرف مسلمانوں کی حد تک ہی خراب نہیں ہے۔بلکہ وہ جو خود کو اکثریت سمجھتے ہیں، وہاں بھی قدیم طبقاتی کشمکش جاری ہے،جو کسی بھی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اور ان کی ٹھیک وہی حالت زار برقرار ہے جو آزادی سے پہلے تھی۔معلوم ہوا کہ موجودہ جمہوریت اور ظاہری مساوات صرف فریب نظر اور دھوکہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہی بے انصافیاں بدستور جاری ہیں جو کل تھیں۔ ساتھ ہی وہ ناہمواریاں اور تفریقیں بھی برقرار ہیں جوآزادی سے قبل پائی جاتی تھیں۔
پھر اہم سوال یہ بھی اٹھنا چاہیے کہ آزادی نے ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوںیا دوسرے الفاظ میں ملک کی اکثریت اور اقلیت کو کیا دیا؟اس موقع پر مسلمانوں ،ملک عزیز ہند میں اپنی حیثیت لازماً سمجھنا ہوگی۔اور یہ بات بھی خوب اچھی طرح سمجھنا ہوگی کہ بحیثیت مسلمان ان پر جو ذمہ داریاں عائد ہیں اور جن فرائض میں اللہ تعالیٰ نے ان کو باند ھ کر رکھا ہے،اس سے چھٹکارا اور نجات کسی حال میں نہیں ہے۔ اگر وہ موجودہ حالات میں قیام عدل اور نا انصافیوں کے خلاف اٹھیں،ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا عزم مصمم کریں اور ایک منصوبہ بند سعی و جہد کے ساتھ کوششوں کا آغاز کریں تو وہ دن دور نہیں جبکہ وہ دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بنیں گے۔ اور ساتھ ہی اپنی پریشانیوں کا بھی مداوا کر سکیں گے۔