پاک فوج کا کردار

  • سوموار 29 / دسمبر / 2014
  • 4110

ملکی موجودہ صورتحال میں فوج کا کردار دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ یوں محسوس ہورہاہے جیسے ہر مرض کا علاج صرف فوج ہی کے پاس ہی ہے ۔ تشدد زدہ پاکستان میں پاک فوج نے ضرب عضب اور پھر خیبر ون آپریشن کے ذریعہ انتہا پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس کے نتیجے میں طالبان اور اس کے حامی مسلح دہشت گرد گروہ شکست دریخت سے دوچار ہوئے ہیں۔ لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اس کیخلاف ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔

سوال اٹھایا جارہا ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات یا اسے ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کی بجائے فوجی عدالتوں کا سہارا کیوں لیا جارہا ہے اور ساتھ ہی فوج کو جمہوری حکومت کے ہونے کے باجود ملک میں زیادہ کردار ادا کرنے کو کیوں کہا جارہا ہے ۔ شدت پسندی سے بری طرح متاثر پاکستان میں شاید کسی کو اس پر شک شبہ نہیں کہ شدت پسند کارروائیوں میں اضافہ کی وجہ سے ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر ہوئی ہے۔ یعنی قانون کی پکڑ کمزور ہوچکی ہے ۔جن لوگوں نے سب کی آنکھوں کے سامنے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا، گرفتار ہوئے اور اقبال جرم بھی کیا مگر تاحال کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے ۔ ہونا تو چاہئے تھا کہ قانونی نظام کی بہتری اور اس کی گرفت کی مضبوطی کیلئے اقدامات کئے جاتے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں نے نہ چاہتے ہوئے فوج کو اس معاملے میں ملوث کیا ہے۔ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے ساتھ سیاسی معاملات سے بنزد آزما ہونے کیلئے بھی فوج کو ہی معالج قرار دیدیا ہے ۔

ملک میں جاری دہشت گردی کو روکنے کیلئے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں اتفاق رائے کے اظہار کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان بدل چکا ہے جس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی ، فرقہ واریت اور عدم برداشت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ہم نہ صرف دہشت گردانہ سوچ کا خاتمہ کریں گے بلکہ ہم نے ملک کی تمام سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ ملکر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ایکشن پلان تیار کرلیا ہے۔ جس میں فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور اس کیلئے آئین میں ترمیم بھی کی جائے گی ۔

اس اقدام کے حوالے سے ایک بین الاقوامی اخبار نے لکھا ہے کہ ایک سویلین حکومت میں قائم عدالتی نظام کو بائی پاس کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے سے قاصر ہیں۔ یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے دانشمندی نہیں ۔ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے فوج کی مداخلت، دھرنے کو ختم کروانے کیلئے فوج کی مدد، پولیو مہم کی کامیابی کیلئے فوج کا سہارا ، امن و عامہ کی صورتحال بہتر بنانے سمیت دیگر معاملات میں فوج کی ضرورت محسوس کرنا بنیادی طور پر جمہوری اداروں کی ناکامی ہے۔ جبکہ جمہوریت کے نظام پر قدغن کے مترادف ہے ۔ بہتر ہوتا کہ عدلیہ سے ایسے اقدامات کیلئے مشاورت کی جاتی تاکہ ایک جمہوری اور آئینی طریقہ کار وضع ہو سکتا۔ تاکہ ملکی معاملات کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کیا جائے ۔

مبصرین کا فوجی عدالتوں کے قیام پر کہنا ہے کہ ایسے اقدامات جن میں فوج کو براہ راست شامل کیا جائے گا تو ممکن ہے کہ دشمن کی اس جنگ میں کہیں موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہی ہاتھ نہ دھونا پڑ جائیں ۔

دہشت گردی ، مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت ایک ایسا عفریت ہے جس کی وجہ سے ہر شخص اور ہر سیاسی جماعت متاثر ہے۔ تمام مکاتب فکر موجودہ دہشت گردی کی لہر کے خاتمہ کیلئے اس بات پر راضی ہیں کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے بر وقت اور موثر کارروئیاں ہوں ۔ اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ تاکہ قیام امن میں حائل تمام تر رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ یہ عناصر کسی حد تک فوجی عدالتوں کے قیام کو خوش آئند قرار د ے رہے ہیں۔بعض لوگ اسے جمہوریت مخالف اقدامات گردان رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کا قیام آمریت کا بلاوا ہے اور وہ فوجی قیادت کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کو قانونی نہیں ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ انسداد دہشت گردی کے موجودہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے ۔ فوج ا پنے انتظامی امور کے علاقوں میں عدالتیں قائم کرسکتی ہے تاہم ملک بھر میں اس کا اطلاق ایک غلط اقدام ہے ۔اس سے قبل بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں لیکن اس کے ثمرات حاصل نہیں کئے جاسکے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے فوجی عدالتوں کے قیام پر ردعمل کا ا ظہار کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے بہتر ہے کہ ملک کو فوج کے حوالے ہی کردیا جائے یعنی ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا جائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فوج اکیلے ہی ملک کو بچا سکتی ہے تو ایک غلط تاثر کے سوا اور کچھ نہیں ۔ دنیا میں کہیں بھی فوج اپنے ملک کو اس وقت تک نہیں بچا سکتی جب تک اس کے ساتھ عوامی طاقت نہ ہو ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انقلاب آئے، ان میں فوجی افسران نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی پالیمنٹیرین کے سینئر رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ وہ جس سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس کی قیادت سے لیکر کارکن تک سب نے ہر دور میں ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام اور جمہوریت کی بقاء کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں غیر جمہوری اقدام کے حامی ہیں اور نہ ہی اس پر قدغن لگنے دیں گے۔ البتہ ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام انتہائی اقدام ہے جس کی حمایت دل پر پتھر رکھ کر اور اس کے قیام کا فیصلہ زہر کا گھونٹ پی کر قبول کیا ہے ۔

یہ الگ بحث ہے کہ انصاف فراہم کرنے کے لئے کبھی بھی سیاسی جماعتوں نے کوئی ایسا کانامہ سر انجام نہیں دیا کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ اور بااختیار ہوکر کام کرتی۔ بہر کیف اب پیپلز پارٹی نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ ہم یہ ضرور دیکھیں گے کہ یہ قانون انتقامی قانون کی حیثیت نہ اختیار کرجائے۔ اور ا س بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ سیاست کی نذر نہ ہو ۔ جماعت اسلامی سمیت جن سیاسی جماعتوں نے ان خصوصی عدالتوں کی حمایت کی ہے وہ اس بات سے مشروط ہے کہ ان کا قیام جزو وقتی ہونا چاہئے اور جیسے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہوجائیں تو انہیں ختم کردیا جائے۔

حکومت ، پارلیمانی پارٹیاں ، عسکری ماہرین اور اداروں نے ملکر جو ایکشن پلان تیا ر کیا ہے، وہ یقیناًموجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔سانحہ پشاور بلا شبہ قوم کیلئے کسی صدمے سے کم نہیں ۔ اس وقت قوم کے ہر طبقے ، ہر جماعت ، ہر مذہبی گروہ اور ہر فرقے سمیت عوام دہشت گردی کے اس بھیانک کھیل کے خاتمے کیلئے متحد ہیں۔ اس کیخلاف کارروئی کیلئے یک جان اور یک آواز ہیں۔ حکومتی سطح پر اس بات کی مسلسل یقین دہانی کروائی جارہی ہے فوجی عدالتوں اور کارروائیوں کا دائرہ کار مخصوص حالات تک محدود ہوگا۔ یعنی حکومت ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہے اور جس طرح سے حکومت ، فوج اور عوام پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے متحد ہیں اگر یہ اسی طرح ڈٹے رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک سے اس ناسور کا خاتمہ نہ ہوجائے ۔