دہشتگردی نہیں تعلیم

  • منگل 30 / دسمبر / 2014
  • 4607

لندن سے شائع ہونے والے اخبار آبزرور نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ داعش و القاعدہ خودکش حملوں کے لئے خواتین کو بھی بھرتی کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے شعبہ انٹیلی جنس نے اس مقصد کے لئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

فرانسیسی انٹیلی جنس افسر نے بتایا ہے کہ فی الحال خواتین کو بھرتی کرنے کے بعد چند اہم ثبوت ہی ملے ہیں۔ خود کش حملہ آور خاتون کا پتہ چلانا آسان کام نہیں ہے۔ تحقیقات کرنے والے اہلکار کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا کوئی ایک طریقہ کار کسی ایک مقام پر کامیاب ہو جائے تو وہ اسی طریقہ یا طریقہ واردات کو کسی دوسری جگہ بھی استعمال کرتی ہے۔ ادھر امریکی انٹیلی جنس کے ایک ذمہ داری اہلکار نے بتایا ہے کہ مزاحمت کار عراقی ، افغانی ، عربی خواتین سے شادی کرنے کے بعد یا دوستی کر کے انہیں مختلف طریقوں سے خود کش حملوں کے لئے تیار کرتے ہیں۔ یورپین یونین کے انسداد دہشت گردی کے کوآرڈینیٹر نے یورپی ممالک کو ہدایات دی ہیں کہ وہ یورپ میں خواتین خود کش حملہ آوروں کی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ جلد مکمل کریں۔

یورپین اسٹریٹجک ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے عراق میں خواتین خود کش حملہ آوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حملوں میں اضافے پر گہری تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ القاعدہ کی جانب سے خواتین اور بچوں کو خود کش حملوں کے لئے استعمال کیا جانا ظاہر کر رہا ہے کہ دنیا میں القاعدہ کے اسٹریٹجک اثاثے کمزور پڑ رہے ہیں اور اس کی جانب سے خواتین و بچوں کو خود کش حملوں کے لئے استعمال کئے جانے کا عمل القاعدہ کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا ثبوت ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں اور یو ایس آرمی وار کالج کے ماہرین سمیت برطانوی انٹیلی جنس ایم آئی فائیو نے بھی اپنی تحقیق میں اس رجحان کو خطرناک قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین خود کش حملہ آوروں کی ایک بڑی تعداد ذہنی طور پر بیمار ہوتی ہے جنہیں القاعدہ اور مقامی مزاحمت کار اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصہ قبل بیلجیئم کی پیدائشی شہری ایک خاتون عراق کے شہر بعقوبہ میں ایک کامیاب خود کش حملے میں اپنے ساتھ پانچ امریکی فوجیوں کو بھی لے ڈوبی تھی۔ اس خاتون یا خود کش حملہ آور کا نام میوریل تھا جبکہ پورا نام کچھ اس طرح تھا Muriel Degaaque۔ اس کی عمر قریباً 38 برس تھی۔ اس خاتون نے ایک مراکشی مسلمان کے ساتھ دوستی کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عورت انتہا پسندی میں مردوں سے بھی بازی لے جائے گی۔ دہشت گرد ، انتہا پسند ، خود کش ، جنگجو ، مجاہدہ ، حریت پسند یا ایسے دوسرے بے شمار القاب اس عورت کے ” کارنامے “ کے سامنے معمولی الفاظ لگتے ہیں لیکن اس کی ماں کا کہنا ہے ” مجھے اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اسی روز ہو گیا تھا جب میں بیمار اسپتال میں پڑی تھی اور وہ مجھے ملنے تک نہ آئی۔ بعد میں میں نے جب اس سے پوچھا کہ اسپتال میں وزٹ کرنے کیوں نہ آئیں ؟ تو کہنے لگی وہاں بہت سے غیر مرد ہوتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ اس عورت کے خود کش حملے نے ساری دنیا بالخصوص سارے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپین اب اپنے بچوں کی غیر ملکیوں بالخصوص مسلمانوں سے دوستی کو بری نظر سے دیکھتے ہیں۔ یورپ کے اخبارات نے میوریل کو پہلی خود کش حملہ آور قرار دے رکھا ہے۔ میوریل ، جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام مریم رکھ لیا تھا بیلجیئم کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوئی۔ بچپن ہی میں والد کے سائے سے محروم ہو گئی لیکن ماں کے توجہ دینے پر تعلیم کے معاملے میں کوئی کمی نہ رہی۔ ہائی اسکول کے بعد چھوٹی موٹی ملازمت کر کے ماں کا ہاتھ بھی بٹایا۔ پھر بھی متوسط طبقے کے چنگل سے نہ نکل سکی۔ 

ایک روز یوں ہؤا کہ اس کی ملاقات ایک مراکشی نژاد حسام جورس سے ہوئی۔ یہ دوستی بعد میں محبت میں بدل گئی۔ یہ اس کی کسی بھی لڑکے سے پہلی بھرپور دوستی تھی۔ اس نے اپنا سب کچھ اقدار ، تہذیب ، حتیٰ کہ مذہب بھی اس نیم تعلیم یافتہ مراکشی مسلمان حسام کو سونپ دیا۔ اس کی ماں نے دونوں کی دوستی پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ حسام بظاہر بے ضرر اور کم گو نظر آتا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد ماں کو بیٹی کے شب و روز پر اچنبھا سا ہونے لگا۔ پردہ کرنے کا تو خیر اس نے حسام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کوئی خاص نوٹس نہ لیا کہ اس کی خیال میں مسلمان اپنی نو مسلم بیویوں کو سب سے پہلے پردہ میں بٹھاتے ہیں۔ لیکن اسے یہ دیکھ کر تعجب ہؤا کہ مریم جب کبھی اس سے ملنے آتی تو برقع میں ملبوس ہوتی اور اپنا کھانا لے کر دوسرے کمرے میں چلی جاتی تھی۔ اب نہ وہ ٹی وی دیکھتی ، نہ ویڈیو سے کوئی واسطہ رکھی اور حلال فوڈ کے لئے بے حد اصرار کرتی تھی۔

ہالینڈ کے ایک اخبار نے مریم کی ماں للی یان کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا۔ جس میں اخبار لکھتا ہے۔ ” جس آدمی نے میوریل کو مریم بنایا ایک عام سا مراکشی تھا جو شادی کے بعد مریم کو مراکش لے گیا۔ لیکن وہاں وہ زیادہ عرصہ نہ رہ سکا اور واپس بیلجیئم آ گیا۔ اب دونوں بیلجیئم میں رہنے لگے۔ حسام کام کاج تو کرتا نہیں تھا بس گزارا الاﺅنس اور دوسری مراعات پر ان دونوں کی گاڑی چل رہی تھی۔ لیکن پھر اچانک ان دونوں کی زندگیوں میں تبدیلی آنے لگی “۔ اخبار لکھتا ہے ” ایک بار مریم اپنی ماں سے ملنے آئی تو اپنے شوہر کے ساتھ نئی مرسیڈیز گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ تبدیلی دیکھ کر نہ صرف اس کی ماں بلکہ ہمسائے بھی بہت حیران ہوئے۔

یہ بات چونکا دینے والی تھی کہ معمولی گزارہ الاﺅنس میں ان کے پاس قیمتی گاڑی کہاں سے آ گئی؟۔ جب ماں نے پوچھا تو دونوں میں سے کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ لیکن للی یان کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔ خطرے کی گھنٹیاں بج چکی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ ہو نا ہو حسام نے منشیات کا دھندہ شروع کر دیا ہو گا۔ اب ماں کو ایک نئی پریشانی شروع ہو گئی۔ وہ اپنے اس خدشے کے بارے میں دونوں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ اچانک ایک دن یہ دونوں بیلجیئم سے غائب ہو گئے ۔ تب بغداد کے شمال جنوب میں واقع مشہور شہر یعقوبہ سے ایک دن خاتون کے خود کش حملے کی اطلاع آئی جس میں پانچ امریکیوں سمیت 15 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ حملہ آور کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔ شکل و صورت اور جنس کے پہچاننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ بس خون میں لت پت ایک پاسپورٹ ملا۔

یہ حملہ مریم نے کیا تھا۔ بیلجیئم کے پاسپورٹ پر اس کے تمام کوائف درج تھے۔ اس پاسپورٹ نے اس کے ہونے کی تصدیق کر دی اور یوں اس مریم نے برین واشنگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر ” کفار “ کو جہنم واصل کر کے ” پہلی خود کش یورپی خاتون “ ہونے کا ” اعزاز “ حاصل کر لیا۔ اور اس دن سے اہل یورپ ( جس میں میں بھی شامل ہوں) کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا ہے لیکن مریم کو اس ” جہادی راہ “ پر ڈالنے والوں کو کون بتائے کہ دنیا میں 86 اسلامی ممالک ہیں لیکن وہاں  اسلام ان کے حالات سدھارنے میں مددگار ثابت نہیں ہؤا۔ تو پھر یہ چند خود کش حملہ آور اور چند دہشت گرد مسلمانوں کے حالات کسیے سدھار لیں گے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے۔

 ذرا بزم عشرت سے باہر تو آﺅ

تمہیں بھی دکھائیں جو ہم دیکھتے ہیں