پاکستانی سیاستدان۔۔۔الاماں
- بدھ 31 / دسمبر / 2014
- 4301
سانحہ پشاور کے بعد سے وطن عزیز ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ دوراہا اس لیے کہ سیاسی قیادت دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس میں تنقید ہرگز مقصود نہیں ہے۔ ناکامی اس صورت میں کہ سیاسی قیادت کسی نہ کسی مصلحت کے تحت یا تو اس آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتی یا اس طرح سے کھل کر مقابلہ نہیں کر سکتی جس طرح اس کو کرنا چاہیے۔ نتیجتاً یہ ناسور ہر طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ پاکستان کو کھوکھلا کر رہا ہے اور ہر ڈھلتی شام کے ساتھ کئی اداسیاں چھوڑ جاتا ہے۔
140 سے زائد بے گناہوں کے خون نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ۔جو ریکارڈ ساز دھرنا پوری حکومتی مشینری ختم نہ کروا سکی وہ اس سانحے نے ختم کرا دیا۔ ختم نہ ہوتا تو عمران خان اخلاقی جنگ ہار جاتے ۔ جو گالم گلوچ پاکستانی میڈیا کے لیے ریٹنگ کا مضبوط ذریعہ بن چکا تھا۔ اس سانحے سے وہ اچانک رک گئی۔ ہمارے سیاستدان جن کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریباں تک تھے۔ اس سانحے سے وہ ہاتھ تھم گئے۔ سیاسی تفریق اچانک ختم ہو گئی۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس سانحے نے ایک ایسا کام کر دیا جو عام حالات میں شاید نا ممکن تھا۔ جو کام منجھے ہوئے سیاستدان نہ کر سکے وہ ننھے شہیدوں نے کر دیا۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ سیاسی حکومت بروقت فیصلے کرنے کی قوت سے عاری رہتی ہے۔ سانحہ پشاور کے فوراً بعد مسلح افواج نے بلا تفریق جوابی کاروائی شروع کی ۔ اس جوابی کاروائی سے پہلے سے جاری ضرب عضب میں مزید تیزی آ گئی ۔ خیبر ون میں ایک نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔ صحافت کا طالبعلم ہونے کے ناطے ہمیشہ سے پاکستان کے سیاسی حالات میں خصوصی دلچسپی رہی اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت ایک بہترین نظام ہے۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کو ایک باندی کے روپ میں ہی دیکھا۔ ہر کوئی جمہوریت کو صرف اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ہی استعمال کرتا رہا۔ اسی لئے لوگ آمریت کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے رہے۔ اگر حقیقی معنوں میں جمہوریت اس ملک میں نافذ کی جاتی تو آمریت کی مخالفت میں صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی سامنے آتے ۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ عوام آمریت کے خلاف اس طرح سے کبھی بھی سڑکوں پہ نہیں آئے جس طرح انہیں آنا چاہیے۔ مصنوعی ہی سہی لیکن ہرآمر اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے کسی نہ کسی طرح عوام کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ آمر ہمیشہ اس وقت اقتدار پر قابض ہوتا ہے جب سیاستدان اسے جگہ مہیا کرتے ہیں۔ یہ جگہ وہ اپنے بیانات سے بھی مہیا کر سکتے ہیں اور اپنے افعال سے بھی ۔
سانحہ پشاور کے بعد سیاستدان جب ایک میز پر اکھٹے ہو گئے تو توقع یہی کی جا رہی تھی کہ اب شاید پاکستان کو ترقی کی راہ پہ بھی گامزن کیا جا سکے گا۔ کیوں کہ ترقی اسی صورت ممکن تھی جب دہشت گردی کے عفریت کو مل کر اکھاڑ پھینکا جائے۔ لیکن سب سے پہلے سیاسی قیادت نے خود کو کمیٹی کے بکھیڑوں میں الجھا لیا۔ حالانکہ تاریخ میں امر ہونے کے لیے فوری فیصلوں کی طاقت لازم ہے۔ لیکن ہمارے سیاستدان یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردوں نے چند لمحوں میں 134پھولوں کو مسل کے رکھ دیا ۔ اس افسوس ناک واقعے سے تمام سیاستدان اختلافات بھلا کر ایک میز پر اکھٹے ہو گئے لیکن کوئی ایسا فوری فیصلہ نہ ہو سکا جس سے ان عناصر کا قلع قمع ہو سکے، جنہوں نے اس درجہ درندگی کا ثبوت دیا۔
عوام کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو باقی سیاستدانوں کے لئے تو شاید قابل قبول نہ ہوں لیکن عوام کی ضرورت ہوں۔ آل پارٹیز کانفرنس ہوئی۔ دوبارہ اجلاس ہوا۔ آرمی چیف سمیت اعلیٰ فوجی قیادت بھی شامل تھی۔ تمام صورت حال سے سیاستدانوں کو آگاہ کیا گیا۔ حالات کی سنگینی کا بتایا گیا۔ اس کے باوجود سیاستدانوں کو صرف فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کے لیے 10گھنٹے سے زیادہ لگے۔ وہ بھی اس لئے کہ وزیر اعظم نے فرما دیا تھا کہ آج کا اجلاس تب ہی ختم ہو گا کہ جب اتفاق رائے ہو جائے۔ شاید کچھ سیاسی راہنماؤں نے اس لئے اتفاق کر لیا کہ گلے پڑا ڈھول بجانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
آرمی چیف کے دستخط شدہ ڈیتھ وارنٹ پر فوری عمل در آمد ہو گیا لیکن جہاں سیاسی حکومت یا عدلیہ کا عمل دخل تھا وہاں اب تک مزید کاروائی التواء کا شکار ہے۔ اسی لئے عوام کے دلوں میں سیاستدانوں کے لئے شکوک و شہبات جنم لیتے ہیں۔ پہلے ہی یہ تاثر عام ہے کہ کسی معاملے کو لٹکانا ہو تو اس پر کوئی کمیشن یا کمیٹی بنا دو۔ اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آ رہا ہے اور شاید کچھ وقت گزارنے کا ارادہ ہے۔ تا کہ لوگ اس سانحے کی سنگینی کو بھول جائیں۔ اور کسی نئے سانحے کو انتظار کرنا شروع کر دیں۔ فوج اور سیاسی حکومت میں تعلقات بھی اس سانحے کے بعد ایک دوراہے پر آ گئے ہیں۔ فوج نے فوری کاروائی بھی کی ۔ اور پھانسیاں بھی ہوئیں۔ لیکن سیاسی معاملات ابھی تک لٹکے ہوئے ہیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق بھی حقیقت میں سیاستدانوں کی نا اہلی ہے۔ ایک عرصہ ہوا جوڈیشل ریفارمز کا غوغا سن رہے ہیں۔ لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ اگر فوجی عدالتیں فوری فیصلے کر سکتی ہیں۔ فوری سزائیں دے سکتی ہیں تو یہی کام عدلیہ کیوں نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کو با اختیار بنائیں۔ اصطلاحات لائیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی جماعتیں الگ الگ راگ الاپ رہی ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ ہیں، وہ پریشان بھی زیادہ ہوں گی ۔ شاید اسی لیے یقین دہانی حاصل کی جا رہی ہے کہ فوجی عدالتیں سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گی۔
حیران کن طور پر دھرنے کے دنوں میں سیاستدانوں کی زباں پر یہی جملے تھے کہ فوج ضرب عضب میں مصروف ہے اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے لیکن ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے راہنما زرداری صاحب نے 27 دسمبر کو ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلاول کی ناراضگی کا غصہ انہوں نے فوج کو ایک بار پھر سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر کے اتارا ہے۔ اور ایسی ہی سیاسی غلطیوں سے جب فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو پھر سیاسی شہید بننے کا نادر موقع مل جاتا ہے۔ حیرانگی اس بات پہ ہے کہ جس فوج کو دھرنوں میں سیاست سے دور رکھنے کی تلقین کی جا رہی تھی آج اسی فوج کو خود سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں۔ بلاول سے گذارش ہے کہ وہ غصہ چھوڑیں تا کہ سابق صدر عقل کے ناخن لیں۔ اور بے پر کی اڑانا چھوڑ دیں۔ زرداری صاحب کا یہ بیان معنی خیز ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اور میاں صاحب جیل میں ہوں۔ یعنی انہیں اپنے کہے کا اتنا یقین ہے کہ وہ انہیں جیل میں پہنچا سکتا ہے۔ یاد رہے سب سے بڑی جماعت کے راہنما بلٹ پروف کیبن سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ فوج اس وقت نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ اداروں کی کمزوری اور سیاستدانوں کی نا اہلی سے فوج کو وہ کام بھی کرنے پڑ رہے ہیں جو اس کی اولین ذمہ داری نہیں تھے۔ اور اب تو انصاف کے لیے بھی فوج کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں سیاستدان صرف پانچ سال کا سوچ کر آتے ہیں۔ اسی لئے وہ ایسے فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے جن کے نتائج دوررس ہوں۔ وہ صرف ایسے اقدامات کی طرف توجہ دیتے ہیں جو صرف پانچ سال ان کی حکومت کے لیے سود مند ہوں۔ اگر سیاسی حکومتیں اپنے فرائض سے پہلوتہی نہ برتیں تو فوج کو کبھی موقع ہی نہ ملے ۔ فوج کو موقع تو ہم اور ہمارے سیاستدان خود دیتے ہیں۔ حالیہ سانحے کے بعد سے اقدامات کا ہی جائزہ لیں تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ سیاسی حکومت ابھی تک اقدامات کا ہی فیصلہ نہیں کر پائی۔ جب کہ فوج مکمل طور پر مصروف عمل ہے۔ اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو سیاستدانوں کو رویہ تبدیل کر کے ٹھوس اور بروقت فیصلے کرنا ہوں گے۔