دہشت گردی کے نت نئے رنگ

  • ہفتہ 03 / جنوری / 2015
  • 5132

“ کاروان “ اوسلو کے قارئینِ کرام کی خدمت میں نئے سال کی تہنیت اِس اُمید کے ساتھ کہ سالِ رواں پچھلے برس کے زخموں کا مداوا کرسکے  گا۔ لیکن ان اُمیدوں اور آرزوؤں کی بیل منڈھے چڑھتی نظر ہی نہیں آتی ۔ ہر چند کہ اہلِ سیاست نے سیاست میں مل بیٹھ کر بات چیت اور ڈائیلاگ کی قوت آزمانے کا  کام شروع کر دیا اور عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مولانا فضل الرحمان کی امامت میں نماز بھی پڑھ لی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی منظر پر گہری دھند چھائی ہے اور جب تک  تحریکِ انصاف کے پالیمنٹیرین اپنے استعفے واپس لے کر قومی اسمبلی کے ایوان میں قدم رنجہ نہیں فرماتے تب تک یہ ساری کاروائی نظریہ ء ضرورت کی کاربن کاپی کے ساتھ منسلک نظر آئے گی اور دھرنے کی اُڑائی ہوئی گرد نہیں بیٹھے گی ۔

دہشت گرد ہمارا اپنا تخلیق کیا ہؤا دشمن ہے لیکن اُس کی دشمنی پاک بھارت سرحد پر بھارتی سپاہیوں کی آگ اُگلتی رائفلوں  کے باعث کئی گُنا زہر ناک ہوگئی ہے ۔ رینجرز کے دو جوانوں کو جس انداز میں بھارتی سرحدی محافظوں  نے جامِ شہادت پلایا، ایک بے حد افسوسناک واقعہ ہے ۔ بلا اشتعال فائرنگ کے پے در پے واقعات جانے کن بڑے حوادث کا پیش خیمہ ہوں ، یہ سوچ کر دل کو ہول آنے لگتا ہے ۔ اُدھر بھارت سے آنے والی ایک کہانی صورتِ حال کو اور بھی پُر اسرار بنا  رہی ہے ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق  31 دسمبر کی شب ایک پراسرار کشتی  پاکستانی سمت سے بھارتی پانیوں میں داخل ہوئی جس کا تعاقاب کیا گیا تو کشتی میں سوار لوگوں نے کشتی کو دھماکے سے اُڑا دیا ۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور کیا رنگ لائے گا ، میرے تخمینے کے مطابق معاملہ  بے حد تشویش ناک ہے ۔

اس وقت حکومت کو کئی چیلنج درپیش ہیں اور طالبان کی پیدا کردہ دہشت گردی کی وجہ سے  نہ صرف حکومت کی بلکہ اس سے زیادہ افواجِ پاکستان کی رِٹ بھی داؤ پر لگی ہے ۔ چنانچہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں  بنائی جارہی ہیں ۔ کچھ لوگوں کو ان عدالتوں میں مارشل لا کا بھوت نظر آیا ہے مگر میرے جیسے عام پاکستانی کے نزدیک ان عدالتوں کا جواز موجود ہے ۔  جواز حسب ذیل ہے :
طالبانی پس منظر کے حامل دہشت گرد ، پاکستان کی ریاست کے غدار اور دشمن ہیں ۔ وہ پاکستان پر حملہ آور ہو کر پاکستان سے  برسرِ جنگ ہیں ۔ پاکستانی افواج اس دشمن کے خلاف دفاعی کاروائی کر رہی ہیں ۔ کسی بھی   جنگ میں جو دشمن جنگی قیدی بنتا ہے ، اُس کا مقدمہ فوجی عدالت ہی میں چلایا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا ، اس موضوع پر کج بحثی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔

یہ دہشت گردی کوئی سادہ سا مظہر ہی نہیں بلکہ یہ ایک ہزار پا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ روپ بدلتا رہتا ہے ۔ اس مسئلے پر غور و خوض اور تدبر و تفکر کیا جائے تو دہشت گردی کے عفریت کے کئی چہرے نظر آتے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کی ایک قسم اقتصادی دہشت گرد ہیں جو قوم کے خزانے سے رقم نکال کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔ خواتین کے حقوق مذہب کے نام پر سلب کرنا چاہتے ہیں ، قوم کے سارے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بند و بست نہیں کرتے ۔ شہروں میں پانی کے نکاس کی منصوبہ بندی نہیں کرتے اور مذہب کے نام پر قتل کو دین کا چھٹا رکن بنا کر انسانی جانوں سے کھیلتے اور قانون کو اپنے ہاتھ کی چھڑی سمجھتے ہیں ۔

اور اب اس  دہشت گردی میں ایک نئے باب کا اضافہ آج ہی ہؤا ہے ۔ ایک چھ سالہ معصوم بچے کو جنسی ہوس کاری کا نشانہ بنا نے کے بعد قتل کیا گیا اور لاش کو ایک مسجد کی چھت پر پھینک دیا گیا ۔ یہ واقعہ ربیع الاول کے متبرک مہینے میں اُس وقت ہؤا جب مسلمانانِ عالم عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب کے انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں ۔ انسانی درندگی کا یہ واقعہ جہاں بےحد المناک اور حیا سوز ہے وہاں پاکستان کے نظامِ مساجد پر ایک سوالیہ نشان بھی کہ کیا پاکستانی مساجد میں دی جانے والی اسلامی اخلاقیات کی تریبت نتیجہ خیز اور اثر انگیز بھی ہے یا ہماری نمازیں محض ریاکاری ہیں، جو آج کے مسلمان کے کردار پر بالکل بھی اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں ۔

نماز کا جو معیارقرآنِ حکیم نے مقرر کیا ہے اس کے مطابق نماز انسان کو برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے ۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں جرائم اور جنسی بے راہ روی کے رجحانات علمائے کرام ، مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں ، اسلامی نظریاتی کونسل اور مذہبی امور کی وزارت کا مونہہ چڑا رہے ہیں اور ٹھونک بجا کر پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے وہ صلوٰۃ جو انسان کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ۔ وہ کن مسجدوں میں پڑھائی جاتی ہے ۔

آج اس معصوم بچے کے ساتھ ہونے والی جنسی دہشت گردی ، اُس کا بہیمانہ قتل اور مسجد کی چھت پر پھینکی گئی اُس کی لاش ، جو اللہ کے گھر کی توہین ہے ۔ فتویٰ باز علما سے پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ واقعہ توہینِ مذہب کی ذیل میں نہیں آتا جس پر احتجاج ہونا چاہیے۔ اس واقعے پر فتویٰ آنا چاہیے اور سفارش آنی چاہیے کہ  اس ملزم کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے پھانسی دی جانی چاہیئے۔ لیکن لگتا ہے کہ علماء کے لیے یہ معاملہ کسی ذاتی منفعت کا نہیں ہے ۔ اس واقعے پر علماء کی مجرمانہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی جسے خُدا سُن رہا ہے اور وہی اُن بے غیرتوں کو اُن کے انجام تک پہنچائے گا جو سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے ہیں ۔