مسلمانوں کے ساتھ تعصب
- سوموار 05 / جنوری / 2015
- 4765
ہندوستان کی ریاست گجرات میں پولیس کی فرضی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے ایسے دو ویڈیو منظر عام پر آئے ہیں جن میں دہشت گردوں کو مسلمانوں کے حلیہ میں پیش کیا گیا ہے۔تازہ ترین ویڈیو گذشتہ ہفتہ نرمدا ضلع میں کی جانے والی ایک مشق کی ہے جس میں پولیس مختصر مقابلے کے بعد دو فرضی دہشت گردوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انھیں یہ نعرے بلند کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ “ چاہو تو ہمیں مار ڈالو۔۔۔۔ اسلام زندہ باد “۔
اس سے پہلے ریاست کے سورت ضلع میں بنائی جانے والی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں پولیس کے ذریعہ پکڑے جانے والے تین افراد نے اس طرح کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں جیسی عام طور پر مسلمان پہنتے ہیں۔ یہ بھی ایک مشق تھی اور دہشت گردوں کا کردار بھی پولیس والے ہی نبھا رہے تھے۔ نرمدا واقعہ کے بعد پولیس سپرٹنڈنٹ جے پال سنگھ راٹھور نے کہا ہے کہ مجھے میڈیا کے توسط سے پتہ چلا ہے ، اگر ایسا ہوا ہے تو ہم اس کی جانچ کرائیں گے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف ضروری کارروائی کریں گے۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ فرضی مشق معمول کے مطابق پولیس کے ذریعہ کی جاتی ہے۔
دوسری جانب ریاست کی وزیراعلیٰ آنندی بین نے بھی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا غلط ہے اور پولیس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔اس کے باوجود ہندوستان میں پولیس پر اکثرمذہب کی بنیاد پر تعصب کا الزام لگایا جاتارہا ہے۔خود حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ سال2013 ء میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کے اعلیٰ پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔لیکن متذکرہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اقدامات کیے گئے ہیں یا جاری ہیں،وہ کافی نہیں ہیں۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان کے مسلمانوں کو اگر کسی ایک واحد مسئلے نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری عموماًمسلم شدت پسندوں پر ڈالی جاتی ہے۔ پھر مختلف واقعات میں سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جانا ایک عام بات بن چکی ہے۔ لیکن تفتیش کے عمل میں خرابی اور بعض واقعات غلط ثابت ہونے کے سبب ملک کے مسلمان خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کے بارے میں مکمل طور پر شک و شبہات میں مبتلا ہیں۔گرچہ اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور ماہر قانون طاہر محمود کہتے ہیں کہ ملک میں مرکز سمیت ریاستی اور مقامی حکوتیں ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں ضروری نہیں ہے کہ ہر حکومت کی سوچ ایک جیسی ہو لیکن یہ سوچنا کہ ان کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی بالکل غلط ہے۔
اس کے باوجود ہندوستان میں جب بھی مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کا ذکر آتا ہے تو یہاں پولیس کا جانبدارانہ اور متعصبانہ رویہ ایک سوال کی طرح اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔اوریہ عام مشاہدہ ہے کہ اکثر فرقہ وارانہ فسادات اور ملک کی داخلی سلامتی کے معاملے میں پولیس کا کردار مشکوک رہتاہے۔خاص طور پر مظلوم طبقہ ،مسلمان اور اقلیتیں پولیس کے کردار سے یقین کی حد تک شاکی ہیں۔ہندوستان کی تین ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرلوں نے بھی اپنی مشترکہ رپورٹ میںیہ واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں کو پولیس پر پورا اعتماد نہیں ہے۔اوراس اعتماد میں کمی کی دو بڑی وجوہات ابھر کر سامنے آئی ہیں۔1) پولیس میں مسلمانوں کا آبادی کے تناسب سے کم نمائندگی کا ہونا ۔ 2) فسادات کے دوران پولیس کا برتاؤ جو مسلمانوں کے ساتھ مساوی نہیں ہوتا۔
اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ کسی بھی فساد یا دھماکہ کے بعد اکثر و بیشتر پولیس مسلمانوں کوہی گرفتار کرتی ہے۔مظلوم ہوتے ہوئے بھی وہ طویل مدت تک عدالتوں کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں،جس کے نتیجہ میں نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کا گھرتباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ وہ مقامی آبادی میں الگ ذلت و رسوائی سے دوچار ہوتے ہیں۔اکثر پولیس ہی مسلمانوں کے جذبات اور ان کے مذہبی عقائد کو بھی مجروح کرتی ہے،جس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور پولیس کے درمیان عدم اعتماد پروان چڑھ رہا ہے۔لہذا پولیس میں مسلمانوں کا تناسب بڑھنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ ان کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور عدم اعتماد کی وجوہات پر قابوپانے کے نتیجہ میں اور فسادات میں منصفانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے داخلی نظام بھی مستحکم ہوگا۔
فرضی انکاؤنٹر بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔اسی "فرضی انکاؤنٹر"کے تعلق سے گزشتہ دنوں ایک رضا کار تنظیمPUCLنے سپریم کورٹ میں ایک اپیل برائے ممبئی دائر کی تھی ،جو1995اور 1997کے درمیان99مڈبھیڑوں میں 135افراد کے مارے جانے سے متعلق تھی۔اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے 32صفحاتی فیصلہ کے ساتھ پولیس نظام کی اصلاح سے متعلق اصولی ہدایات جاری کی تھیں۔جو اس طرح ہیں: i) ہر انکاؤنٹر کی جانچ سی آئی ڈی یا آزاد ایجنسی سے کرائی جائے۔ii)جانچ ختم ہونے تک اس میں شامل پولیس اہلکاروں کو پرموشن یا بہادری ایوارڈ نہیں ملے گا۔iii)تعزیرات ہند کی دفعہ176کے تحت ہر انکاؤنٹر کی جوڈیشیل مجسٹریٹ سے جانچ لازمی ہوگی۔iv)ہر انکاؤنٹر کے بعد ہتھیار اور گولیاں جمع کرانے ہوں گے۔v)ہر انکاؤنٹر کی ایف آئی آر درج کرانی لازم ہوگی۔vi)انکاؤنٹر کی جانچ رپورٹ ہر 6ماہ میں متعلقہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو بھیجنی ہوگی۔
سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اب اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر انکاؤنٹر کی آزاد ایجنسی سے جانچ کرائی جائے۔ یہ جانچ تیزی سے پوری کی جائے۔اگر کوئی پولیس اہلکار فرضی مڈبھیڑ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی ہو۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ایف آئی آر،ڈائری کی انٹری اور پنچ نامہ اور اسکیچ وغیرہ،متعلقہ عدالت کو بھیجنے میں تاخیر نہ ہو۔موت کے بعد ملزم یا مجرم کے سب سے قریبی رشتہ دار کو جلد از جلد واقعہ کی بابت مطلع کیا جائے۔ اگر کسی کو انکاؤنٹرکے فرضی ہونے کا شک ہو تو وہ سیشن کورٹ میں شکایت درج کراسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ رہنما ہدایات کی سختی سے ہر حال میں اور ہر کیس میں پابندی کی جائے۔کورٹ کے فیصلے کے مطابق سی آئی ڈی یا کسی اور اسٹیشن کی پولیس ٹیم اپنے سینئر پولیس افسر کے نگرانی میں انکوائری کرے گی۔ وہ شواہد جمع کرے گی جس میں خون،بال،جائے وقوع کی مٹی کے ذرات کے علاوہ واردات کے عینی گواہوں کو ان کے پورے نام،پتے، اور ٹیلی فون نمبروں کے ساتھ تفصیلات موجود ہوں۔ ان لوگوں کا بھی بیان لیا جائے گا جو انکاؤنٹر میں شریک تھے۔ انکاؤنٹر کی تفصیلات،اس کا مقصد،مقام ،نقشہ کے ساتھ اور اگر ممکن ہو تو انکاؤنٹر کے سین کا فوٹو اور ویڈیو یا کچھ جسمانی شہادت،موت کا وقت، اس کے علاوہ جو بھی ممکن ہو اس کی تفصیل جمع کی جائیں۔ تاکہ اس موت کے تمام حقائق سامنے آسکیں۔ زخمی مجرم یا متاثر کو ہر طرح کی طبی امداد مہیا کرائی جائے نیزاس کا بیان مجسٹریٹ یا علاج کرنے والے ڈاکٹر درج کریں گے۔
لیکن اس پوری تفصیل کے بعد بھی کہا جاسکتا ہے کہ پولیس کے متصبانہ رویہ کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ خصوصاً گجرات پولیس کے ذریعہ کی گئی مشق ،اس میں استعمال کی جانے والی ٹوپی ، ڈائیلاگ اور خاص طبقہ کا حلیہ یہ واضح کرتا ہے کہ اس عمل کے پیچھے ایک مخصوص فکر کارفرما ہے۔اور اُس مخصوص فکر کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ فرضی انکاؤنٹر کا خاتمہ ہو جائے؟
آخری بات یہ کہ جو واقعہ سامنے آیا یعنی گجرات پولیس کے ذریعہ کی گئی مشق اور اس کا طریقہ ، دراصل ایسے ہی واقعات مسلمانوں یا ملک کی اقلیتوں کو پولیس پر اعتماد بحالی میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔ساتھ ہی ملک میں امن و امان ونظام پر اعتماد کی جو ضرورت ہے وہ اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہر سطح پر موجود تعصب کو نہ ختم کیا جائے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ اُس حکومت کی ناکامی ہوگی جو “ سب کا ساتھ سب کا وکاس “ کا نعرہ لگاتی ہوئی برسر اقتدار آئی ہے۔پھر یہ ناکامی ہی دراصل اس فکر و نظریہ کی ناکامی ہوگی جس کی کامیابی کے لیے بڑی تعداد میں مخصوص فکر و نظر سے وابستہ افراد اپنی زندگیوں کو وقف کئے ہوئے ہیں۔