سلمان تاثیر ! تیری کمی رہے گی
- سوموار 05 / جنوری / 2015
- 6540
ہالینڈ کے ایک روزنامہ نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی برسی پر ان پر جان لیوا حملے کے حوالے سے لکھا تھا۔ ” گورنر سلمان تاثیر کے دن دیہاڑے قتل سے ایک بات پوری طرح عیاں ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان ملکی استحکام کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کی جڑیں گہرائی تک اثر کر چکی ہیں“۔
ادھر پاکستان کے معروف دانشور اور مذہبی اسکالر جاوید غامدی نے ایک ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سلمان تاثیر کے قتل کو جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قتل و غارتگری کے سلسلے کو یہیں پر ختم ہو جانا چاہئے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو جتنا مکالمہ آج ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں ہم اتنے مکالمے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جاوید غامدی کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں اگر کسی ایک سے دوسرے کو اختلاف ہے تو اس کی بات بھی تحمل و بردبادی سے سنی جائے۔ انسانی قوانین کوئی آسمانی صحیفے نہیں ہوتے کہ ان پر بات ہی نہ کی جا سکے۔ یہاں یہ ناخوشگوار بات بھی بتانا ضروری ہے کہ جاوید غامدی کو دھمکیوں نے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان کے بڑے حادثے میں یہ حادثہ بدلتے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حالات کی سنجیدگی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ تنظیمیں یا ریاستیں جمہوری نہیں ہوتیں بلکہ خیالات جمہوری ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے اپنی بے وجہ موت سے آٹھ گھنٹے قبل اپنے TWITTER پر شکیل بدیوانی کا یہ شعر لکھا تھا۔
” میرا عزم بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں“
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عزت ، ناموس ، آن ، آبرو ، دھج اور شان کے سامنے جان بڑی حقیر شے ہے اور یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا کہ ناموس کسے کہتے ہیں؟ آبرو کا کیا مطلب ہے؟ اور شان کیا ہوتی ہے۔ وہ ایسا شخص نہیں تھا جو بغیر ” زندہ “ رہے موت کی آغوش میں چلا گیا ہو۔ وہ اعلیٰ مقاصد کے لئے زندہ رہا اور اس کا ہدف تھا کہ اس نے دنیا و مافیہا کو حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی درمیان سے نکال دیا تھا۔ بس صرف ایک ہی مقصد رہ گیا تھا یعنی انصاف کا حصول۔ یہی وجہ تھی کہ قوم کی ایک غریب بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے میدان عمل میں اتر آیا تھا۔ وہ بیٹی جو اقلیت سے تعلق رکھتی تھی اور وہ انسان جو سیکولر تھا۔ ایک بار دہلی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے پنڈت جواہر لال نہرو سے پوچھا تھا کہ آپ کے نزدیک سیکولر ازم کی کیا تعریف ہے؟ نہرو نے جواب دیا تھا ” تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حکومت کی جانب سے یکساں تحفظ“۔
سلمان تاثیر کی موت محض سیاست کا نقصان نہیں ہے سیکولر ازم کا نقصان ہے۔ انسان دوستی کا نقصان ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کا نقصان ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ اپنے عمل اور مکالموں کے ذریعہ عوامی تال میل ، بھائی چارہ ، برد باری اور ہم آہنگی کا پیغام دینے والی اس افسانوی شخصیت کے کارناموں پر انتہا پسندوں اور مذہبی جنونیوں نے کتنی تنقیدیں کیں، کس قدر شور مچایا اور کس طرح باقاعدہ حملے کئے۔ اس کے باوجود سیکولر ازم کی کمٹمنٹ سلمان تاثیر کو فیض احمد فیض کی طرح کبھی اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور نہ کر سکی۔ میرے حساب سے سیکولر ازم کی کمٹمنٹ کی یہ پاسداری اگر سلمان تاثیر کی روایت کے بطور ہی ہمارے درمیان باقی رہے تو اس نئے عہد میں یہ ایک بڑا کام ہو گا۔
بعض لوگوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مذہبی آزادی کی حفاظت کے لئے مخالف اہانت مذہب پالیسیوں پر عمل آوری ناگزیر ہے۔ میرے نزدیک مذہب کے تعلق سے اظہار خیال کا تحفظ ضروری ہے کہ کسی مذہبی مسئلے پر مختلف عقائد کے پیروکار مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں اور میں یہ کہنے کی بھی جسارت کروں گا کہ نفرت ، تعصب ، امتیاز ، جبر ، استبداد جیسے رجحانات مذہبی امتیازی قوانین کے بطن سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ آج بھی بعض ذرائع ابلاغ میں پاکستانی عدالت کے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر ایسے بیانات دئیے جا رہے ہیں جس میں اس وقت بھی ایک عیسائی کو پیغمبر اسلام کی اہانت کے جرم میں پھانسی کی سزا تجویز کی گئی تھی۔ اس پر 67 سالہ کیتھولک بشپ جان جوزف نے عدالت میں احتجاجاً خود کشی کر لی اور وصیت کی کہ جب تک یہ قانون منسوخ نہ ہو اس کی لاش نہ اٹھائی جائے۔ اس لئے میرے نزدیک پاکستان کے عیسائی ، ہندو ، سکھ احمدی اور دوسری اقلیتوں کے لئے بھی معاشی و سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک ” سچ کمیٹی “ کی ضرورت ہے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مذہب کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے ، اس کا عقل ، قاعدہ یا قانون سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ مذہب کو منطق ، دلیل یا لاجک کے پیمانوں میں نہیں ناپا جا سکتا۔ مذہب کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کی سوچ بے بنیاد ہے اور ایسا ملک متحد نہیں رہ سکتا۔ ملک کی تمام طاقت اس کے سیکولر کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ سیکولر ازم کے وسیلے سے ہی جمہوری طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی و کامرانی و مضبوطی کی سمت میں مشعل راہ ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بات پھر سے بتانا ضروری ہے کہ پاکستانی نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں ایسے ابواب ہیں جو مختلف فرقوں و مسلکوں کے درمیان تفریق اور علیحدگی کے جذبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوتے ہیں۔ جو انسانیت ، اخلاق ، تہذیب ، آئین ، عدل و انصاف کا جنازہ نکالتے ہیں۔ اندرا گاندھی نے تو صرف دو قومی نظریہ اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دیا تھا مگر ہم نے تو گزشتہ 65 برسوں میں آئین ، قانون ، اصول ، اخلاق ، عدل ، انصاف ، جواز ، منطق ، دلیل ، تہزیب ، سیاست ، جمہوریت ، حسن زندگی ، اعتماد ، خواب ، احساس ، آزادی ، خود مختاری ، یقین ، عزم ، اقدار اور امید کو بوری میں بھر کر بحیرہ عرب میں ڈبو دیا ہے۔ بڑا مجرم کون ہے؟ اندرا گاندھی یا ہم؟
میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مسلمان حالات کی رفتار اور وقت کے ساتھ بدلتے کیوں نہیں ہیں۔ مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلقات استوار کرنے کے لئے ایسے امور اسلامی کو مسلمان ترک کرنے میں کیوں پس و پیش کرتے ہیں جو غیر مسلموں سے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ فتنہ و فساد اور انتہائی مشکل حالات میں شریعت پر عمل کرنا دشوار ہو جائے گا۔ جبکہ دس حصے میں سے ایک حصے پر عمل بھی نجات کے لئے کافی ہے۔ اسی حوالے سے یہاں میں ایک روایت بیان کرنا چاہوں گا۔ یہ روایت ترمذی شریف کی کتاب الفتن اور مشکوة کے باب الاعظعام بالکتاب دانستہ میں حضرت ابو ہریرہ سے بیان کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ تم ایسے زمانے میں ہو کہ اس میں اگر تم سے کوئی اس کا دسواں حصہ بھی ترک کر دے جس کا حکم دیا گیا ہے تو ہلاک ہو جائے گا۔ پھر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جو ان میں سے دسویں حصے پر عمل کرے گا اس کی نجات ہو جائے گی۔
اور میرے حساب سے ایسا وقت آ چکا ہے۔
آسمانوں سے پکارے جائیں گے
ہم اسی دھوکے میں مارے جائیں گے