آئینی ترمیم اور کالعدم تنظیمیں

  • منگل 06 / جنوری / 2015
  • 4437

 2014اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ۔لیکن جاتے جاتے اس نے کئی اہم قومی مسائل کی جانب جرات مندانہ اقدامات کرنے کیلئے حکومت ، سیاسی جماعتوں ، عسکری قیادت اور عوام کو حوصلے بخش دئے ۔ 9/11کے بعد سے سے جس دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان مبتلا ہوا ہے اس نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ۔ پاکستان جن حالات سے ودچار ہوا اس سے ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا۔

دنیا بھر میں عز ت کا جنازہ نکلا تو تھا ہی عوام میں نہ ختم ہونے والا عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہوا۔ جس نے ملک بھر میں ہر فرد اور ہر ادارے کو ناکارہ بنادیا۔دوسری جانب اسلام کے نام لیوا افراد نے شریعت کے نفاذکو بنیاد بناکر ملک میں شر پسندی کو ایندھن فراہم کیا جس سے آج پاکستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں کہ جو جل نہ رہا ہو ۔ عوام محفوظ نہیں ، عبادت گاہیں اور مدارس دین اسلام کی اشاعت کے بجائے منافرت اور منافقت کیلئے کام کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ جس کسی کو نقصان ہو نہ ہو ، اسلام کی شہرت بہرحال متاثر ہوئی ہے۔ پی پی پی کی سابقہ حکومت نے بجائے دہشت گردی کی کارروائیوں یا اس میں ملوث افراد کے خلاف اقدام کرنے کے بھرپور انداز میں پہلو تہی سے کام لیا۔ اس طرح دہشتگرد عناصر کو توانائی فراہم ہوئی اور وہ بغیر کسی رکاوٹ اپنے عزائم اور مقاصد کے حصول کیلئے مصروف رہے ۔

ملک و قوم کو انتشار کی کیفیت میں مبتلا کردیا گیا۔ مذہبی ، سیاسی اور عوامی اجتماعات پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ساتھ ہی ساتھ کئی اہم شخصیات سمیت نہتے اور معصوم افراد ٹارگٹ کئے جانے لگے ۔یعنی ملک کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہا جہاں دہشت گردی ، انتہا پسندی ، ٹارگٹ کلنگ یا دیگر جرائم نے عوام کو یرغمال نہ بنالیا ہو۔ پورا ملک سراسیمگی اور اضطرابی صورتحال سے دوچار تھا ۔ 2013ء کا سال تبدیلی کا سال قرار دیا گیا اور کسی حد تک تبدیلی دکھائی دی بھی گئی۔

مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی اور میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات کاعزم ظاہر کیا ۔ میاں صاحب بنیادی طور پر ایک کاروباری شخصیت ہیں چنانچہ انہوں نے پڑوسی ممالک سمیت دیگر ممالک سے کاروبار اور بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کیلئے کئی اہم اصلاحات کی گئیں ۔ یہ بات طے ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کیلئے بہتر اور سازگار ماحول کا ہونا ناگزیر ہوتا ہے جس کی بنیادی شرط امن و امان کا قیام ہے ۔ موجودہ حکومت نے اسے محسوس کیا اور اسی سال ستمبر میں اے پی سی بلاکر سیاسی سطح پر رائے ہموار کی۔ طے ہوا کہ جو دہشت گرد مذاکرات کیلئے آمادہ ہوں ان سے جمہوری انداز میں بات چیت کی جائے۔ ان میں طالبان کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ ملک میں ترقی و خوشحالی کی گاڑی پٹری پر چڑھ جائے اور عوام میں پایاجانے والا خوف اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہو۔

امن مذاکرات کیلئے پہل کرنا اسی کوشش کا حصہ تھا لیکن طالبان نے شاید اسے کمزوری جانا اور بغل میں چھرا اور منہ پر رام رام کے مصداق رویہ اپنایا ۔ ضرب عضب آپریشن نہ شروع کیا جاتا اگر طالبان اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجاتے مگر ایسا نہیں ہوا ۔ ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا جس سے وزیرستان کے لوگ متاثر ہوئے ۔ 16دسمبر ہماری ملکی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے ، یہ وہ تاریخ ہے جسے ہم کسی بھی صورت فراموش نہیں کرسکتے ۔2014ء میں اسی دن نے ملک کو ایک نئی صورتحال سے نبزد آزما کردیا۔ آرمی پبلک اسکول میں 134بچوں کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں کہ جس کو وقت کی دھول سے چھپادیا جائے ۔ بلکہ یہ ایسا سانحہ ہے کہ جس نے قوم کو کسی اہم فیصلہ کرنے کی پوزیشن پر لاکر کھڑاکردیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ قوم جس اتفاق اور اتحاد کی خواہش عرصہ سے کررہی تھی بالآخر حکومت ، سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت اس پر متفق ہوگئی۔ ملکی سا لمیت کیلئے یکسوئی پیدا ہوگئی۔

یہ ایک کھلی اور واضح حقیقت ہے کہ 9/11 نے کسی کو متاثر کیا ہو یا نہ کیا ہو پاکستان کوبہرکیف ہر سطح پر نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کو اکھاڑ پھینکا جائے گا ۔اس سے عوام میں اطمینان کا احساس پھر سے اجاگر ہوا ہے۔ دہشت گردوں کو ایک بار پھر پناہ گاہوں کا کال پڑگیاہے ۔ اب انہیں پناہ دینے والوں اور کسی بھی لحاظ سے معاونت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا ۔ جبکہ میاں نواز شریف کا قوم سے وعدہ ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کو کسی بھی نام سے کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور حکومت ہراس تنظیم اور اس کے سربراہ کیخلاف بھرپور اقدامت کریگی جو محض نام بدل کر برسرپیکارہیں ۔

البتہ اس سے قبل مشرف دور میں بھی کئی تنظیمیں کالعدم قرار دی گئیں اس کے باوجود ابھی تک وہ مختلف ناموں سے انتہا پسندی اور دہشت گروی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ۔ ہم جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ماضی میں جن تنظیموں کو کام کرنے سے روکا گیا یا کالعدم قرار دیا گیا وہ دوسرے ناموں سے بغیر کسی تردد کے کام کررہی ہیں ۔ 2002ء میں حرکت المجاہدین پر پابندی عائد کی گئی تو مولانا فضل الرحمان خلیل نے انصار الامہ تشکیل دی اور سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔یکم دسمبر 2005ء میں الرشید ٹرسٹ پابندی کی زد میں آیا تو یہ الرحمت ٹرسٹ بن گیا۔ 1996ء میں سپاہ صحابہ کالعد م قرار دی گئی تو لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ 14اگست 2001ء میں لشکر جھنگوی کو کام کرنے سے روکا گیا تو 2002ء میں مولانا احمد لدھیانوی نے اہل سنت والجماعت کی داغ بیل ڈالی اور جب 9 مارچ 2012ء اہلسنت والجماعت کالعد قرار دی گئی تو اس کا نام غلامان صحابہ رکھ دیا گیا۔

مولانا مسعود اظہر کی تنظیم جیش محمد پر 12 جنوری 2002ء میں پابندی لگنے کے بعد اس کا نام خدام الاسلام سے بدل دیا گیا۔ 12جنوری 2002ء میں لشکر طیبہ پر پابندی لگی تو چھ ماہ بعد یہ تنظیم جماعت الدعوۃ کے نام سے حافظ محمد سعید کی سربراہی میں کام کرنے لگی اور جب 15 نومبر 2003ء کو جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ پر رکھا گیا تو اس کا نام فلاح انسانیت فاؤنڈیشن رکھ دیا گیا۔ اسی طرح 12جنوری 2002ء میں تحریک جعفریہ پاکستان کو کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تو اسے تحریک اسلامی پاکستان بنادیا گیا ۔ مگر جوں ہی 15 نومبر 2003 ء میں اس پر پابندی لگی تو یہ شیعہ علماء کونسل کے نام سے کام کرنے لگی ۔ علاوہ ازیں حرکت الجہاد الاسلامی پر پابندی کا اطلاق ہوا تو اس کا نام العصر رکھا گیااور جماعت الفرقان کالعدم ہونے کے بعدغلبہ اسلام بن گئی۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں کم و بیش 60کالعدم تنظیمیں کام کررہی ہیں جن کیخلاف کارروائی کرنا ناگزیر ہے ۔ ایسے اقدامات بھی بہت ضروری ہیں جن سے ان کے فنڈز منجمدکئے جائیں اور کسی بھی طرح کی رسد کی فراہمی کو روکا جائے ۔ حکومت نے اس حوالے سے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں سر فہرست فوجی عدالتوں کا قیام ہے جس پروزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد اور یکجہتی کا مظاہرہ تو کرلیا ہے لیکن اب ان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ قومی اسمبلی میں پاکستان کے آئین میں 21 ویں ترمیم کا بل اکثریت سے پاس ہوگیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام ( مولانا فضل الرحمان گروپ) ، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ متحدہ قومی موومنٹ جو اس سے قبل فوجی عدالتوں کے قیام کو مارشل لاء کا پیش خیمہ قرار دے رہی تھی اب اس پر رضا مند دکھائی دیتی ہے جبکہ پی پی پی اسے ملک میں جمہوریت کی بقاء سے تعبیر کررہی ہے ۔

گو کہ فوجی عدالتوں کا قیام جمہوریت اور اس کے تقاضوں کے متضاد ہے اس کے باوجود حکومت فوجی عدالتوں کا دفاع کرتے ہوئے آئین میں ترمیم لانے پر بضد ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ یہ عدالتیں کینگر و کورٹ نہیں ، یہ سیاستدانوں ، مدارس یا صحافیوں کیخلاف بھی نہیں البتہ ان کے ذریعہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کی جائے گی ۔ ساتھ ساتھ ان مدارس اور افراد کیخلاف کاروائی کی جائے گی جو ان کے سہولت کار ہوں گے۔پوری قوم کو اس بات سے انکار نہیں کہ ہم جن حالات گزررہے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے جنگی حالات سے کم نہیں۔ کیونکہ 2001ء سے جاری دہشت گردی کی جنگ نے ہمیں غیر محفوظ بنادیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ کہنا کہ قوم اب متحد ہے تو مضحکہ خیزی کے سوا کچھ اور نہیں کیونکہ قوم تو 1947ء سے ہی متحد ہے۔ ورنہ پاکستان قائم ہی نہ ہوسکتا ۔ البتہ سیاسی اور حکومتی سطح پر کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس کی واضح مثال سانحہ پشاور ہے جسے ایک ماہ کے قریب کا عرصہ ہونے کو ہے اور کوئی مثبت پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

اقتدار کے متمنی افراد دھرنوں کے اختتام کے بعد آج بھی مراعات چھن جانے کے صدمات میں مبتلا ہیں ۔ سیاسی سطح پر جمہوریت کی بقاء آج بھی سوالیہ نشان ہے ۔ فوجی عدالتوں کی حمایت دراصل اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہے ۔ بین الاقوامی قانونی ماہر اور سابق وزیر قانون احمر بلال کا حکومت کو مشورہ ہے کہ اگر مگر سے کام لینے کی بجائے وہ شدت پسندی کیخلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کرکے ملک میں جنگی قانون نافذ کردے۔ یعنی ملک میں حالت جنگ کا اعلان کردیا جائے۔ اس طرح حکومت کو بعض بنیادی حقوق معطل کرنے کا اختیار مل جائے گا اور کئی اہم فیصلے کرنے میں بھی آسانی حاصل ہوجائے گی ۔ اس صورت میں نہ تو آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ان عدالتوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ البتہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ پاکستان کے آئین میں جنگ کے قانون میں الگ سے کوئی شق نہیں لیکن مختلف آرٹیکل کو ملا کر اس پر عملدرآمد کو آسان بنایا جاسکتا ہے ۔

سوال چونکہ ملک کی سلامتی اور بقا کا ہے لہٰذا اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ دہشت گردی کے واقعات پر حکومت سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔ اگر سانحہ پشاور نے پوری قوم کویکجا کردیا ہے تو ایسے طرز عمل سے اجتناب کیا جائے جس سے مزید سانحات سامنے آنے کا امکان ہو۔ کیونکہ ملک اس قبل بہت سے نقصانات کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے ۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی اصول یا قانون کو مانتے ہیں ۔ یعنی دہشت گرد صرف اور صرف دہشت گرد ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انتہا پسندی کی لہر ملک کے ہر محلہ اور ہر گلی کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی میں جس طرح کالعدم تنظیمیں نام بدل کر کام کرتی رہی ہیں، مستقبل میں ایسا نہ ہوسکے۔