کیسی جمہوریت !

  • جمعہ 09 / جنوری / 2015
  • 4684

کیا پاکستان میں جمہوریت پنپ سکتی ہے ؟
نہیں !
یہ ہماری ناقص رائے ہے اور اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے ہمیں بہت وقت لگا ہے۔
کیوں نہیں پنپ سکتی ؟

ہاں ! یہ سوال بڑا اہم ہے اور اسکا ہمارے پاس کوئی گھڑا گھڑایا جواب موجود نہیں ہے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معروضی حالات میں ایسا ممکن ہے تو کوشش کر کے دیکھ لیجئے۔ خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں ۔
اب ذرا تصور کیجئے کہ دنیا کے مہذب ملکوں اور خاص طور سے یوروپ میں یہ کیوں ایسا نظام حکومت بن چکا ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی محال ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جمہوریت کے کچھ ایسے لوازمات ہوں جنکے بغیر جمہوریت کی عمارت کھڑی ہی نہ کی جا سکتی ہو۔

اگر ہیں تو وہ کیا کیا ہو سکتے ہیں۔
شاید اس میں سب سے پہلا لازمہ تعلیم کا ہو۔ جدید سائنسی بنیادوں پر دی جانے والی تعلیم۔جو ہر طرح کے من گھڑت نطریئے سے پاک ہو۔ جس میں تاریخ کو تاریخ سمجھ کر پڑھا جائے نہ کے اپنی من پسند جھوٹی عظمت کے ترانے گانے کے لئے۔ جو سب کے لئے یکساں ہو۔جس میں سوال کرنے کو علم کی بنیاد قرار دیا جائے نہ کہ پہلے سے تیار کردہ نظریاتی جوابوں کا رٹا لگانے کو۔ جس کا بنیادی مقصد علم کی ترسیل ہو نہ کے نوکری لینے کے لئے ڈگری کا حصول۔

ایسا ہی ایک اور لازمہ معاشرے میں فرد کی اہمیت بھی ہو سکتا ہے۔ جس کے حقوق و فرائض بلا تفریق رنگ و نسل و عقیدہ و مذہب یکساں ہوں۔ کسی ایک فرد یا گروہ کا استحقاق دوسرے سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ جس میں تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بلا خوف وخطر اختلاف کی گنجائش موجود ہو۔ جس میں قانون کی حاکمیت ہو اور اختیارات کا تعین پہلے سے کر دیا گیا ہواور ان سے تجاوز کرنے پر سزا کا خوف موجود ہو۔عورتوں کو ہر سطح پر برابری حاصل ہوتاکہ وہ معاشرے کی ترویج و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
جہاں جاگیرداری اور قبائلی نظام کا یکسر یا مرحلہ وار خاتمہ کر دیا جائے۔

ایسے ہی اور بھی چند لازمے ہیں جنکے بغیر جدید جمہوریت کا تصور محال ہے۔
لیکن یہ سب کچھ بھی تو جمہوریت کی بنیاد پر ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
درست ۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جناب! مغربی ملکوں کو اس مقام تک پہنچنے میں بہت وقت لگا ہے۔ ہمیں بھی لگے گا۔
یہ بھی درست۔

مگرمغرب کو تو موبائل بنانے میں بھی کافی وقت لگا ہے، لیکن اسکے جدید ماڈل خریدنے کے لئے ہم بے چین رہتے ہیں۔ انکی باقی ایجادات اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے میں بھی ہم کوئی عار محسوس نہیں کرتے بلکہ انکے حصول میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ہاں اگر کسی چیز میں عار ہے تو انکے وہ انسانی رویئے اپنانے میں ہے جس سے خلق خدا کا فائدہ ہونے کا امکان ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہماری ہر چیز خطرے میں پڑ جائے گی۔

تو بھائی اگر اتنے ہی غیرت مند ہو تو موبائل فون چھوڑ اور قاصد کبوتر پالو۔ ہو سکتا ہے سو دو سال بعد کسی باغیرت طریقے سے پیغا م رسانی کی کوئی ٹیکنالوجی ہم خود ہی ایجاد کر لیں۔ اور ہوائی سفر کے لئے ہمارے پاس اڑن کھٹولے اور جنات توپہلے سے ہی موجود ہیں۔ فی الحال انہیں سے کام چلائیے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی موجودہ سرحدوں میں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام اتنا پختہ ہے کہ صرف انہی طبقوں سے ہی نمائیندے منتخب ہو کر اوپر آ سکتے ہیں۔ اب ان میں وہ نو دولتئے بھی شامل ہو گئے ہیں جو جمہوریت کے نام پربے مہار کرپشن اور لوٹ مار کرتے دیکھتے ہی دیکھتے ارب کھرب پتی ہو گئے ہیں اور ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ وہ جسے چاہیں خرید سکتے ہیں۔ اور یہ بات ہے بھی درست۔ آج مملکت خداداد میں سب سے ارزاں جنس ضمیر ہی تو ہے۔ بولی دو ۔خرید لو۔
کیا یہ بہروپئے جمہوریت کو اسکی روح کے مطابق چلنے دیں گے؟
آپ خود ہی سوچیئے۔

اور پھر جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، وہ بغداد ہو یا برصغیر، تنگ نظر ملا بھی ہمیشہ سے تخت کے لئے اسکی مرضی اور مفاد کے فتوےٰ جاری کرتا رہا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
پر کل تک محلے سے ملنے والی خیرات کی روٹی کھانے والا ملا آج اسقدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اب تخت و تاج کی رٹ بھی اسکے لئے کوئی معٰنی نہیں رکھتی اور وہ دین کے نام پر جو چاہے کرتا پھرے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اسکی طاقت کا منبع دین کی تشریح کا کلی اختیار اور مدرسوں کی طاقت ہے جہاں عصری علوم سے بے بہرہ تنگ نظر روبوٹ تیار کئے جاتے ہیں جن کی تعداد اور طاقت میں بڑھتی آبادی کے ساتھ اسی تناسب سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

ان بے خبر بچوں میں نجانے کتنے ’’نیوٹن ‘‘ ہوں گے کتنے ’آئن سٹائن ‘‘ ہوں گے، کتنے موجد، فنکار، اور کھلاڑی ہوں گے جن کی خداداد صلاحتیں ہماری بے حسی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھتی چلی جا رہی ہیں ۔ ذرا سوچئے اگر ان بچوں کو عالمی معیار کی تعلیم میسر آ سکتی تو یہ ملک کی جی ۔این۔پی کو کہاں سے کہاں لیجا سکتے تھے۔ افسوس کہ یہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے خیرات کی روٹیاں کھانے پر مجبور ہیں۔
تو پھرکیا یہ ملا کسی ایسی جمہوریت کو چلنے دے گا جس میں اسکی طاقت کا منبع اس سے چھین لیا جائے اور اسکی حیثیت صفر ہو جائے۔
آپ خود ہی سوچئے۔

اور اب اگر اس ملک میں قیام جمہوریت کے پراسیس کو دیکھا جائے تو اسکے جینوئین نفاذ سے یقین اور بھی اٹھ جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک نظر ووٹنگ کے عمل پر ڈالتے ہیں۔
چھوٹے بڑے شہروں میں تو شاید لوگوں کی ایک بڑی تعداد کسی حد تک اپنی مرضی سے ووٹ ڈالتی ہو۔ پر دور دراز کے دیہاتوں اور وڈیروں کے علاقوں میں کیا ہوتا ہے؟
ان علاقوں میں ہاریوں کو انسان ہی نہ سمجھنے والا وڈیرا اول تو کنویسنگ کے لئے جاتا ہی نہیں۔ اسکے منشی یا گلو بٹ انہیں بتا دیتے ہیں کہ لوٹے کے نشان والی پرچی پر انگوٹھا لگانا ہے یا کتے بلے والی پرچی کے نشان پر۔اور بس۔
اب کسی میں سرتابی کی مجال ہو تو سامنے آئے۔ اور پھر یہی لوگ عوام کے منتخب نمائیندے کہلاتے ہیں۔
اور جب یہ جھوٹے سچے طریقوں سے منتخب ہو جاتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔

باقی ترقیاتی کاموں کو تو چھوڑیں، یہ اپنے علاقوں میں سکول کھلنے تو کیا چلنے ہی نہیں دیتے۔ جو کھلتے ہیں انہیں گھوسٹ سکولوں میں تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ وفاداری کے عوض انگریز سے ملنے والی جاگیروں پر بسنے والی انکی رعایا کہیں اپنے حقوق جان کر انکے مقابلے میں ہی کھڑی نہ ہو جائے۔اور رعایا پر موروثی حکومت کا حق انہوں نے اللہ کی مرضی قرار دیتے ہوئے خود کو دے رکھا ہے۔

آپ خود ہی سوچئے کہ کیا کسی منتخب حکومت سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی سرکاری رہائش گاہوں ، مراعات اور پروٹوکول پر تو کروڑوں روپیہ روزانہ خرچ کرے اور جن کی فلاح کے لئے وہ اقتدار میں آئی ہو انکے بچے تھر میں بھوک سے مرتے رہیں اور اسکا جواز یہ تلاش کیا جائے کہ حکومت کے پاس مناسب وسائل موجود نہیں کیونکہ یہ ایک غریب ملک ہے۔

غریب ملک !
اچھا ! ناروے تو دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ یہاں کے وزیر اعظم ہاؤس کا بجٹ اتنے لاکھ کراؤن یومیہ ہے۔ وزراء کے پاس ذاتی استعمال کی مہنگی مہنگی سرکاری گاڑیاں ہیں۔ جب وہ سفر کرتے ہیں تو تیس تیس گاڑیوں کے سکوارڈ ان کے آگے پیچھے چلتے ہیں۔ سرکاری افسروں کو ایکڑوں میں سرکاری کوٹھیاں، گاڑیاں، ملازم ، نوکر چاکر ملے ہوئے ہیں۔ ہم نے تو نہیں سنا۔حالانکہ ناروے ان تمام عیاشیوں کا متحمل ہو بھی سکتا ہے۔ لیکن عوام کے پیسے سے کھلواڑ یہاں گناہ سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔
بلکہ جہاں تک ناروے کے وزیر اعظم ہاؤس کا تعلق ہے، تو اس میں تو کافی عرصے تک کوئی وزیر اعظم رہنے پر تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ سب یہی کہتے تھے کہ ہم تو اپنے گھر میں ہی رہیں گے۔ لیکن کیا کیا جائے اس احساس کمتری کا کہ مملکت خداداد میں ہر فرد دوسرے سے ممتاز اور برتر نظر آنے کی لا علاج بیماری میں مبتلا ہے۔

اور تھر میں بھوک پیاس سے سینکڑوں معصوم بچوں کے مر جانے کے حوالے سے ناروے کی ایک مثال کا بھی ذکر کرتے چلیں۔ یہاں چند ماہ قبل ایک پاکستانی بچہ اپنے ہی گھر میں والدہ کی عدم توجہ کے باعث مناسب خوراک نہ ملنے سے مر گیا تھا تو پورے معاشرے اور حکومت کے ایوانوں میں بھونچال آ گیا تھا کہ یہ ہؤا کیسے اور بچے کے سکول یا دیگر متعلقہ ادارے بر وقت اسکا پتہ کیوں نہیں لگا سکے۔ پھر جگہ جگہ مشعل بردار جلوس نکال کر بچوں اور بڑوں نے اپنے شدید رنج، شرمندگی اور تاسف کا اظہار کیا تھا۔
ایسے ہوتی ہے وہ جمہوریت اور جمہوری معاشرے جنہیں انسان چلاتے ہیں۔
لیکن جہاں بنیادی انسانی صفات سے محروم درندے جمہوریت کی نرم نرم کھالیں اوڑھ کر دندناتے پھر رہے ہوں ، وہاں کیاکسی ایسی جمہوریت کا عشر عشیر بھی قائم ہونے کاکوئی امکان ہو سکتا ہے ؟
آپ خود ہی سوچئے۔

سیاست دان سے مراد ہے سیاست کو سمجھنے اور اسکا علم رکھنے والا ۔ جیسے ریاضی دان ، سائنسدان وغیرہ۔
لیکن جو لوگ سیاست سے مراد صرف جوڑ توڑ، مک مکا، بلیک میلنگ، ذاتی مفادات کے لئے طاقت کا حصول، اثر و رسوخ، ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت کا حصول وغیرہ لیتے ہوں ، انکی بنائی ہوئی جمہوریت تو بس پھر ایسی شخصی جمہوریت ہی ہو گی جیسی کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ جہاں پارٹی کی بجائے اسکا لیڈر ہی اہم ہو گا اور اسکی لیڈری بھی وراثت میں چلتی رہے گی۔

مغربی جمہوریتوں میں تو پارٹی کا ایک منشور ہوتا ہے اور وہ انتخابات کے موقع پر ایک پروگرام بھی دیتی ہے۔ ووٹر اس منشور اور پروگرام کی بنیاد پر ہی اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ ان کی رائے کے احترام میں متناسب نمائیندگی کا نظام بھی موجود ہے جس میں کم ووٹ لینے والی پارٹی کے ووٹروں کی آواز بھی سنی جاتی ہے۔ووٹ دینے والا یہ بھی جانتا ہے کہ پارلیمنٹ کیا ہوتی ہے۔ کیسے بنتی ہے۔ کیسے ٹوٹتی ہے اور ایسی ہی دیگر تفصیلات۔

اب آئیے اپنی جانب۔
کیا ایک بہت ہی قلیل آبادی کو چھوڑ کر باقی سب یہ جانتے ہیں کہ جس پارٹی کو ووٹ دیا جا رہا اسکا منشور کیا ہے۔ اسکا انتخابی پروگرام کیا ہے۔ اور یہ کہ ہے بھی یا نہیں۔ پارلیمنٹ کیسے بنے گی۔ سینٹ کس چڑیا کا نام ہے۔ آئین کیسے تیار ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے اور تعلیم سے محروم لوگوں کی بات تو چھوڑیئے۔ شہر وں میں رہنے والے میٹرک یا ایف اے،  بی اے کے طلباء سے پوچھ لیجئے۔ خانہ دار خواتین ، کسی راہگیر ، کسی دکاندار ، کسی پیش امام یا کسی کلرک سے پوچھ لیجئے۔ ان میں سے شاید بہت کم ہوں گے جو اسکے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔
اور اگر ایسا ہے تو پھر ہم کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔

اسی جمہوریت کی ناں جس میں چند لٹیرے اسکے ہنڈولے میں بیٹھ کر اقتدار پر قابض ہیں۔ جن کی لوٹی ہوئی ساری دولت باہر پڑی ہے کیونکہ انہیں اس ملک کی بقا کا یقین ہی نہیں ہے۔ جو عوام کی زندگی میں کوئی سہولت تو کیا لاتے، الٹا اسے اسے اجیرن کرتے چلے جا رہے ہیں۔ نہ ریاست کی رٹ ہے نہ عوام کے جان و مال کا تحفظ۔ بلکہ یہ سہمے ہوئے لوگ الٹا اپنے تحفظ کے لئے فوج کی جانب دیکھتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں دھڑن تختہ ہی نہ ہو جائے۔

اس ساری بحث کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم جمہوریت کے خلاف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت اس وقت سب سے بہتر دستیاب نظام ہے۔
لیکن پاکستان میں خالص جمہوریت کا نفاذ اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسکے وہ لوازمات نہ پورے کیئے جائیں جنکا ذکر ہم ابتداء میں کر چکے ہیں۔
یہ لوازمات کیسے میسر آئیں گے اور کون انہیں پورا کرے گا۔
یہ ایک کھلا سوال ہے !