عالمِ اسلام کے خلاف مکروہ سازش
- ہفتہ 10 / جنوری / 2015
- 4780
دہشت گردی فتنہ ہے اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ، مہیب اور گھنائونا جُرم ہے اور جب قتل اور فتنہ یک جا ہو جائیں تو مُسلمانی مر جاتی ہے ۔
دہشت گردی کسی قوم کے حق میں بد دعا ہوتی ہے لیکن جب یہ قومی حدود پھلانگ کر ملّت کی ہر ریاست میں وبا کی طرح پھیل جائے تو مِلّت کا جنازہ ہی اُٹھ جاتا ہے ۔ مروجہ مذہب ہر کس و ناکس کو مہلک ہتھیاروں سے مسلح کر دیتا ہے ، امن غارت ہو جاتا ہے ، اُمت کا مستقبل خطرے میں پڑجاتا ہے ۔ خُدا کے آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑنے لگتی ہیں ۔ تب نہ اللہ کی اطاعت باقی رہتی ہے اور نہ ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔ اس فتنے کے دور میں حاکمِ وقت کی اطاعت کا سوال ہی باقی نہیں رہ جاتا اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو وہ ہے نراجیت ۔ انارکی ۔
پیرس میں ہفتہ ء رواں میں جو کچھ ہوا اور جس طرح " چارلی ہیبڈو " کے ادارتی عملے کو دو نوجوانوں ، کواشی برادران شریف اور سعید نے اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں گولیوں سے چھلنی کیا، وہ ایک المناک سانحہ ہے ۔ مرنے والوں میں ہفت روزہ کا پروف ریڈر مصطفیٰ اوراد بھی تھا اور فرار ہوتے وقت دہشت گرد بھائیوں نے جن دو پولیس والوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ، اُن میں سے ایک احمد مرابط بھی نسلاً غیر فرانسیسی تھا ۔
مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ من حیث الاُمت اُن کا کوئی مرکز ہی نہیں رہا ۔ کعبتہ اللہ محض ایک مقامِ مقدس ہے جو لوگوں کو حج کے لیے جمع تو کرتا ہے مگر مسلمانانِ عالم کے دلوں کو وحدت کے رشتے میں نہیں پروتا ۔ آج ملت پارہ پارہ ہے ۔ فرقوں اور حصوں بخروں میں بٹی ہے ۔ داعش نے اس خالی جگہ کو پُر کرنے کے لیے اپنے فتنہ کار بٹھا دیے ہیں ۔ اسی سیاق و سباق میں اقبال نے روحِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مُخاطب ہو کر کہا تھا :
شیرازہ ہوا ملتِ مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے
اس ساری المناک اور دگرگوں صورتِ حال میں مسلمان تارکینِ وطن جو یورپ ، امریکہ ، کنیڈا اور دیگر غیر مسلم ممالک میں مقیم ہیں ، بڑے سنگین ، معاندانہ اور غیر محفوظ حالات سے دو چار ہیں ۔ پیرس میں " چارلی ہیبڈو" کی سفاکانہ واردات کے بعد دو مساجد بھی جوابی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنی ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے یورپ کے گلی کوچوں میں مسلمانوں کے خلاف خود مسلمانوں کے ہاتھوں مورچے قائم ہو گئے ہیں ۔ ہر طرف سے تنقید کے نشتر چل رہے ہیں ۔
ہر چند کہ صاحبِ فہم و فراست دانشور ، صحافی اور سیاست دان ، اس صورتِ حال کا ذمہ دار عام مسلمانوں کو نہیں گردانتے ، لیکن عام یورپی النسل آدمی کے اندر پکنے والے لاوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کے کسی بھی وقت پھٹنے کا خطرہ اُن تاکینِ وطن مسلمانوں کے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے جو یورپ میں اپنی بستیاں بسائے ہوئے ہیں۔ یورپ کی دائیں بازو کی انتہا پسندی کا مزہ ہم اُس وقت چکھ چکے ہیں جب دو برس اُدھر اوسلو کے نواح میں واقع " اُوٹ اویا" کے جزیرے میں ایک نسل پرست جنونی نے نارویجین لڑکوں اور لڑکیوں کو بڑی بے رحمی سے گولیوں سے بھون ڈالا تھا اور اُس جنونی کا شکار بننے والوں میں تارکینِ وطن بچے بھی تھے ۔ یہ واقعہ اُن زخمون کو تازہ کررہا ہے اور ردِ عمل کا رُخ تارکینِ وطن کی سیاست اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مُڑ سکتا ہے ۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مستند علماء کے فتوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور دہشت گردی کے زاغ و زغن ہر بستی کی منڈیروں پر بیٹھے لاشوں کے گرنے کے منتطر ہیں ۔ بے چارے علما ء کے فتووں کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا اور جہادی دہشت گرد اپنے نجی فتووں اور اسلحوں سمیت ملکوں ملکوں بر سرِ پیکار ہیں ۔
میرے ایک کرمفرما فرما رہے تھے کہ جہادی کبھی دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا ۔ تو میں نے عرض کیا کہ جس دور میں مسلمان صادق اور امین کے بجائے کرپٹ ، رشوت خور ، ملاوٹ کار ، بجلی چور اور بھتہ خور ہو سکتا ہے ، تو جہادی دہشت گرد کیوں نہیں ہو سکتا ؟
نہ جانے دہشت گرد تنظیموں کے پروپرائٹر اور منیجنگ ایگزیکٹو اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ دہشت گردی کے ان حملوں کا عالمِ اسلام کو کوئی فائدہ نہیں ، بلکہ اُلٹا نقصان ہے ۔ اور سب سے برا نقصان یہ ہے کہ جس طرزِ اظہار پر دہشت گردوں کو اعتراض ہے اُس میں بتدریج کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ دہشت گرد حملے توہین آمیز مواد کی اشاعت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اسلام کا دامن داغ دار ہو رہا ہے ۔ نارویجین پریس کے مطابق " چارلی ہیبڈو " کا اگلا شمارہ آئندہ بدھ کو اسٹالوں پر ہوگا جو دہشت گردوں سے زیادہ عام مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا اور اُن کے بچوں کو پشاور سکول سانحے جیسے المیوں کے خوف میں مبتلا رکھے گا ۔ چنانچہ دہشت گردی عالمِ اسلام کے خلاف ایک مکروہ سازش ثابت ہو گی ۔ جس کے منفی نتائج سے عرب وہابیت بھی محفوظ نہیں رہ سکے گی ، جو دہشت گردی کی فصلوں کی آبیاری کر رہی ہے ۔ اس لیے کہ جو بویا گیا ہے وہی کاٹنا ہے کیونکہ یہی قانونِ فطرت ہے اور قانونِ فطرت سے اجتناب کی بے چاری اُمّت میں سکت کہاں ؟
آج ہر مسلمان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کا دامے ، درمے ، قدمے ، سُخنے بائی کاٹ کرے اور اس سیلاب کے آگے سب مل کر بند باندھیں ورنہ اقبال کی پیش گوئی سچ ثابت ہو گی کہ :
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کُشتہ ء سلطانی و مُلائی و پیری