پشاور سے پیرس تک آگ

  • اتوار 18 / جنوری / 2015
  • 4733

گولیاں ، سنسناہٹ ، دھماکے ، دھؤاں ۔ ۔ ۔
یارِ عزیز خالد علیگ کی نظم کا محولہ بالا مصرع میرے کانوں کے پردوں پر مُسلسل ضربیں لگا رہا ہے ۔ پشاور میں سکول کے سو سے زیادہ بچوں کا بہیمانہ قتل ایک اندوہ ناک سانحہ تھا ۔ بُرا ہو دہشت گردی کا جو بیڈ گورننس کی ناجائز اولاد ہے اور جس نے پاکستان سے فرانس تک کئی بستیوں میں تباہی مچا رکھی ہے اور انسانی معاشروں کو تاراج کرنے پر تُلی ہے ۔

گزشتہ ہفتے فرانس کے شہر پیرس سے پُرانا فتنہ نئے  الاؤ پہنے اُٹھا ۔  ایک پرانی انگریزی کہاوت تھی کہ جب فرانس کا زکام ہوتا ہے تو پورا یورپ چھینکتا ہے ۔ چنانچہ یہی ہؤا  ۔ پیرس کو بد اخلاقی اور دشنام طرازی کا زکام ہؤا  مگر صرف یورپ کیا پانچوں کے پانچوں برِ اعظموں پر چھینکوں کا دورہ پڑ گیا ۔ بد اخلاقی اور بدثقافتی انسانی معاشرت کا مکروہ ترین زکام ہے  ۔ اور جب خُدا کے پیغمبروں کو دشنام دے کر  ، اُن کی اہانت کا اقدام کر کے اور اُن کے بزعمِ خویش مضحکہ خیز خاکے بنا کر  ان کے پیرو کاروں اور نام لیواؤں کو نفسیاتی سزا دی جائے تو یہ  بد تہذیبی کی انتہا ہوتی ہے ، جو بجائے خود ایک انتہا پسندی ہے۔

یورپ میں یہ کام آزادئ اظہار کے نام پر ایک زمانے سے جاری ہے ۔ یہ کام وہ جدید اور  ترقی یافتہ معاشرے کرتے ہیں جو خود کو نئے عالمی نظام کے موجد اور رہ نما سمجھتے ہیں ۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ بد اخلاق لوگ اپنی  فکری اور نظریاتی غلاظتیں اپنے باطن کے آئینے میں دیکھتے ہیں اور پھر اُسے جدیدیت کے نام پر چہار دانگِ عالم میں  بانٹنا اور پھیلانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ بے حیائی بھی بازار کی بکاؤ جنس ہے ۔ چونکہ شیطان کی خُباثت پھیلانے والی ایجنسیاں ہر جگہ موجود ہیں اس لیے اہانت کے کارخانے چلتے رہتے ہیں اور مضحکے کے لولی پوپ  اور توہین کے غُبارے خُوب بکتے ہیں ۔اس غلیظ مال کی منڈی بہت وسیع و عریض ہے جو منشیات  کی مارکیٹ سے بھی زیادہ بڑی ہے ۔

کچھ لوگ اس مال کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کچھ اسے زہرِ ہلاہل سمجھتے ہیں لیکن وہ اس انڈسٹری کو بند کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ چنانچہ اُن کی خواہش کی تکمیل نہیں ہو پاتی اور سرمایہ داروں کا  گجر بجتا رہتا ہے اور بے حیائی کا کلاروطبار جاری رہتا ہے ۔

بدتمیزی کے ایجنٹ فرانسیسی جریدے “ چارلی ہیبڈو “ کے چند کارکن صحافیوں کو اُن کے مدیر اور پروف ریڈر سمیت ، جو خیر سے مسلمان تھا ، قتل کر دیا گیا ۔ علاوہ ازیں ایک پولیس والا بھی جو تارکینِ وطن میں سے تھا، ان دہشت گردوں کی زد میں آ کر راہئ مُلکِ عدم ہؤا  ۔ قاتل گولیاں چلاتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہے تھے  ۔ تو کیا یہ قتل و غارت گری اُس بے حیائی کی بیماری کا  جو آزادئ اظہار کے نام پر رائج ہے ، شافی علاج ہو سکتی ہے ؟ بلا شبہ یہ ایک  جان لیوا بیماری ہے جو اہانت امیز خاکے بنا کر اللہ کے پیغمبروں کی ہنسی اُڑانے والوں کو لاحق ہے ؟ افسوس کہ فی زمانہ اسلام اُن نا خلفوں کی میراث ہے جو نہ اُس کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور نہ ہی اُس کی قدر پہچانتے ہیں  ۔
میں  جو یورپی مسلمان ہوں ، جاننا چاہتا ہوں کہ آخر آزادئ اظہار کے نام پر اس فتنہ پردازی کا مطلب کیا ہے ؟

یورپی معاشرت نے ایسے شیطان کیوں پال رکھے ہیں جو یورپی تہذیب کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں ؟  جو انسانی گروہوں میں نفرت تقسیم کرتے ہیں اور انسانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں ؟  وہ اپنے منفی طرزِ عمل کو آزادئ اظہار کا نام دے کر اُس کے گلے میں تقدس کا ہار ڈالتے ہیں اور حکومتیں جمہوریت کے نام پر اُن کی سرپرستی کرتی ہیں ۔

کیا علم ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے اس دور میں اہلِ یورپ ابھی تک یہ جان نہیں پائے کہ آزادئ اظہار اور توہین دو الگ الگ مظاہر ہیں؟ جی ہاں ، یورپ کے یہ دانشور کوے اتنے سیانے ہیں کہ  بقائمئ ہوش و حواس توہین کی نجاست سے ہی  اپنی چونچ آلودہ کرتے ہیں  ۔

یہ معاملہ کوئی نیا نہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے اراکین ممالک کی پوری جمعیّت اس مسئلے کی نوعیت اور نزاکت سے آگاہ ہے کہ کچھ مذہبی ملتیں پیغمبروں کی توہین کو برداشت نہیں کر پاتیں تو اُن کو دانستہ نفسیاتی عذاب سے گزارنے کو اپنا حق کیوں سمجھا جاتا ہے ۔ یہ ایک نوع کی سائیکو پیتھی ہے ۔ دوسروں کو اذیت دے کر لطف اندوز ہونا بد ترین نفسیاتی  عارضہ ہے لیکن اسے آزادئ اظہار کے زمرے میں لکھ دیا گیا ہے ۔ لوگوں کو ایسی آزمائش میں ڈالنا کوئی جمہوری تماشہ نہیں ۔ یہ تو  لوگوں کو جان بوجھ پر شدت پسندی پر مائل کرنے کی مکروہ سازش ہے۔

یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کا از خود نوٹس اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون صاحب کو لینا چاہیے ۔ یہ ایسا اقدام ہوگا جو دنیا سے دہشت پسندی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گا ۔ اگر اس قسم کے واقعات اسی رفتار سے جاری رہے تو یہ لاوا پھٹ کر کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ ایک نئی تہذیبی صلیبی جنگ کا پیش خیمہ ۔

اس وقت دہشت گرد قاتلوں کے جو گروہ پشاور سے پیرس تک دندناتے پھرتے ہیں  ، اپنی کاروائیوں کے طور طریقوں سے ٹُکڑوں میں لڑی جانے والی ایک غیر منظم اور غیر مربوط  جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں  ۔ ایسی جنگ جو نان ایشوز پر ہو رہی ہے ۔ اور جس کے مورچے پانچوں براعظموں کی سماجی صحت پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔ اس جنگ کے ذمہ دار ہم سب ہیں ۔ ہم سب میں  ایشیا ہے ، یورپ ہے ، امریکہ ہے اور دنیا کے بڑے صنعتی ممالک ہیں ۔

ہر چند کہ پوپ کے علاوہ روس نے بھی ان خاکوں کی مذمت کی ہے لیکن اصل کام شر کے کارخانوں کو بند کرنا ہے جو دنیا میں دہشت گردی کے فروغ کا  سبب  اور “ چارلی ہیبڈو “ جیسے افسوس ناک  واقعات کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ  چارلی ہیبڈو کے صحافیوں کا قتل اسلام  کی روح کے منافی ہے ۔

اخلاقی برتری اور روحانی پیش رفت کے بغیر ٹیکنالوجی شیطان کا رتھ ہوتی ہے ۔  یہ رتھ جہاں سے گزرتا ہے شر کے بیج بوتا چلا جاتا ہے اور جو فصل اُگتی ہے ، اُس کو سینچنے کے لئے انسانی لہو اور کھاد کے  طور پر انسانی لاشوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے افسوس ناک ہے ۔ یہ وہ حالت ہے جس کا نقشہ اقبال نے اس طرح کھینچا تھا :
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ ء نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ  تاریک سحر کر نہ سکا