مساجد اور خدا کی خوشی
- سوموار 19 / جنوری / 2015
- 4775
” گریٹ گریٹ برٹن “ میں اقلیتوں کے امور کی سابق وزیر کرولین نے اپنی جماعت لیبر پارٹی کی مذہبی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبر پارٹی جہاں نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی سے دور کرتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے وہاں مذہب اسلام کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عیسائیت کی نسبت اسلام پر زیادہ رقم خرچ کی جا رہی ہے کیونکہ ہمیں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔
وہ چرچ آف انگلینڈ کی ایک رپورٹ پر تبصرہ کر رہی تھیں جس میں کہا گیا ہے کہ لیبر پارٹی اسلام اور دوسری کمیونٹیز کی حمایت کر رہی ہے جبکہ عیسائیت کے بارے میں خالی دعوے کئے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لیبر پارٹی چرچ کے عوامی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی اور صرف اقلیتی مذاہب ہی اس کی توجہ کا مرکز ہیں۔
ادھر چرچ آف انگلینڈ کی ایک سینئر خاتون رہنما الیسن روآف نے اخبار ” دی ڈیلی میل “ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کے اسلامی ملک بن جانے سے قبل یہاں نئی مساجد کی تعمیر پر پابندی عائر کر دینی چاہئے۔ الیسن نے جو چرچ آف انگلینڈ کے نگران ادارہ جنرل ساؤنڈ کی رکن ہیں، دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے لئے پہلے ہی کافی مساجد ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر آپ ایک مسجد تعمیر کرتے ہیں تو کیا ہو گا؟ مسجد کے علاقے میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنے لگے گی اور مقامی آبادی ہجرت کرنے لگے گی۔ سارے مکانات اور دکانیں اسلام کے رنگ میں رنگ جائیں گی اور یہ علاقہ ” غیر مسلموں “ کے لئے ممنوعہ بن جائے گا اور اگر ہم اس رجحان پر نظر نہ رکھیں تو پھر برطانیہ اسلامی ملک بن جائے گا لیکن ہنوز برطانیہ ایک ” عیسائی ملک “ ہے جو سیکولر نظریات کا حامل ہے لیکن اس کی عیسائی شناخت قائم رکھنی چاہئے۔
میری معلومات کے مطابق برطانیہ میں لگ بھگ 47 ہزار گرجا گھر اور تقریباً 1600 مساجد ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی قریباً 20 لاکھ ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسے مسلمان جو یورپی ممالک میں مقیم ہیں انہیں اپنی عبادت گاہوں کے قیام اور تعمیر کے سلسلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کے ملسمانوں کو اپنے مذہبی احکامات کی ادائیگی میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 9/11 کے حملوں کے بعد یورپی مسلمانوں میں مذہب کا احساس شدت اختیار کر گیا ہے اور اس کے ساتھ انہیں نئی نئی دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور سے مساجد کی تعمیر کے معاملے میں ان کی دشواریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان شدید مذہبی جذبات کو اہل یورپ اسلام فوبیا کا نام دے رہے ہیں۔ یہ اسلام فوبیا اس وقت زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہوتا چلا جا رہا ہے جس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
غیر جانبدار تجزیہ نگار اور مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یورپ میں موجودہ اکثر مساجد ان انتہا پسندوں کی جنت ہیں اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ صرف برطانیہ میں قائم مساجد کی مجموعی تعداد کا نصف حصہ سخت گیر اسلامی فرقہ و اماموں کے زیر کنٹرول ہے۔ یہ آئمہ و خطیب مغربی اقدار کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں قربان ہو جانے کا درس دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ” دلی ٹائمز “ نے برطانوی پولیس کے حوالے سے ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ برطانیہ کی 1600 مساجد میں سے 800 مساجد دیو بندی مسلک کے ماننے والوں کے زیر کنٹرول ہیں جنہوں نے افغانستان میں طالبان کی تشکیل کی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریاض الحق نامی ایک خطیب یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوﺅں کے خلاف منافرت آمیز خطاب اور تقریریں کرتا ہے۔ برطانیہ میں 35 اسلامی مدارس میں سے 23 مدارس پر دیو بندیوں کا قبضہ ہے جہاں 80 فیصد طالب علموں میں ایسی ہی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بعض طالب علموں کو مقامی تعلیمی اتھارٹی سے گرانٹس بھی دلوائی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں برطانوی مسلم کونسل میں دیو بندی علما کی نمائندگی نمایاں ہے اور شمالی انگلینڈ اور مڈ لینڈز کے شہروں میں ان کی اکثریت ہے۔ بلیک برن ، بولٹن ، پریسٹن ، اولڈہم اور برکلے کی 81 مساجد میں 65 فیصد دیو بندیوں کے زیر کنٹرول ہیں۔
اخبار دی ٹائمز نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار ” لنکا شائر کونسل آف ماسک“ (لنکا شائر مساجد کونسل) سے حاصل کئے گئے ہیں۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ تمام مسلمان جو خطاب سنتے ہیں ریاض الحق کی تعلیمات پر عملل نہیں کرتے کہ مسلمانوں کو اپنی جان کی قربانی صرف سمندر پار ممالک میں دینی چاہئے۔ چونکہ ان خطبات میں مغربی معاشرہ سے سخت نفرت کا اظہار اور طالبان کی بے پناہ ستائش کی جاتی ہے اور جو نوخیز ذہن اللہ کی راہ میں قربان یا شہید ہو جانے کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں وہ اس کے دام میں آ جاتے ہیں۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ریاض الحق کی تعلیم و تربیت بھی برطانیہ کے ایک مدرسہ میں ہوئی ہے۔
میرے حساب سے موجودہ مارا ماری اور مذہبی جنگی ماحول کے جواز اور اس کے اسباب و عوامل پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے بھڑکنے میں مذہب کا کسی نہ کسی حد تک عمل دخل ضرور رہا ہے۔ یعنی اس ” مذہبی سرد جنگ “ کو جائز ٹھہرانے کے لئے مذہبی دلائل کا ہی استعمال کیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ (اسلام) کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے دنیا کو مشتعل کر کے اس کا امن تہہ و بالا کرایا۔ 9/11 کی کارروائی کے بعد دنیا کی رفتار کو کاٹ کر رکھ دیا۔
اہل مغرب کو ہر مسلمان انتہا پسند اور دہشت گرد دکھائی دیتا ہے اور انہیں وہ مغرب کے عالمی ثقافت و کلچر کے لئے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف ان کی چھیڑی گئی صلیبی جنگ ہے۔ دونوں کے درمیان خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں ( دونوں فریقین کو ) چاہئے کہ دنیا میں سیکولر ازم (روا داری) کو عام کرنے کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور تمام مذہب مل کر یہ دیکھیں کہ کسی کی تعلیمات سے ٹکرائے بغیر ہم آپس میں مل جل کر امن و سلامتی اور بھائی چارے کے ساتھ کس طرح رہ سکتے ہیں؟
میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے ................