اوباما اور پاکستان
- ہفتہ 24 / جنوری / 2015
- 5606
امریکی صدر باراک اوباما دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کے اتحادی پاکستان کا دورہ کرنے کی بجائے بھارت یاترا پر پہنچ رہے ہیں۔ بھارت آمد سے قبل بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں پاکستان پر تنقید اور دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو برداشت نہ کرنے کا بیان یقیناًبھارت کو خوش کرنے کی کوشش ، پاکستان پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔
یہ بیان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بگاڑ کا پتہ بھی دے رہا ہے۔ امریکہ کے ’’ ڈو مور ‘‘ سے پاکستانی حکمران بہت اچھی طرح آگاہ اور عادی ہیں اور شاید امریکی صدر کے الزامات پاکستان سے ’’ مزید ڈومور ‘‘ چاہتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں کرینگے۔ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لانا چاہئے۔ میں نے اپنے سابقہ دورہ بھارت کے دوران ممبئی حملوں کے متاثرین کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہارکرنے کے لئے تاج ہوٹل میں پہلا قیام کیا اور بھارتی عوام کو یہ پیغام دیا کہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہم شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بھارت ہمارا حقیقی گلوبل پارٹنر ہے۔
نائن الیون اور ممبئی واقعات کے بعد امریکہ اور بھارت دفاع اور سلامتی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان تعلقات میں ایک دوسرے کے مفادات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ بھارت کو سلامتی کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ ( یہ فقرہ خاص طور سے یہ امر واضح کرتا ہے کہ امریکہ چین کے مقابل بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کا تہیہ کر چکا ہے) امریکہ کا یہ عزم خطے میں نئی سرد جنگ کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے لئے اشتعال کا سبب بن سکتا ہے۔ جبکہ بھارت کے پہلے سے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ پاک بھارت دشمنی دنیا کے سامنے پوری طرح عیاں ہے جبکہ چین کے ساتھ بھی بھارت کے کشیدہ تعلقات اور سرحدی جھڑپیں روز کا معمول بن چکی ہیں۔
یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ صدر اوباما کے انٹرویو کا ایک ایک لفظ اس امر کا اقرار و اعتراف ہے کہ وہ بھارت کے حوالے سے جانبدارانہ اقدامات کو جاری و ساری رکھے گا۔ دونوں ممالک کے اتحاد و اشتراک کا واحد مقصد کمزور ہمسایہ ممالک کو مرعوب اور دہشت زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ امریکی خواہش ہے کہ بھارت کے چھوٹے ہمسایہ ممالک کو سکم، نیپال اور بھوٹان کی طرح بھارت کا تابع بنا دیا جائے۔
اس منفی خواہش کو پروان چڑھاتے ہوئے امریکی و بھارتی پالیسی ساز بھول جاتے ہیں کہ پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان خطے میں کسی طور بھی بھارت کی کسی قسم کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا اور امریکی حکام یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اسی تناظر میں جمعرات کو امریکی قومی سلامتی کے مشیر بن رجودیس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنا ضروری جاناکہ ’’ پاکستان اور بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات ایک دوسرے کی قیمت پر نہیں بلکہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک امریکہ کے لئے یکساں اہمیت کے حامل ہیں‘‘۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں بھی امریکی صدر بارک اوباما نے ممبئی حملوں کے تناظر میں بین السطور پاکستان ہی کو نرم تنقید کا نشانہ بنایا لیکن حالیہ انٹرویو میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں پاکستان کی خدمات کو سراہا وہاں عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو مجروح بھی کیا۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں امریکی صدر کا پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا حوالہ دینا قبائلی علاقوں میں جاری افواجِ پاکستان کے ضربِ عضب آپریشن پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ جبکہ پاک فوج متعدد بار یہ بات واضح کر چکی ہے کہ قبائلی علاقہ جات میں 90 فیصد دہشت گردوں کی آماجگاہوں اور پناہ گاہوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے اور جو 10 فیصد علاقہ باقی رہ گیا ہے وہاں سے بھی دہشت گرد راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو یہ بات تسلیم کرنا چاہئے کہ بھارت کامیاب سفارت کاری کی بدولت اپنے مذموم اہداف و مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بھارت سرکار زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بات کرتی ہے لیکن جب مذاکراتی عمل کا آغاز ہوتا ہے تو وہ مختلف حیلے بہانہوں سے انہیں سبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔
اس دوغلی پالیسی کے باوجود بھارتی سفارت کار اپنی بہتر حکمت عملی کی بدولت عالمی سطح پر بھارت کا امیج متاثر نہیں ہونے دے رہے۔ پاکستان کو یہ تسلیم کرنے میں عذر مانع نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت نے پوری دنیا میں ممبئی بم دھماکوں پرکامیاب سفارتکاری کی اور پاکستان مخالف بے سروپا الزام کا سلسلہ جاری رکھا۔ حالانکہ اس کے پاس ٹھوس شواہد بھی نہیں تھے۔ جبکہ پاکستانی حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور وہ دنیا کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں ناکام رہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بے بہا قربانیاں دیں۔ بقول پاکستان بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے انتہائی واضح ثبوت موجود ہیں مگر انہیں کامیابی سے عالمی دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکا۔
یہاں یہ کہنا از حد ضروری ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اور امریکی انتظامیہ کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی گرانقدر قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار دینے کی درپردہ پالیسی پر عمل سے گریز کرنا چاہئے۔ پاکستان نے دنیا بھر کے امن کے لئے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔اگر پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم نہ کیا گیا تو شدت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فتح کا خواب تکمیل تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا اور دنیا بدستور غیر محفوظ ہی رہے گی۔