انجمن محبانِ مارشل لا ء
- منگل 27 / جنوری / 2015
- 4743
پاکستان میں فوجی جمہوریت ہو یا فوج کی عطا کی ہوئی سول جمہوریت ، دونوں میں ماہیئت اور نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا :
آمریّت ہو یا عوامی راج
فرق دونوں میں کچھ نہیں ہوتا
کوئی جرنیل ہو کہ قاف کسان
کاٹتا ہے وہی جو بوتا ہے
یہ اُنیس سو اکہتر کی بات ہے ۔ ملک میں جنرل یحیٰ خان کی فوجی جمہوریت نافذ تھی جسے مارشل لا بھی کہا جاتا ہے ۔ ریڈیو پاکستان لاہور نے مارشل لاء کے فوائد گنوانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا تھا ۔ نام تھا " عوام کی رائے میں" ۔ پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ دیہاتی پروگرام کے لیے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں سے اس نئے مارشل لا کے بارے میں تاثرات جمع کر کے نشر کریں ۔ پروگرام کے مہتمم ریاض محمود تھے اور میں سکرپٹ لکھا کرتا تھا ۔ ہم دونوں کبھی کبھار ایک ساتھ سفر اختیار کرتے اور ریکارڈنگ کیا کرتے تاکہ گاؤں ہاروں کی آراء جمع کریں ۔
اسی پروگرام کے سلسے میں ہم ایک گاؤں قولو تارڑ جا پہنچے کیونکہ ریاض محمود کی مقامی سیاستدان چودھری ارشاد تارڑ سے شناسائی تھی ۔ جب ہم بس سے اُتر کر گاؤں جانے والے رستے پر نکلے تو ایک آدمی نظر آیا جو وضع قطع سے کسان لگ رہا تھا ۔ میں نے ریاض سے کہا کہ یہ ہارمونیم کے سائز کا ٹیپ ریکارڈر اُٹھا کر گاؤں تک جانے کے بجائے اسی آدمی سے بات کر لیتے ہیں اور واپس چلتے ہیں ۔ میں نے اُس آدمی کو آواز دے کر رُکنے کو کہا ۔ وہ رُک کر خوفزدہ نظروں سے ہمیں گھورنے لگا ۔ میں نے کہا :
" او بھائیا ! اجھک جا ، تیرے نال گل کرنی اے "
یہ سُن کر اُس نے پاؤں سر پر رکھے اور گاؤں کی سمت دوڑ لگا دی ۔ اُس کے پیچھے چلتے ہم بھی گاؤں پہنچ گئے ۔ گاؤں کے ڈیرے پر معززین کی سبھا جمی تھی۔ چموڑا گُڑگُڑا رہا تھا ۔ ہم سے بچ کر بھاگنے والا شخص بھی وہاں پہنچ گیا تھا ۔ ہمیں دیکھ کر اُس نے ارشاد تارڑ سے کہا ،" چودھری جی ! میں ایہناں شہریاں نوں کجھ نہیں آکھیا ، ایہہ اڈے تو میرے مگر لگے ہوئے نیں " ۔ دریں اثنا ہمارا خیر مقدم ہؤا اور ہم مونڈھوں پر بیٹھ گئے ۔ ارشاد صاحب نے کہا کہ بھئی یہ ہمارے ریڈیو کے لوگ ہیں ، اور ہم سے بات کرنے آئے ہیں ۔
میں نے اصرار کیا کہ ہم اسی آدمی سے سوال کریں گے اور رائے لیں گے ۔
ریاض نے سوال کیا کہ ملک میں مارشل لا لگا ہے ۔ اس سے کیا فائدہ ہؤا اہے ؟
وہ شخص بولا کہ میں جواب تب دوں گا جب آپ وعدہ کریں کہ مجھے مارو گے نہیں ۔
چودھری صاحب نے تسلی دی اور کہا کہ بولو ، تمہیں کوئی ہاتھ تک نہیں لگا سکتا ۔ ریاض محمود نے مائک اُس کی طرف بڑھایا تو اس نے کہا ِ " ایہہ دھُوتا پرانہہ کرو " ۔ ریاض نے مائیک ذرا سا دور کر لیا تو وہ بولا ، میں آپ کو ایک بات سناتا ہوں ۔ پڑوس کے گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی ۔ اس نے اپنے بیٹے کی شادی کی ۔ شادی کو دو برس گزر گئے لیکن اولاد نہ ہوئی ۔ وہ بے چاری بہو کی گود ہری کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنے لگی ۔
یہاں قریب ہی ایک عامل بابا کا ڈیرہ تھا جو گلے میں بڑی سی گھنٹی پہنے گھومتا تھا اور جب وہ چلتا تو گھنٹی بجتی رہتی۔ لوگ اُسے ٹل والا بابا کہتے تھے ۔ اولاد کی خوہشمند بڑھیا اپنی بہو کو لے کر ٹل والے بابے کے پاس گئی اور اُسے دعا کے لیے کہا ۔ ٹل بابا نے عورت سے کہا کہ تم بہو کو یہاں چھوڑ جاؤ اور وہ جو سامنے پیپل کا درخت ہے اس کے تین پتے توڑ لاؤ ۔ درخت تین کیلو میٹر دور تھا اور عورت بوڑھی ۔ وہ چل دی اور ٹل بابا نے اس کی بہو کی گود ہری کرنی شروع کر دی ۔ جب تک ساس واپس آتی بہو اولاد کی حق دار بن چکی تھی ۔ خُدا کا کرنا یہ ہؤا کہ عورت کی گود ہری ہوئی اور اس نے بچے کو جنم دیا ۔ بچے کی پیدائش پر عورت پھولی نہ سمائی اور بار بار ٹل بابا کی کرامت کا ذکر کرنے لگی تو اُس کی بہو نے کہا ،" ماں ! ٹل بابا نے بھی وہی کیا جو تمہارا بیٹا کرتا رہا ہے ۔ فرق یہ تھا کہ ساتھ ٹل بھی کھڑک رہا تھا “ ۔
یہ کہ کر اُس گاؤں ہار نے ہاتھ باندھ کر کہا کہ سرکار ! اب بھی وہی ہو رہا ہے جو پہلے ہوتا تھا ۔ فرق یہ ہے کہ اب مارشل لا کا ٹل بھی ساتھ بج رہا ہے ۔
یہ رائے ریکارڈ تو ہوئی مگر نشر نہ ہو سکی ۔
لیکن اب سیاست میں ایسے لوگ آ گئے ہیں جو ببانگِ دہل مارشل لا کو دعوت دے رہے ہیں اور اِن میں سب سے فعال الطاف بھائی کی متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ ویسے تو انجمن محبان مارشل لا کا ڈایا سپورا بہت بڑا ہے جو پاکستان سے براستہ انگلستان کینیڈا تک پھیلا ہؤا ہے اور پاکستان میں اُن کے ترجمان شیخ رشید ہیں ۔
ہم تارکینِ وطن پاکستانیوں کا اس چوتھے مگر اصل میں پانچویں مارشل لا پر کوئی اعتراض نہیں ۔ اگر یہ پاکستان کے مقدر میں لکھا ہے تو اسے کون روک سکتا ہے مگر یہ ایک گاؤں ہار کی رائے ہے کہ مارشل لا پاکستان کے مسائل کا نہ توحل ہے اور نہ ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ۔