مسلمان نشانے پر

  • منگل 27 / جنوری / 2015
  • 4154

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر کے شدید احتجاج کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توہین آمیز کیری کیچر ( کارٹون) کو دوبارہ شائع کرنے پر ہالینڈ کے سب سے سنجیدہ مزاج اخبار کے مطابق اس کو بم سے اڑا دینے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔

اخبار کی انتظامیہ نے پریس کو بتایا کہ اخبار کو ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اخبار کے دفتر کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ دھمکی موصول ہونے کے بعد اخبار کے دفتر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور پولیس میں بھی واقعہ کی رپورٹ کر دی گئی ہے۔

ادھر اخبار JYLLAND POSTEN کے ایڈیٹر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارٹون کی اشاعت کا مطلب اور مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو باور کرایا جائے کہ وہ طنز سے بالاتر نہیں ہیں۔ فرانس کے اخبار ” لی موندے “ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاکے کے ساتھ لکھا ہے مذہب کا احترام کیا جانا چاہئے لیکن ان کا آزادانہ تجزیہ ہونا چاہئے۔ ان پر تنقید ہونی چاہئے حتیٰ کہ ان کا محضکہ بھی اڑانا چاہئے“۔ سویڈن کے ایک اخبار ” ایس ڈی کورئیر“ نے لکھا ہے کہ ” ہم ایسے خاکے شائع کر کے اپنی آزادی برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انسانی آزادی کے آگے کوئی مذہب نہیں ، نہ اسلام اور نہ کوئی اور مذہب اور جو بات وہ کہنا چاہتا ہے پوری آزادی کے ساتھ وہ کہے ، خواہ اس کا تعلق کسی مذہب سے ہی کیوں نہ ہو“۔

جہاں تک توہین رسالت اور اہانت رسول کا تعلق ہے ، یہ واقعہ نہ تو پہلا ہے اور نہ آخری۔ ہر دور میں ایسے عناصر پیدا ہوتے رہے ہیں جو رسول خدا کی شان میں گستاخی کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت خراب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ ان نفرت انگیز سرگرمیوں کا محرک کوئی ایک اخبار ، رسالہ ، چینل ، کتاب یا ویب سائٹ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے نائن الیون کا ردعمل اور مذہب دشمن تنظیمیں ہیں۔

میں یہ بات انتہائی دیانت داری سے کہہ رہا ہوں کہ آئے دن ان توہین آمیز کارٹونوں اور تحریر و تصاویر کی اشاعت کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہے اور ان کے اصل مسائل سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شر اور باطل کے بارے میں خاموش رہ جانا اور اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر آپ ان کا جواب دیں گے تو آپ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے۔ ایسی باتوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا جواب نہ دیا جائے۔

قدیم مثل ہے کہ ” کتے بھونکتے رہتے ہیں ہاتھی چلتا رہتا ہے“۔ مسلمانوں کو ہاتھی والا کردار ادا کرنا چاہئے۔ شر پسندوں کے چھیڑے ہوئے فتنے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ یہاں مجھے حضرت عمر ؓ کا ایک بہت بامعنی قول یاد آ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا ” باطل کو مارو اس کی طرف سے چپ رہ کر“۔ حضرت عمر ؓ نے وہی بات ایک اور انداز سے کہی ہے جس کو قرآن نے اعراض کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اعراض کا مطلب ہے اوائڈ کرنا ، نظر انداز کرنا ۔ اعراض محض ایک سلبی فعل نہیں ہے۔ وہ ایک ایجابی کارروائی ہے۔ وہ خود ایک طاقتور عمل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں نظر انداز کرنا دفع شر کی سب سے زیادہ مؤثر تدبیر ہوتی ہے۔ جہاں سب سے زیادہ کارروائی یہ ہوتی ہے کہ سرے سے کوئی کارروائی نہ کی جائے کہ اسلام مثبت حقیقتوں کا دین ہے۔ وہ ردعمل کے تحت بھڑک اٹھنے کا نام نہیں۔ میرے حساب سے اصل مسئلہ مسلمانوں کی یہی مشتعل مزاجی ہے نہ کہ اغیار کی اشتعال انگیزی۔ کیونکہ مقابلے کی اس دنیا میں اشتعال انگیزی کے واقعات تو بہرحال ہونگے اور ایک آدھ ملک میں ہی نہیں بلکہ ہو جگہ ہونگے۔ حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ہم ان کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعے اپنے آپ کو ان کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں اور وہ تدبیر ہے ........ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔

مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ بے صبری اور اشتعال انگیزی ہے۔ فریق ثانی (مغربی ممالک) نے یہ بات پا لی ہے اور اچھی طرح جان لیا ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جن پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں۔ ہر مسلمان کی کوئی نہ کوئی ”اہانت“ ہوتی ہے۔ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہو فوراً ” اہانت “ کر دو۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہو گاکہ مسلمان بھڑک اٹھیں گے اور پھر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان بات بات پر بھڑکنا چھوڑ دیں۔ اس کے بعد تمام فسادات بے زمین ہو کر اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔

اصل میں یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے کا پیچھا کر کے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لازماً ٹکراﺅ کے مواقع آتے ہیں کہ مقابلہ انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ تاریخ کی تمام ترقیاں اسی مقابلہ آرائی کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں۔ ٹکراﺅ کے واقعات قانون فطرت کی بنا پر ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آئیں گے۔ خواہ وہ دسویں صدی ہو یا اکیسویں صدی۔ خواہ وہ مغربی ممالک ہوں یا برصغیر۔ غرض کہ کہیں بھی مقابلہ اور مسابقت کی یہ حالت ختم ہونے والی نہیں۔ ہم مقابلے کی حالت کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم اپنے آپ کو اس کی زد سے بچا سکتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بچانے کا واحد نسخہ اعراض ہے۔

مذہب کو ذاتی مسئلہ ماننے والوں نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے مسلمانوں کی ایک کمزوری دریافت کر رکھی ہے۔ یہ کمزوری ہے ان کا اشتعال کے موقع پر مشتعل ہو جانا۔ جن مواقع پر قرآنی حکم کے مطابق ” اعراض“ کرنا چاہئے وہاں سے دوسروں سے الجھ جانا۔ یہ گویا مسلمانوں کا کمزور مقام ہے۔ اس کمزور مقام سے فریق ثانی ان پر ” حملہ آور “ ہوتا ہے اور مسلمانوں کی بے شعوری کی بنا پر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔

حرف آخر کے طور پر مجھے یہ کہنا ہے کہ اس دنیا میں ہر مسئلہ نادانی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو دانشمندی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ مذاہب کے جھگڑوں کے پیچھے کچھ نادانوں کی نادانیاں شامل رہتی ہیں۔ اگر دوسرے لوگ آگے بڑھ کر دانش مندی کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر جھگڑا اپنے آغاز ہی میں ختم ہو جائے۔ ورنہ ............

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی
نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا