ایک نیا محاذ

  • بدھ 28 / جنوری / 2015
  • 5123

“ 21ویں آئینی ترمیم اور دینی و سیاسی جماعتوں کے تحفظات “  کے نام سے لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ حقیقت میں یہ ایک سیمینار سے زیادہ ایک نئے محاذ کا پیش خیمہ تھا۔ یہ محاذ کھلنے میں اگر اس سیمینار کے روح رواں لوگوں کا ہاتھ تھا تو اس میں حکومت نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ 21ویں آئینی ترمیم کے لیے جب پہلی کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تو اس وقت اختلافات سامنے نہیں آئے یا اختلافات کے باوجود اس وقت کی نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے ان کا اظہار نہیں ہوا۔ اختلافات دل میں رکھنا ہی نقصان دہ ثابت ہوا۔ عام آدمی کو یہ تاثر ملا کہ شاید اس وقت مسلح افواج کے خوف کی وجہ سے اختلافات کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

اس وقت فوج سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر چل رہی ہے۔ لہذا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاستدان اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کرتے اور اپنا نقطہء نظر اس انداز سے پیش کرتے کہ مسائل نہ پیدا ہوتے ۔ لیکن اب جب کہ 21ویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے تو 22ویں آئینی ترمیم کی باتیں شروع ہو چکی ہیں۔سانحہ ء پشاور کے بعد فوری اقدامات کی یقیناًضرورت تھی۔ لیکن یہ فوری اقدامات مستقبل میں اختلافات کا پیش خیمہ بن جائیں یہ نہ تو ملک کے مفاد میں ہے نہ ہی اس سے مثبت سیاسی سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا حصہ بن چکا ہے (چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے)اس میں فتح یاب ہونا ہی پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہے۔

فوجی عدالتوں کو قائم کرنے کے لئے آئینی ترمیم پر جب صلاح مشورے شروع کیے گئے تو اس وقت بھی صحافت کا طالبعلم ہونے کے ناطے یہی تحریر کیا کہ یہ مستقل حل نہیں ہے۔ اگر فوجی عدالتیں اس لئے قائم کی جا رہی ہیں کہ وہ فوری فیصلے کریں گی ۔ تو یہی کام سول عدالتیں کیوں نہیں کر سکتیں؟ اگر عدالتی نظام میں خامیاں ہیں تو ان خامیوں کو دور کرنے کی طرف توجہ دینا فوجی عدالتوں کے قیام سے کئی زیادہ اہم مسلہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فوجی عدالتوں سے دہشت پسند عناصر اور دیگر جرائم پیشہ لوگوں کی حوصلہ شکنی ضرور ہو گی ۔ لیکن اس سے انصاف کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے وعدے پر کیسے عمل ہو سکے گا۔ یہ تاثر بھی اب مضبوط ہونا شروع ہو گیا ہے کہ پاکستان کا سول نظام شاید اس حد تک خراب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ہنگامی معاملات سے نمٹنے کا اہل ہی نہیں رہا۔ اگر اس تاثر میں کسی بھی حد تک سچائی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ متوازی نظام قائم کر دیا جائے بلکہ خراب نظام کی درستگی کے اقدامات کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔

لیکن اب فوجی عدالتیں آئین کا حصہ بن چکی ہیں اس لئے اختلافات کو ہوا دینا ان کی افادیت کو کم کر دے گا۔اور اختلاف کو مذہبی یا فقہی رنگ دینا آگ بھڑکانے کے مترادف ہو گا۔ فوجی عدالتوں کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ جسے چاہا لٹکا دیا ۔ بلکہ فوجی عدالتوں کے پرجو ذمہ داری آئی ہے اس سے بری الذمہ ہونے کے لیے بہت سے قانونی پہلوؤں کو یقیناًمد نظر رکھا جائے گا۔ فوجی عدالتیں کسی نہ کسی سطح پر سول عدالتوں کی کارکردگی پر اس طرح سے اثر انداز ہوں گی کہ عدلیہ انصاف میں سست روی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے لائحہ عمل اختیار کرے گی جس سے عوام کا سول عدالتوں پر اعتماد بحال ہو گا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مقابلے کی سی کیفیت پیدا ہو گی کہ اگر فوجی عدالتیں فوری انصاف فراہم کر سکتی ہیں تو سول عدلیہ ایسا کیوں نہیں کر سکتی ۔ اور حکومت پر بھی سول عدالتوں کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

21ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں سیاستدانوں کی اہلیت سے زیادہ شاید فوج کی جنجھلاہٹ کا اثر تھا۔ کیوں کہ فرنٹ لائن پر فوج پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی تھی اور اب تو پاکستان کے مستقبل پر وار کیا گیا تھا۔ فوج کے لیے شاید یہ فیصلے کا وقت تھا کیوں کہ فیصلے کرنے کی طاقت ہی فوج کا ہمیشہ سے خاصہ رہی ہے۔ فوج اگر سانحہ ء پشاور کے بعد ذرا سی بھی سستی برتتی تو عام آدمی جو ہر ہنگامی مسلے میں فوج کی طرف دیکھتا ہے، وہ شاید فوج پر اعتماد کھو دیتا۔ مسلح افواج کی اعلیٰ کمان اس بات سے بخوبی آگاہ تھی۔ جب معاملات کمیٹیوں اور اجلاسوں تک پہنچے تو فوج پر اس وقت ہی تنقید شروع کر دی گئی تھی کیوں کہ عام آدمی کا خیال یہی تھا کہ تاخیر دہشت گردوں کو تقویت دے رہی ہے۔

اب لاہور میں ہونے والی کانفرنس جس کو بظاہر تو مذہبی و سیاسی کانفرنس کا نام دیا گیا تھا اصل میں دینی جماعتوں کا اجتماع تھا۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ مولانا فضل االرحمٰن پوری کانفرنس کے دوران چھائے رہے۔ مولانا صاحب حکومت کے اتحادی ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں وہ حکومت کے سب سے بڑے ناقد کے طور پہ سامنے �آئے ہیں۔ مولانا کی باتیں اور حکومتی موقف سے تضادات کا ایسا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو نقصان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

وزیر داخلہ صاحب کے بقول 90فیصد مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے 10فیصد مدارس کی نشاندہی بھی نہیں کی جو اس علت میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ نشاندہی نہ کرنا ایک نئی بحث کو جنم دینے کا سبب بن گیا۔ ساتھ ہی مولانا نے مدارس کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کو اپنے خلاف کاروائی سے تعبیرکیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مولانا ملکی سیاست میں واضح اثر رکھتے ہیں لیکن اگر وہ کسی معاملے میں غلط موقف پر ہیں تو اس غلطی کی نشاندہی کرنا یقیناًحکومت کا کام ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملات مولانا صاحب کے ساتھ شیئر کرے اور انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کرے۔ اس کے علاوہ مدارس کے حوالے سے سب سے پہلا قدم جو اٹھایا جانا چاہیے وہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان مدارس جو 90فیصد کے ضمرے میں آتے ہیں کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر آپ میں کوئی خامی نہیں تو آپ حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔ اور ان مدارس کو یقین دلائیں کہ اعداد و شمار کی فراہمی ان کو ڈرانے دھمکانے کے لئے نہیں بلکہ ان کی بہتری کے لیے ہی ہے۔ اور اعدادو شمار اکٹھے کرنا ہرگز انتقامی کاروائی میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

عام تاثر یہی تھا کہ فوج ا ور سیاستدانوں کے درمیان محاذ آرائی رہتی ہے۔ لیکن اب اس تاثر کے خاتمے کے بعد دینی و سیاسی جماعتیں کے آمنے سامنے آنے سے ایک نئے محاذ کی ابتداء ہو گئی ہے۔ اس محاذ سے نمٹنے کے لیے صرف سیاسی حکومت کو سوجھ بوجھ استعمال کرنا ہو گی ۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے سے فوج کو مقابل حریف سمجھ لیا جائے گا اور یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کو بھی شاید اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ اگر ان کی دلیلوں کے لیے 22ویں ترمیم کر لی جائے تو پھر ہر کوئی اپنے موقف کے لیے ایک نئی ترمیم پر زور دے گا۔ لہذا ترمیم کو سیاست کا کھیل بنا کر آئین کا حلیہ ہی بگڑ سکتا ہے۔ اس لئے جہاں حکومت وقت کو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہو گا وہاں مولانا کو بھی ملکی سلامتی کے لیے کڑوی گولی نگلنی ہو گی۔ اور اگر مدارس کو وہ اپنے طور پر بہتری کی راہ پہ گامزن کرنا چاہیں تو حکومت کو اقدام کی ضرورت ہی نہ پڑے گی۔ نفاق و نفرت کے بجائے اتفاق و اتحاد پرعمل پیرا ہو کر ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔