گلی گلی میں دہشت گردی
- اتوار 01 / فروری / 2015
- 4258
یہ قصہ کراچی کا ہے ۔ یہ واقعہ آج ہی رونما ہؤا کہ کورنگی میں لوگوں نے ا یک ساتھ دو ڈاکو پکڑے اور پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے خود ہی عدالتی کاروائی شروع کر دی ۔ ایک ڈاکو کو مار مار کر مارڈالا اور دوسرے پر تیل چھڑک کر اُسے آگ لگا دی ۔ ہر چند کہ اُس وقت تک پولیس پہنچ چکی تھی ، مگر وہ خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی کیونکہ لوگ اُس وقت بہت خراب موڈ میں تھے ۔ بعد میں شام تک آنے والی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پولیس کے اعلیٰ حکام اس و اقع سے بے خبر تھے ۔
اس واقعے کے دو پہلو ہیں ۔ ایک قانون کو ہاتھ میں لینے کا ہے اور دوسرا دہشت گردی کے عوامی رویہ بننے کا کہ گلی محلے کا عام آدمی دہشت گردی کے واقعات سے تربیت پا کر اتنا وحشی ہو گیا ہے کہ وہ فوری ردِ عمل میں مبتلا ہو کر کسی کو زندہ جلا سکتا ہے یا مار مار کر زندگی کی قید سے چھڑا سکتا ہے ۔ عام آدمی کا یہ رویہ خطرے کا بہت بڑا سگنل ہے ۔
کوئی قوم اخلاقی بندھنوں سے آزاد ہو جائے تو لاقانونیت اور تشدد اُس کا روز مرہ بن جاتا ہے ۔ جہاں قانون چند سکوں کے عوض دستیاب ہو ، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون شکنوں ، مجرموں اور سماج دشمنوں کی نہ صرف پشت پناہی کرتے ہوں بلکہ اُن کے شریکِ جرم بھی ہوں تو معاشرہ مر جاتا ہے ۔ ہمارے ساتھ یہی ہؤا ہے ۔ اس سماجی تناظر میں اقبال کا اُمتِ مرحوم کا تصور سمجھ میں آجاتا ہے ۔
قانون کی پابندی کسی معاشرت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ۔ وہ قانون جس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ، ایک کاغذی خاکہ ہوتا ہے جس کی سچ مُچ کوئی وقعت نہیں ہوتی ۔ قانون کی پابندی میں خاص و عام کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا ۔ ہمارے یہاں اکثر ٹی وی ٹاک شوز میں مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کی بات کی جاتی ہے ، لیکن کبھی کسی نے قانون کی پابندی پر زور دینے کی بات نہیں کی اِس لئے کہ قانون کی پابندی کی بات مشکل میں مبتلا کر سکتی ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ من حیث القوم ہم نے یہ کام سیکھا ہی نہیں ۔ ہم وقت کی پابندی کرتے ہیں نہ ہم قطار باندھتے ہیں ، نہ باری کا انتظار کرتے ہیں ، نہ نیک نیتی سے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذات سے مُخلص ہیں ۔ اور جو شخص اپنی ذات سے مُخلص نہ ہو وہ قوم یا معاشرے کے ساتھ کیسے انصاف کر سکتا ہے ۔ اس طرح کے ماحول میں لوگ معاشرتی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور بھیڑ کی نفسیات میں مبتلا ہو کر لاٹھیاں اُٹھائے باؤلے کُتوں کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں اور آج بھی یہی ہؤا ہے اور اُس کی صرف ایک ہی بنیادی وجہ ہے کہ لوگوں کو قانون کی پابندی سکھا کر اُنہیں شہری ثقافت کے آداب اور شائستگی سے روشناس ہی نہیں کروایا گیا اور شہری اخلاقی اداب کے بغیر آدمی درندہ ، وحشی اور مونہہ زور جانور بن جاتا ہے ۔
آدمی اور جانور میں امتیاز کی لکیر قانون کی پابندی ہے ۔ اطاعت کے بغیر احکامات بے معنی ہوتے ہیں ۔ جس قانون کی پابندی نہ کی جائے وہ قانون مر جاتا ہے اور اپنے قاتلوں کے لیے بد عا بن جاتا ہے ۔ اور پاکستانی معاشرت اس بدعا کا شکار ہے ۔
اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟ کوئی ایک نہیں ۔ ہم سب اپنے ضمیر کے مجرم ہیں ۔ ہم جو قانون شکن ہیں ، ہم جو من مانی کرنے کے عادی ہیں ۔
ہم جو اپنی خواہش کو قانون پر مقدم جانتے ہیں ۔ ہم جو خُدا سے نہیں ڈرتے مگر مذہب کی زنبیل کندھے پر اُتھائے پھرتے ہیں ۔ ہم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا دم بھرتے ہیں مگر اپنی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق گزارنا نہیں سیکھ پائے ۔ قانون خُدا کا ہو ، رسول صلی اللہ ولیہ وسلم کا ہو یا حاکمِ وقت کا ، محترم ، متبرک اور مقدس ہے اور قانون شکنی گُناہ ہے ۔
قانون کے احترام کی ایک چھوٹی سی مثال حال ہی میں امریکہ میں دیکھنے میں آئی ہے ۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری جو کچھ دن پہلے پاکستان کا دورہ کر کے گئے ہیں ، اپنے شہر کی بلدیہ کے قانون کے مجرم قرار پائے اور اُنہیں پچاس ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا ۔ مگر کس بات پر ؟
صرف اتنی سی بات پر کہ انہوں نے اپنے گھر کے دروازے سے برف نہیں ہٹائی تھی ۔ بلدیہ نے جرمانہ کیا اور وزیرِ خارجہ نے ادا کردیا ۔ اور اگر کہیں جان کیری کی جگہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ ہوتے تو ؟ کیا ہوتا ۔ نہ بلدیہ رہتی نہ جرمانہ کرنے والا افسر ۔
مگر ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کا تو کوئی وزیرِ خارجہ ہی نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں ۔ اگر ضرورت پڑے تو ہم خارجہ پالیسی امریکہ سے درآمد بھی کر سکتے ہیں ۔ امریکہ ہمارا دوست ہے اور ہم اُس کے دوست ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ جو امریکہ کے ساتھ نہیں ہوتا وہ کہیں کا نہیں ہوتا اور نہ کہیں کا رہتا ہے ۔
آج کراچی میں کورنگی کے اس واقع سے میں بہت سے اشارے ملے ہیں اور میں بڑی تشویش میں مبتلا ہوں کہ اگر کہیں عوام کے اس غصے کا رُخ حکمرانوں کی طرف مُڑ گیا تو کیا ہو گا ؟