بھارت امریکہ تعلقات اور خطے کا امن

  • منگل 03 / فروری / 2015
  • 3985

پاکستان سے ازل کا بیر رکھنے والے ملک بھارت میں امریکی صدر باراک اوباما نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندرمودی کی خصوصی دعوت پر بھارت کا دورہ کرکے بھارتیوں کو عزت بخشی۔ اس سے قبل امریکی اسٹیٹ سیکرٹری جان کیری اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بھی ایک ماحول بناگئے تھے جسے باراک اوبامہ نے جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

امریکی صدر کے دورے سے قبل بھارتی حکومت پاکستان کیخلاف کچھ غیر یقینی حالات اور کوئی نئی سازش تیار کرنا چاہتی تھی تاکہ پاکستان کو امریکہ کی نظروں میں گرایا جاسکے۔ آگرہ میں روئی کی منڈی کے مقام پر حافظ عبداللہ شہاب کے سالانہ عرس کے موقع پر پاکستانی زائرین کے ویزے اس لئے منسوخ کئے گئے کہ باراک اوباما نے آگرہ میں تاج محل جانا تھا ۔ خیال کیا جارہا تھا کہ ویزوں کے اجراء پر سیکیورٹی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جبکہ اوباما کا تاج محل کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ دہلی میں پی آئی اے آفس کی بندش بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی ۔

دراصل بھارت امریکی صدر کے دورے کو اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن مضبوط بنانے اور امریکہ کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر انداز میں استوار کروانے کیلئے اہم موقع پر سمجھ رہا تھا ۔ یہ بات تو طے ہے کہ افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے بعد خطے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گی جو کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں اور بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اس موقع سے فادہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم بنالے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی بالادستی امریکہ کیلئے ایک چیلنج بن چکی ہے اور بھارت بھی اس سے خوف زدہ نظر آتا ہے ۔ گوکہ چین سے تنازعات کو مزید پیچیدہ ہونے سے بھارت نے خود کو روک رکھا ہے لیکن ان تنازعات کے پائیدار حل کیلئے وہ امریکہ کی جانب دیکھ رہا ہے ۔

تبت کا تنازعہ چین اور بھارت کے تعلقات کی را ہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔بالکل اسی طرح جس طرح پاک بھارت تعلقات میں مسئلہ کشمیر ہے ۔ بھارت اپنے سرحدی تنازعات کے خاتمے کے بغیر خطے میں چوہدری کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکا کثیر الجہتی منصوبوں کے باعث بھارت کے ساتھ محض خطے میں چین کی بالادستی کی روک تھام کیلئے تعلقات بڑھانے ہر مجبور ہے اور ایک بڑی مارکیٹ کے حصول کیلئے وہ کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار ہے ۔ جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ، سرد جنگ کے بعد اس نے خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کیلئے بھارت کے ساتھ تعلقات کے فروغ کیلئے پالیسی اختیار کررکھی ہے ۔ چین کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کے تناظر میں امریکہ بھارت کو خوش کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ گویا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس نے بھارت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی مکمل تیاری کرلی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ خطے میں اجارہ داری قائم کرنے کیلئے نریندر مودی کا سب سے بڑا خواب امریکی آشیرباد کا حصول بن گیا ہے اور وہ دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور کو رجھانے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کرنے کیلئے بھی پر تول تولتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ اسی لئے امریکہ بھی اپنی نام نہاد دوستی کو آگے بڑھانے کیلئے کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار ہے ۔ امریکی صدر کا بھارت کا دورہ اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدات ، بات چیت اور بے تکلفانہ انداز اسی کی کڑی محسوس ہوتی ہے ۔ باراک اوباما نے اپنے دورے کے موقع پر بھارت کو اقوام متحدہ میں مستقل نمائندگی کی حیثیت دینے کیلئے کوششوں کا ذکر کیا اور عندیہ دیا ہے کہ امریکہ اور بھارت ہی ملکر دنیا کو محفوظ بناسکتے ہیں ۔

یہ بات بھارت کیلئے بہت اہم ہے کہ اس کی پشت پر امریکہ کا ہاتھ ہے۔ اب وہ کچھ بھی کرسکتا ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان میں کچھ بے چینی بہر حال پائی جاتی ہے۔ اس کی بظاہر وجہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو امریکہ کی جانب سے نظرانداز کرنا اور بھارت کو غیر معمولی اور غیر ضروری اہمیت دینا ہے ۔ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان جس اہمیت کا حقدار ہے اس کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کیا جارہا۔ البتہ بھارت کے ساتھ امریکہ جس طرح کے تعلقات کو بڑھارہا ہے اس سے بھارت کے عزائم کی حوصلہ افزائی ہوگی جو کسی بھی لحاظ سے خوش کن نہیں۔ بالخصوص بھارت کو افغانستان میں کردار اداکرنے کے حوالے سے پاکستان میں حکام سب سے زیادہ تشویش کا شکار ہیں ۔

خیال کیا جارہا ہے کہ بھارت امریکہ تعلقات کا اثر زائل کرنے کیلئے آرمی چیف راحیل شریف چین گئے تھے تاکہ دنیا کسی صورت پاکستان کو عالمی سطح پر اکیلا نہ سمجھے۔ حالانکہ پاکستان چین کا دیرینہ اور آزمودہ دوست ہے اور دونوں ممالک کی دوستی شخصیات سے ماوراہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تحفظات چین کے تحفظات ہیں ۔ چین نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ دیگر ممالک دوستی کا دم بھرنے کے باوجود کام نہیں آئے، یعنی چین کا پاکستان کیلئے کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا کیونکہ دونوں کی منزل تقریباً ایک ہی ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان نے جس قدر امریکہ کا ساتھ دیا ہے اس کا خاطر خواہ فائدہ اسے حاصل نہیں ہوا جبکہ چینی حکومت اور عوام ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

یہ امر قابل ذکر ضرور ہے کہ آرمی چیف راحیل شریف کا حالیہ چین کا دورہ انتہائی حساس اور اہمیت کا حامل ہے جب امریکہ کے صدر بھارت یاترا پر تھے اور بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کا مواہدہ کر رہے تھے۔ اس سے خطے میں عدم توازن کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔ پاکستان اور چین کی قیادت نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ صرف بھارت ہی خطے میں ایسا ملک نہیں جو فیصلہ کن کردارادا کرسکتا ہے۔ بہرکیف امریکی و بھارتی گٹھ جوڑ کسی بھی لحاظ سے خطے میں قیام امن کیلئے خوش آئند نہیں کہا جاسکتا ۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحد ہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والا ملک سلامتی کونسل کا رکن نہیں بن سکتا ہے ۔

پاکستان نے ہمیشہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی حمایت کی لیکن یہ اصلاحات اقوام متحدہ کی رکنیت رکھنے والے ممالک کے مفادات کی عکاس ہونی چاہئیں ۔ بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ سلامتی کونسل کا مستقل بن جائے یہ جمہوری دعوؤں کی خلاف ورزی کے سواکچھ بھی نہیں ہوگا۔ خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے جبکہ بھارت گزشتہ تین برسوں سے دنیا میں روایتی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھر اہے، جس کی وجہ سے اس کا سالا نہ دفاعی بجٹ 30ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے ۔

ایسی صورت میں امریکہ بھارت دفاعی تعاون خطے میں اسٹرٹیجک توازن کیلئے خطرے کا باعث بنے گا جبکہ چین ایک عالمی طاقت ہے اور اس کا کردار علاقائی استحکام کیلئے نمایا ں رہا ہے ۔ پاکستان جو 9/11 کے بعد سے مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اس لعنت سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہے ۔ ضروری امر یہ ہے کہ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ توازن بگاڑنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ ملکر اصولی طور پر ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے دنیا بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ یقینی ہوسکے ۔