کیا اسلام جبر کی علامت ہے

  • بدھ 04 / فروری / 2015
  • 4035

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق ہالینڈ میں 10 سال کے دوران مذہبی رواداری اور عدم برداشت میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور اب ہالینڈ کے لوگوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ مسلمان سرکاری ملازمین کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ رائے سرکاری ملازمین کے ہفت روزہ اخبار کے ایک سروے میں سامنے آئی ہے۔

دو سال قبل ایسے ہی سروے میں لوگوں نے اس پابندی کی کھل پر حمایت نہیں کی تھی لیکن اس بار 533 جواب دہندگان میں سے اکثریت نے سرکاری ملازمین کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی کے حق میں رائے دی ہے۔ 58 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ مقامی حکام سرکاری ملازمین کے مسلم ہیڈ اسکارف پر پابندی لگائیں جبکہ 83 فیصد مزید اسلامی لباس پر بھی پابندی لگانے کے حق میں ہیں جن میں خواتین کا چہرے کو ڈھانپنا اور مردوں کے لئے لمبے چوغے ( جو بالعموم مراکشی حضرات پہنتے ہیں) بھی شامل ہیں۔

اسی کے ساتھ جڑی ہوئی رائٹر ہی کی ایک اطلاع کے حوالے سے ایک بری خبر یہ ہے کہ ہالینڈ کے عوام کی اکثریت انتہا پسند مسلمانوں سے خوف زدہ ہے جبکہ ایک تہائی سمجھتی ہے کہ ہالینڈ میں بھی پشاور اور ممبئی کی طرح کے حملے ہو سکتے ہیں۔ ایک سروے کے نتائج کے مطابق جس میں 875 افراد کی رائے لی گئی، کہا گیا ہے کہ 12 فیصد افراد انتہا پسندوں سے انتہائی خوف زدہ ہیں جبکہ 48 فیصد انہیں خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہالینڈ کی خفیہ ایجنسی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ملک میں انتہا پسند گروپ مسلمان نوجوانوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔

ہالینڈ میں ایک ملین سے زائد مسلمان قیام پذیر ہیں۔ چند سال قبل ڈچ فلم میکر اور دانشور تھیوفان فوخ کے قتل کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور ہالینڈ کے عوام نے بادل نخواستہ رواداری اور برداشت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چند سال پہلے ہالینڈ میں لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ کون کیا پہنتا ہے۔ مسلم اسکارف ، دوپٹہ یا برقع تک کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ بازاروں میں پاکستانی برقع پوش خواتین بالخصوص احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والی خواتین خرید و فروخت کرتی پائی جاتی تھیں مگر کوئی ان پر توجہ مرکوز نہ کرتا تھا لیکن اب تصویر یکسر بدل چکی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اسلامی لباس پہننے والے مسلمانوں سے تکرار نہیں چاہتی لیکن وہ اس سے نظریں بھی نہیں چرا سکتی۔

ادھر ہالینڈ کے ہمسایہ جرمنی میں مسلمانوں نے استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ناقابل قبول ہیں کیونکہ اسکولوں میں عیسائی علامات استعمال کرنے کی اب بھی اجازت ہے۔ پابندی کے فیصلے سے جرمن قانون میں تمام مذاہب کو دی گئی آزادی اور مساوی سلوک کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اسلام عورتوں سے غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے۔ مسلمان حجاب نہ پہننے پر امتیاز کی اتنی ہی مذمت کرتے ہیں جتنا ان عورتوں کے ساتھ امتیاز کی مذمت کرتے ہیں جو اپنی مرضی سے حجاب لیتی ہیں۔ جرمنی نے اسکولوں میں استانیوں کے حجاب پہننے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی تھی کہ حجاب خواتین پر جبر کا ایک سمبل ہے۔ جرمنی کی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ دے رکھا ہے کہ جرمنی کی ہر ریاست اسکولوں میں اسکارف کے بارے میں خود فیصلہ کرے۔ اس پر 16 میں سے 10 فیڈرل ریاستوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کلاسوں میں حجاب پر پابندی لگائیں گی۔

ایسے ہی مسائل نے یورپ میں ایک تنازع کھڑا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو یورپی معاشرہ میں مدغم کرنے پر تقسیم اجاگر ہو رہی ہے۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلم آبادی رکھنے والے ملک فرانس نے مذہبی علامات کے استعمال اور حجاب پہننے کے بارے میں جو گائیڈ لائنز جاری کر رکھی ہیں، خدشہ ہے کہ طلبا ان سے بچ نکلیں گے۔ گائیڈ لائنز میں اسکارف ، یہودی ٹوپی اور بڑی صلیب پر پابندی ہے۔ لیکن سکھوں کی پگڑی پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ یہ اس قدر مبہم ہے کہ ان سے طلبا اور اسکولوں کی انتظامیہ کے درمیان اکثر تنازع کھڑا ہوتا رہتا ہے۔

فرانس نے جب سے یہ قانون منظور کیا ہے اسکولوں کی پرنسپلوں کی یونین کا کہنا ہے کہ گائیڈ لائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کو کئی طریقوں سے موڑا جا سکتا ہے اور ہر کوئی قانون کی مختلف توجیہات نکال رہا ہے۔ اساتذہ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تمام سرکاری اسکولوں میں مذہبی علامات پر یکسر پابندی لگائے کہ ان کے نزدیک بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تناﺅ خصوصاً مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان منافرت سے تشدد میں اضافے کا خطرہ ہے جو فرانس کے سیکولر ازم کے لئے نقصان دہ ہے۔ اسکول ٹیچرز نے کہا ہے کہ وہ گائیڈ لائنز کے مسودہ کی منظوری کے سلسلے میں اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔

ادھر ” گریٹ برٹن “ نے اپنی گریٹ نس دکھاتے ہوئے برطانوی اساتذہ کو حجاب کے حوالے سے فرانس کی تقلید نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ نیشنل یونین آف ٹیچرز نے برطانیہ بھر کے ٹیچرز کو وارننگ دی ہے کہ اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی سے نسل پرستی کے خلاف جنگ کو زبردست دھچکا لگے گا۔ یونین نے کہا ہے کہ کلاسوں میں حجاب سمیت دوسری نمایاں مذہبی علامات پر فرانس کی پابندی کی تقلید نہ کریں اور فاشسٹ نسل پرست برٹش نیشنل پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف جنگ لڑیں۔

نیشنل یونین آف ٹیچرز کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمان یورپ میں خطرہ بنتے جا رہے ہیں اور ان کی ثقافتی علامات غالب آتی جا رہی ہیں۔ یونین کا کہنا ہے کہ ہمیں بچوں کو ایک مخلوط النسل معاشرہ میں رہنے کے لئے تیار کرنا ہو گا اور یہ کہنا بے عقلی ہے کہ حجاب یورپ میں جبر کی علامت ہے۔ حالانکہ اسلام جبر کے مارے لوگوں کا مذہب ہے۔