ٹارچر سیل

  • جمعرات 05 / فروری / 2015
  • 6341

دنیا کی ایک عظیم اکثریت ” وادی لہو رنگ“ مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ مسئلہ قرار دیتی ہے۔ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر زیر التوا قراردادیں مہذب دنیا کا منہ چڑا رہی ہیں۔ بین الاقوامی قانون اور انسانی فطرت کسی بھی خطے کے غلام افراد کو اپنا وطن آزاد کرانے کے لئے مسلح جدوجہد کا حق دیتی ہے۔ لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں ان کی نسل کشی کر رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ مقبوضہ وادی ایک وسیع و عریض ٹارچر سیل بن چکی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں مختلف تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جن میں پاکستان بھر میں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے طلبا، وکلاء، تاجروں، صنعتکاروں اور سول سوسائٹی سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مختلف شہروں میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی ۔ ان ریلیوں میں اقوام عالم سمیت اقوام متحدہ سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی بدستور جاری ہے۔ بھارتی غاصب افواج مقبوضہ وادی کے جذبہ آزادی سے سرشار حریت پسندوں کو کچلنے کے لئے بدترین درندگی کے ارتکاب کو اپنا معمول بنائے ہوئے ہے۔ جموں و کشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جس میں بھارتی حکام نے غیر ملکی سفارتی اہلکاروں، عالمی ذرائع ابلاغ کے مبصرین، غیر جانبدار تجزیہ نگاروں، آزاد پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ فوجی اور نیم فوجی دستے موجود ہیں۔ ہر دسویں کشمیری کے سر پر ایک مسلح فوجی بندوق تانے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا قصور یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت اور استصواب رائے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں کالے قوانین اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غیرجانبدار مبصرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر اقوام متحدہ مشرقی تیمور کی تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے توانائیاں خرچ کر سکتی ہے تو غاصب بھارت سرکار اور فوجیوں کے خلاف 65 برس سے جاری کشمیری حریت پسندوں کے جان، مال اور آبرو کی قربانیوں سے مجرمانہ چشم بندی کیوں کی جا رہی ہے؟

اسی طرح گزشتہ برس اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے علیحدہ کرنے کے مطالبے پر ریفرنڈم کرایا گیا تو کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا ہے؟ یہاں یہ یاد رہنا چاہئے کہ کشمیر کے مسئلے کو خود بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے اور انہوں نے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عالمی برادری کے سامنے عملدرآمد کا وعدہ بھی کیا تھا۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا منصبی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ بھارت کے پہلے وزیراعظم کے فراموش شدہ وعدے کو ایفا کریں۔

کیا اس امر سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ صرف کشمیر کے تنازع پر تین خونریز جنگیں ہو چکی ہیں جبکہ 2001ء میں بھارت کی پارلیمان کی عمارت پر دہشت گردانہ حملے پر جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی اور ممبئی حملوں کے بعد سے کنٹرول لائن اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے پر ورکنگ باﺅنڈری پر جھڑپوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کیا سلامتی کونسل کو ان جھڑپوں سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ نہیں محسوس ہوتا؟ کیا اس تنازع کی وجہ سے دونوں ہمسایوں میں اسلحے کی دوڑ اور آئے دن نت نئے دور اور نزدیک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات سے جوہری جنگ کا خدشہ نہیں ہے۔ کیا دنیا کے امن کو اسی وقت خطرہ لاحق ہو گا جب امریکہ روس یا امریکہ اور چین میں جنگ ہونے والی ہو۔ دنیا غلطی فہمی کا شکار ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ایٹمی جنگ کے اثرات محدود رہیں گے۔ اس جنگ میں جنوبی ایشیا تو صفحہ ہستی سے مٹے گا ہی لیکن اس کے ساتھ ہی چین، وسط ایشیا، افغانستان، ایران، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب سمیت کئی دیگر ممالک بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

جنوبی ایشیا میں جوہری اسلحہ خانے اور جنگ کے منڈلاتے بادلوں پر آنکھیں بند کر لینا پوری دنیا کے لئے ایک بھیانک خطرہ ہے ۔ اس وقت کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے اور ان کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کرے نہ کہ اکالے قانون کو ان پر مسلط رکھا جائے اور مارورائے عدالت قتل عام کو جاری رکھا جائے۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اور انتہا پسندی کے تناظر میں مسئلہ کشمیر مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر پاکستان اور بھارت کبھی بھی خطے کے غریب عوام کی فلاح بہبود کے لئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا سکتے۔ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کشمیر کے پرامن نوجوانوں کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے اور ان معصوم ذہنوں کو ورغلانے والے سکہ بند دہشت گرد دلیلوں کی پوٹلی کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ موجودہ حالات میں اقوام عالم اور اقوام متحدہ خصوصاً بھارت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی امن کو تہہ و بالا ہونے سے بچانے کے لئے حقدار کو اس کا حق دیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن طریقے سے حل ہو جانے میں ہی پوری دنیا کا مفاد چھپا ہے۔