وقار سے ہارو

  • بدھ 11 / فروری / 2015
  • 5206

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم اس وقت نیوزی لینڈ میں ہے اور اس کا ورلڈ کپ کا سفر رسوائیوں کی داستان رقم کرتے ہوئے جاری و ساری ہے۔ ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے ہرگز ہمیں زیب نہیں دیتا کہ قومی ٹیم کے رہے سہے جذبوں پہ بھی قدغن لگائیں۔ لیکن کوتاہیوں و غلطیوں سے سبق حاصل کرنا نہ صرف زندہ قوموں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ خلوصِ نیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کا قومی کھیل تو ہاکی ہے لیکن دیوانے کرکٹ کو ہی قومی کھیل کا سا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن اس کھیل کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو ساستدان پاکستان کے ساتھ کر رہے ہیں۔ بہر حال اس وقت سیاست پر بحث مقصود نہیں ہے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اختیارات کی کھینچا تانی کی وجہ سے عوام سے تفریح کا یہ ذریعہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ کھینچا تانی اس لئے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سونے کی چڑیا کا سا درجہ رکھتی ہے ۔شاید اسی لیے ریٹارئرڈ بیوروکریٹس، فارغ العقل سیاستدان یا پھر ریٹائرڈ جرنیل ، کوئی بھی ہو ، اس ادارے کی کمان قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر سنبھالنے کے لیے تن من دھن سے تیار نظر آتا ہے۔ نہ جانے یہ کون سی قومی خدمت ہے جو بلا معاوضہ نہیں ہو پاتی ۔یاد رہے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ سربراہ یہ دعویٰ بھی کرے کے وہ تنخواہ وصول نہیں کر رہا یا نہیں کی تو اس کے بطور کرکٹ بورڈ سربراہ بیرونی دوروں پر ضرور نگاہ ڈالئے گا۔

جیسے کسی بھی سرکاری ادارے کے ملازم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خدمت گار تصور کئے جاتے ہیں ۔ بیوروکریٹس کو سرکاری ملازم تصور کیا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کو عوامی ٹیکسوں سے تنخواہ وصول کرنے والا تنخواہ دار تصور کیا جاتا ہے اسی طرح کھیلوں میں تنخواہ اور مراعات لینے ولے کھلاڑیوں اور کوچز کو بھی پاکستان کا وفادار ملازم ہی تصور کیا جاتا ہے( تصور کئے جانے کے لفظ اس لئے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی کیوں کہ یہ صرف ایک تصور ہی رہ گیا ہے اور کوئی اس حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہیں کہ اسے مراعات و تنخواہ عوام اپنے ٹیکسوں کے ذریعے دے رہے ہیں) ۔

اس وقت قومی کرکٹ ٹیم کے5کھلاڑی معاہدے کی پہلی درجہ بندی یعنی کیٹیگریA میں ہیں۔ جن میں کپتان مصباح الحق، محمد حفیظ، سعید اجمل، جنید خان اور شاہد خان آفریدی شامل ہیں۔ قارئین کی معلومات کے لئے عرض کرنا نہایت ضروری ہے کہ پہلی درجہ بندی میں آنے والے پانچوں کھلاڑی بنیادی ماہانہ تنخواہ چار لاکھ پچیس ہزار (4,25,000/-) وصول کرتے ہیں۔ چار لاکھ ٹیسٹ میچ فیس، تین لاکھ تیس ہزار ایک روزہ میچ فیس، اور ایک لاکھ پچیس ہزار ٹی ٹونٹی میچ فیس اس کے علاوہ ہے۔ دوسری درجہ بندی میں چار کھلاڑی شامل ہیں ۔ فاسٹ باؤلر عمر گل، عمر اکمل، یونس خان اور احمد شہزاد۔ دوسری درجہ بندی یعنی بی کیٹیگری کے چاروں کھلاڑی ماہانہ تین لاکھ پندرہ ہزار پانچ سو باسٹھ روپے (3,15,562/-) روپے وصول کرتے ہیں۔ سنٹرل کنٹریکٹ کی تیسری درجہ بندی یعنی C کیٹیگری میں چھ کھلاڑی آتے ہیں جن میں اسد شفیق، اظہر علی، عدنان اکمل ، خرم منظور، ناصر جمشیداور عبدالرحمٰن شامل ہیں۔ یہ کھلاڑی ماہانہ ایک لاکھ پچھتر ہزار سات سو پچاس روپے (1,75,750/-) حاصل کرنے کے حقدار ہیں۔ ان تین بنیادی درجہ بندیوں کے بعد ایک خاص کیٹیگری بھی بنائی گئی ہے جسے D کیٹیگری کہا جاتا ہے اس میں پندرہ کھلاڑی شامل ہیں۔ جو ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔

یہ تنخواہ ان اضافی مراعات کے علاوہ ہے جو اچھی کارکردگی یعنی کسی اچھی رینکنگ کی ٹیم کو شکست دینا، سینچری بنانا یا زیادہ وکٹیں لینے وغیرہ پر ملتا ہے۔ یہ رقم بونس کہلاتی ہے اور اگر اس بونس کو بھی تنخواہ میں شامل کر لیا جائے تو تنخواہ سے کئی گنا زیادہ رقم بن جاتی ہے۔ یوں کیٹیگری A کا ایک کھلاڑی سالانہ پچاس لاکھ سے زیادہ تنخواہ وصول کرتا ہے۔ Bکیٹیگری کا ایک کھلاڑی سالانہ پینتیس لاکھ ، اور Cکیٹیگری کا کھلاڑی سالانہ بیس لاکھ روپے سے زائد کماتا ہے ۔ یہ سالانہ اندازہ کم از کم لگایا گیا ہے۔ (یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آفیشل ویب پر تنخواہ سرے سے شائع ہی نہیں کی گئی لہذا ان اعدادوشمار میں تھوڑی بہت کمی و بیشی ہو سکتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر فرق زیادہ نہیں ہے)

دو سال پہلے اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں اوسط ماہانہ آمدن 20 سے 25 ہزار روپے ہے۔ یہ اعدادو شمار 72 ملکوں کے جائزے کے بعد ترتیب دئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ذہن نشین رکھئیے کہ سولہ سالہ تعلیم مکمل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد 20ہزار سے بھی کم تنخواہ پر ملازمت کر رہے ہیں۔ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں میں اس وقت مصباح الحق اس وقت واحد ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہیں۔ کیا پاکستانی قوم اپنے عظیم اور تجربے کار کھلاڑیوں سے یہ سوال کرنے کا حق نہیں رکھتی کہ جس ملک میں مزدور کی ماہانہ تنخواہ 10,000/-روپے (کم از کم ) ہو اس ملک میں صرف گزارے لائق تعلیم ہونے کے باوجود آپ لاکھوں روپے لے رہے ہوں اور کام صرف کھیلنا ہو تو کیا آپ اس کھیل سے انصاف کر رہے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں ان کھلاڑیوں کی غیرت پر جو ہر ہار کے بعد پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے۔ تو جناب اگر آپ بلا معاوضہ کھیل رہے ہوں تو یہ منطق سمجھ میں آتی ہے لیکن جب آپ لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں تو خلوص نیت سے کھیلنا آپ کا فرض بنتا ہے کیوں کہ آپ کو پیسے مل رہے ہیں۔ جسے تنخواہ کہا جا تاہے۔

مجھے یا کسی بھی پاکستانی کو اپنے قومی ہیروز سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں ہے ۔ اس قوم کو دکھ صرف اس وقت ہوتا ہے جب دوسری ٹیموں کے کھلاڑی ہار جانے پر میدان میں ہی زارو قطار رو رہے ہوتے ہیں اور ہماری قوم کہ یہ سپوت ہار کر بھی فخر سے میدان بدر ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی معرکہ سر انجام دیا ہو۔ ہار ہرگز بھی حوصلوں کی ہار نہیں ہوتی اگر ہار سے جیت کا راستہ نکالا جائے ۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جو اس وقت ورلڈ کپ مہم میں چار ناکامیوں کی راکھ جھولی میں ڈالے بیٹھے ہیں سے صرف ایک درخواست ہے کہ آپ لاکھوں روپے صرف کھیلنے کے لیتے ہیں۔ آپ دل و جان سے کھیلیں۔

یہ بات درست ہے کہ ہار جیت کو ذہن سے محو کر دیں لیکن یہ تو ذہن میں رکھیں کہ قوم جیت کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ اگر آپ جیت کی لگن کے ساتھ میدان میں اتریں اور اپنی مکمل صلاحیتوں کے مطابق کھیلیں۔ یہ عوام پاگل نہیں ہے۔ یہ جب دیکھے گی کہ آپ نے جیت کے لیے تن من کی بازی لگا دی لیکن جیت مقدر نہیں ہو سکی تو یہ قوم آپ کی ہار پر بھی تالیا ں بجا کر آپ کا حوصلہ بڑھائے گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے مطابق خلوص نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ اور کڑوی باتیں سن کر عمل کرنے کی عادت ڈالیں۔بے شک میچ ہار جائیں۔
لیکن اس ہار میں بھی ایک وقار ہونا چاہیے۔ ہاریں مگر وقار کے ساتھ۔