ویلنٹائین ڈے اور دیسی دانشور

  • جمعرات 12 / فروری / 2015
  • 5639

عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ علم اور تحقیق سے گریز کرتا ہے اور روایت پر چلنے میں سہولت محسوس کرتا ہے ۔ روایت عادات کی مرہونِ منّت ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے جبکہ علمی اور تحقیقی مراحل دقت طلب ہوتے ہیں اور محنت اور عرق ریزی کا تقاضا کرتے ہیں  ۔ چنانچہ ہم برِّ کوچک کے مسلمانوں نے تحقیق کے بجائے روایت کو ترجیح دی اور سہولت ڈھونڈی ۔ اقبال نے اِس صورتِ حال کو دیکھا تو کہا :
شیر مردوں سے ہوا بیشہ ء تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی

صوفی و مُلّا کی غلامی بہت آسان ہے کیونکہ اس سے عام آدمی تحقیق و تجسس کی اَذیّت سے چھوٹ جاتا ہے ۔ وہ صوفی و مُلّا کی مہیا کی ہوئی معلومات کے بل پر سہولت سے جیتا ہے ۔ اور اگر کبھی کوئی ایسی صورتِ حال سامنے آ جائے جو اُس کے نظامِ عادات  سے باہر ہو تو اُسے علی الاعلان ، ڈنکے کی چوٹ کفر یا بدعت قرار دینے میں دیر نہیں لگتی ۔

اِن دنوں ویلن ٹائن ڈے کی آمد آمد ہے ۔ چودہ فروری دو دن کی مُسافت پر رہ گیا ہے ۔ اور کچھ اہلِ روایت و مذہب  نے اس دن کے خلاف محاذ کھول لیا ہے حالانکہ اس وقت کا سب سے برا مسئلہ داعش ہے ویلنٹائن ڈے نہیں ۔

ویلنٹائین ڈے ایک ایسا دن ہے جو فروری کے وسط میں پڑتا ہے ۔ یہ موسمِ سرما کی رُخصت کا ناقوس ہے ۔ جیسے بسنت کے موقع پر کہا جاتا ہے کہ آیا بسنت ، پالا اُڑنت ۔ لیکن ویلنٹائن ڈے کے بارے میں ایک محقق کا کہنا ہے کہ فروری کے وسط میں پرندے اپنے جوڑے بناتے ہیں ۔ نر مادائیں منتخب کرتے ہیں ۔  پرندوں کے جوڑے فطرت کے نظامِ محّبت کا ایک جزو ہیں ۔ چنانچہ کچھ خوش باطنوں اور رومان پرستوں نے اس دن کو اپنے فرضی یا حقیقی محبوبوں اور محبوبائوں کے نام محبّت نامے بھیجنے کا دن قرار دے لیا اور اس یومِ محبت میں اتنی کشش تھی کہ لوگ اس دن کو باقاعدہ تہوار مان کر ہر سال محبت ناموں  کے تبادلے کا میلہ منعقد کرنے لگے ۔ تاجروں نے اسے کمرشلائز کرلیا اور عشاق کی سہولت کے لیے رنگ برنگے کارڈ چھاپ دیے تاکہ اہلِ عشق و مستی اپنے اپنے ذوق کے مطابق کارڈ منتخب کر کے بھیج سکیں ۔ یہ ریڈی میڈ محبت نامے ہاتھ سے لکھے محبت ناموں کا نعم البدل ہیں ۔

ہمارے یہاں عید کارڈوں کی بدعت بھی مغرب ہی سے آئی ہے اور اب یہ ہماری عادت بن گئی ہے کہ ہم عید پر اپنے اُن رشتہداروں کو عیدکارڈ بھجواتے ہیں ، جن پر طرح طرح کی خوبسوت عبارتیں اور اشعار رقم ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ شعر تو زباں زدِ عام ہے:
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسمِ دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

لیکن ویلنٹائن ڈے کا معاملہ عید کے تہوار سے قدرے مُختلف ہے اور اس میں  ایک قباحت یہ بھی ہے کہ یہ دن ایک عیسائی درویش سینٹ ویلنٹائن سے بھی منسوب ہے ۔ مگر اس  سے اسلام کی انفرادی  شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم رضی اللہ کے نام کی پوری سورت موجود ہے ۔ قرآنِ کریم میں جا بجا عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ  رقم ہے اور اُنہیں آدمِ ثانی کہا گیا ہے ۔ تو اگر سورہء مریم کی  تلاوت کرنے والے کچھ لوگ ویلنٹائن ڈے کی روایت میں شریک ہو کر محبّت ناموں کا تبادلہ کرتے ہیں تو اِس میں ہرج ہی کیا ہے  ؟

قرانِ کریم نے اس امر کی اجازت دی ہے کہ اگر شادی یا نکاح کی نیت سے نام و پیام کیے جائیں تو وہ روا ہیں ؛ سورہ ء بقر کی یہ آیات دیکھیے:
" اگر تم اشارے کنائے میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو  یا اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں  ۔ خُدا کو معلوم ہے کہ تم اُن سے(نکاح کا) ذکر کروگے ۔ " آیت نمبر ۲۲۵ کا جزو اول ۔

میں نہ تو اس مضمون میں خود کو فقیہ بنا کر پیش کر رہا ہوں اور نہ ہی مفسر ، بلکہ ایک عام آدمی کی طرح جو قرانِ حکیم کے پیغامات کو سمجھنا چاہتا ہے ۔ تحقیق کی گرہیں اپنی بصیرت کے مطابق کھولنا چاہتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ اگر اس ویلنٹائن ڈے کے موقعہ پر کہیں کچھ پاکستانی محبت ناموں کا تبادلہ کرتے ہیں تو اُس میں کوئی مضائقہ نہیں  ، کیونکہ ایک ویلنٹائن کارڈ نہ تو خود کُش جیکٹ جیسا انسان کُش ہے اور نہ ہی دستی بم کی طرح تباہی پھیلانے والا ۔

ہم ایک گلوبل معاشرت میں رہتے ہیں اور مغرب کی ساری ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں ، تو ایک معصوم سی رسم میں شرکت سے کوئی کفر نہیں ٹوٹ پڑنے کا  ،  تاہم میں اسے ایک باقاعدہ تہوار کے طور پر پاکستانی مسلمان معاشرت کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کرنے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ نہ یہ میرا منصب ہے اور نہ ہی میرا کام ۔ وما علینا الالبلاغ ۔