ورلڈ کپ کا بڑا معرکہ

  • جمعہ 13 / فروری / 2015
  • 5050

شائقین کرکٹ کے دلوں کی دھڑکیں تیز ہو گئیں اور وہ لمحہ آن پہنچا ہے جب اس کھیل کا سب سے بڑا میلہ شروع ہونے کو ہے اور اس میلے کا سب سے بڑا معرکہ بھی برپا ہونے کو ہے۔ ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم نے شروعات تو مایوس کن کیا مگر وارم اپ میچز میں مسلسل دو فتوحات سے کھلاڑیوں کے حوصلوں کو یقینا مہمیز ملی ہو گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام میں بھی حوصلہ اور ورلڈ کپ میچز دیکھنے کی ہمت پیدا ہوئی ہے۔

ورلڈ کپ میچز کے شیڈول کے مطابق پاکستان پہلا میچ اتوار کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔ شائقین کا جذبہ اس میچ کو لے کر عروج پر ہے اور اہم مقامات پر منچلوں اور شائقین کی جانب سے بڑی اسکرینوں پر میچ دیکھنے کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یوں تو ورلڈ کپ کے تمام میچ ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں تاہم پاک بھارت میچ میں جس قدر سنسنی اور جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے اس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔

ورلڈ کپ 2015 میں 14 ٹیمیں پنجہ آزمائی کریں گی مگر ماہرین کے مطابق ون ڈے رینکنگ میں سرفہرست آٹھ ٹیموں میں سے ہی کوئی فاتح ہو گا۔ کرکٹ کے سب سے بڑے میلے میں فاتح ہونے کے لئے ایک اچھی ٹیم، سو فیصد کارکردگی اور قسمت جیسے عناصر انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال 92 کا ورلڈ کپ ہے جب کارکردگی کے ساتھ قسمت نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا اور عمران خان کی قیادت میں پاکستان پہلی بار ورلڈ چیمپئن بنا۔

پاک بھارت میچ کے حوالے سے شائقین کے دلوں کو گرمانے اور امیدیں دلانے کے لئے دونوں ممالک کا میڈیا بھی بھرپورکردارادا کررہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ سے قبل دونوں ممالک کے عوام بھی جیت سے کم  پر رضا مند ہونے کو تیار نہیں۔ دونوں ممالک خصوصاً بھارتی میڈیا اس حوالے سے مسلسل پاکستانی ٹیم کو دباﺅ میں لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔  ماہرین کے تبصروں سے لے کر ٹی وی اشتہارات تک میں بھارتی ٹیم کو فاتح تصور کر لیا گیا ہے۔ دونوں ٹیموں کو کاغذوں پر پرکھتے ہوئے تو شاید یہ تصور کسی حد تک درست دکھائی دیتا ہے مگر میدان میں جیت اسی کا مقدر بنتی ہے جو سو فیصد کارکردگی دکھاتا ہے۔

دنیا بھر میں کھیل کو لطف اندوزی اور ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر پاکستان اور بھارت میں کھیل کو ایک جنگ کا درجہ دیا جا چکا ہے جو یقینا درست عمل نہیں۔ پاکستان یا بھارت کی جیت سے قطع نظر دیکھنا چاہے کہ کھیلنے والے محنت سے کھیلیں۔ میدان میں اپنی ساری توانائی صرف کریں اور اگر اس کے باوجود بھی شکست ہو تو کوئی بات نہیں ۔ ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے اور جب دو ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں تو کسی ایک کو ہی فتح نصیب ہوتی ہے۔

کرکٹ کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بھی اہم حیثیت حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں کرکٹ ڈپلومیسی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ڈپلومیسی کا آغاز ضیاءالحق کے دور سے ہؤا تھا ۔ اس کے بعد سے ہر دور میں کرکٹ ڈپلومیسی اہم رہی ۔ ورلڈ کپ 2011 کے سیمی فائنل میں بھی کرکٹ ڈپلومیسی کو بروئے کار لایا گیا۔ منموہن سنگھ کی وزارت عظمیٰ میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی موہالی گئے تاہم ان کی بھارت یاترا پاکستان ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ اس سیمی فائنل کے بعد شور سنائی دیا کہ شاید اوپر کی سطح پر کوئی معاملات طے پائے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم شاہد آفریدی کی کپتانی میں ایک بظاہر جیتا ہوا سیمی فائنل ہار گئی ۔

آج ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے ورلڈ کپ 2015 کے میچ سے دو روز قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا پاکستانی ہم منصب نوازشریف کو ٹیلی فون بھی کرکٹ ڈپلومیسی کے حوالے سے اہم ہے۔ خدانہ کرے کہ اس ٹیلی فون کا پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ پر کوئی منفی اثر پڑے ۔ پاکستانی ٹیم کو مکمل صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہئے اور جیت کے لئے تن من کی بازی لگا دینی چاہئے ۔

اس بے پناہ پریشر والے میچ میں اعصاب کو کنٹرول میں رکھنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ جو ٹیم پریشر کو برداشت کرنے کے ساتھ انجوائے کریگی وہی فتح مند ہو گی کیونکہ جوش میں ہوش کھو دینے والے کو شکست ذائقہ کا چکھنا پڑتا ہے۔