ایک کرکٹ پسند اُمت کا احوال

  • سوموار 16 / فروری / 2015
  • 5316

کرکٹ میچ ہونے والا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا میدان سجنے والا ہے ۔ پاکستان کے شاہینوں کو بھارتی سورمائوں سے بھڑ جانے کے لیے ہلا شیری ہو رہی ہے ۔ نجومی پیش گوئی کے میدان میں اُترے ہوئے ہیں ۔ نجومی ، غیب کا حال جانے والے طوطے اور کبوتر اکیلے نہیں ڈولفن مچھلی بھی ساتھ ہے ۔ پاکستان جیتے گا ۔

کرکٹ کے ماہرین اور مبصرین پاکستان کے جیتنے کے مواقع زیرِ بحث لا رہے ہیں ۔ لگتا ہے پاکستان کی جیت طے ہے ۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جیتنے سے نہیں روک سکی ۔ بڑے بوڑھے دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ پوری قوم کی نیک تمنائیں کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہیں اور یہ  سارا کھیل ٹی وی کی سکرین پر کھیلا جا رہا ہے ۔ایک  کرکٹ کی  ایکسپرٹ خاتون مبصر  پاکستانی ٹیم کی وردی میں ملبوس ،  ناظرین کو ٹیم کی فتح کی نہ صرف اُمید دلا رہی ہیں بلکہ فتح کی ٹرافی ہتھیلی پر جما رہی ہیں ۔

ٹی وی کی سکرین پر بچّوں کے گروہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی وردیاں پہنے جیت کے گیت گا رہے ہیں ۔ لگتا ہے پاکستان کا اصل مذہب کرکٹ ہے ۔اس سلسلے میں مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات کے انٹرویو ٹیلی کاسٹ کئے جا رہے ہیں ، جو پاکستانی ٹیم کی جیت کو یقینی سمجھتے ہیں اور مختلف کھلاڑیوں کی شان میں مدح سرا ہیں ۔ بوم بوم آفریدی معجزہ دکھائے گا ۔ احمد شہزاد ٹیم کو جتوائے گا ۔ یہ ہو گا وہ ہوگا ۔ لوگ فتح کے خواب دیکھنے لگے ہیں ۔ لگتا ہے اب پورے پاکستان کا ایک ہی  خوب ہے ۔ کرکٹ میں بھارت کی شکست ۔ پاکستان کی جیت جو نظریہ ء پاکستان کی جیت ہے ۔ علّامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے ۔ قائدِ اعظم کے پاکستان کی باز یافت ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ کا بدلہ ہم نے کرکٹ کے میدان میں لینا ہے ۔ ہمارے بدن کا سارا لہو ایک ہی خیال میں سمٹ آیا ہے ۔ ہماری جیت ۔ پاکستان کی جیت ۔ جیت ۔ جیت ، جیت ۔

لوگ ٹی وی کے سامنے رات بھر بیٹھے رہے ہیں ۔ سارا میچ میڈیا کی کھڑکی سے دیکھا جا رہا ہے ۔ چوکے پر تالیاں بجتی ہیں اور کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر مونہہ لٹک جاتے ہیں ۔ کھیل دیکھا جا رہا ہے اور تالیاں بج رہی ہیں ۔ لیکن ، لیکن ، لیکن ۔۔ کیا ہوا ؟

پاکستان ہار گیا ، ہمارا خواب ٹوٹ گیا ۔ وردیوں کا رنگ دھندلا گیا ۔ سارا جوش دھیما پڑ گیا ۔ گلے رُندھ گئے ۔ کچھ لوگوں نے کھلاڑیوں کی شان میں گستاخیاں بھی کیں اور ایک کم سن خاتون نے تو یہ تک کہ دیا کہ اب اُنہیں ورلڈ کپ سے کوئی دل چسپی نہیں رہی ۔ عالمی کپ گیا بھاڑ میں ۔  مایوسی اور ملال نے اس حد تک اپنا اثر دکھایا کہ  پشاور میں کرکٹ کے ایک کھلاڑی کے ہمسائے نے احساسِ شکست سے دو چار ہو کر اپنا ٹیلی ویژن اُٹھایا اور سڑک پر لے جا کر بھرے مجمعے میں ٹی وی کیمروں کے سامنے توڑ دیا ، پھر اس بے قصور ڈبے کو ٹھوکریں ماریں جیسے سارا قصور اُسی ڈبّے کا تھا ۔

بہت سے لوگوں نے قومی کرکٹ بورڈ کی غلط سیاست کو ہدفِ تنقید بنایا ۔ جنرل پرویز مشرف نے ذکا اشرف کی بطور چیئر مین تقرری یاد دلائی اور اُن کی برطرفی کو اس شکست سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ کچھ مبصرین نے ایمپائر نگ میں کیڑے نکالے اور اس شکست کو باقاعدہ سازش ثابت کرنے کی کوشش کی ۔

کرکٹ ایک کھیل ہے جو  برطانوی نو آبادیاتی آقاؤں نے غلام ہندوستان میں رائج کیا اور پھر وہ چل نکلا اور مقبول ہو گیا اور آزادی کے بعد سات دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کا سب سے مقبول مشغلہ ہے ۔اور وہ اِس لئے کہ یہ کھیل یک باقاعدہ کاروبار ہے جس کے کھلاڑی  تنخواہ دار ہوتے ہیں ۔ اِس  باقاعدہ کاروبار  کی آمدنی اور منافع بہت بڑا ہے اور اور اس کی کمرشل ویلیو اتنی بڑھ گئی ہے کہ  سٹہ باز اس پر سٹّہ لگاتے ہیں  اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے میچ فکس کروانے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔

کھیل ،  ایک صحت مند سرگرمی ہے  ،  لیکن جب کھیل  سیا ست اور کاروبار بن جائے تو کھیل کی اصل روح مرجاتی ہے ۔ لیکم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی کرکٹ میں بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو دوسرے قومی  معاملات میں کرتے ہیں ۔ معاملہ سلیکشن بورڈ کا ہو ، کرکٹ بورڈ کے چیئر مین کی تقرری کا ہو ، یا کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کا ، ہم ہر معاملے میں انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑے رکھتے ہیں ۔ اقربا پروری ، مداح نوازی اور دھوکہ بازی ہر شعبے میں بشمول کھیل  ہمارے صاحبانِ اختیار اور اعلیٰ عہدیداران کا  عمومی رویہ ہے  اور ہم اپنے رویوں کے غلام ہیں ۔

رویوں اور عادتوں کی غلامی ، نفسیاتی غلامی کی بد ترین شکل ہوتی ہے ۔ اور جب تک ہم اس نفسیاتی غلامی سے نجات نہیں پاتے ہمیں نہ ہماری سطحی جذباتیت  سے نجات ملے گی اور نہ ہی ہم میں من حیث القوم سپورٹس میں سپرٹ پیدا ہوگی ۔ اور ہماری نوجوان نسل اس طرح کی شکست کے صدموں سے دوچار رہے گی ، اور کرکٹ کی تاریخ میں بھارت سے چھ بار کی شکست اُنہیں شدید احساسِ شکست سے دوچار رکھے گی۔