اسلام کے نام پر ظلم

  • سوموار 16 / فروری / 2015
  • 5876

کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی نژاد لڑکی نے حجاب پہننے سے انکار کر دیا تو اس کا باپ جو بدقسمتی سے پاکستانی ہی تھا اس معصوم لڑکی کا اپنے ہاتھوں گلا گھونٹ کے ” جنت “ کا حقدار ہو گیا۔ یہ دلخراش و دل سوز واردات ٹورنٹو کے مضافات مسی ساﺅ میں پیش آئی۔

کینیڈا سے ساری دنیا کو جاری کی گئی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ 57 سالہ محمد پرویز نامی ایک شخص نے اپنی 16 سالہ بیٹی اقصیٰ پرویز کا گلا گھونٹ دیا۔ لڑکی کو فوری قریبی اسپتال لے جایا گیا اور اس کو مصنوعی تنفس پر رکھا گیا لیکن ظالم باپ کے طاقتور ہاتھوں نے یہ علاج کارگر نہ ہونے دیا اور یہ لڑکی اسی رات ” پرامن مذہب “ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بعد میں پرویز کو گرفتار کر لیا گیا۔

خبر پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ اسلام کے ظہور سے پہلے اور بعد میں کیا فرق باقی رہ گیا؟ تب بھی لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور اب بھی اپنے ہاتھوں گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ یہ جان دینے والی اقصیٰ پرویز مقامی ایپل ووڈ ہائی اسکینڈری اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ اس کی کلاس فیلوز نے بتایا کہ اقصیٰ کے کچھ عرصہ سے اپنی فیملی سے اختلافات چل رہے تھے۔ خاندان کے درمیان کچھ مسائل تھے کیونکہ اس نے حجاب پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ ہمارے اسکول کی کوئی بھی لڑکی حجاب نہیں پہنتی تھی۔ ان طالبات نے بتایا کہ اقصیٰ پرویز اپنے باپ کے اصرار پر گھر سے نکلتے وقت حجاب پہن لیتی تھی اور اسکول آنے کے بعد مروجہ ملبوسات پہن لیتی تھی۔ ان لڑکیوں کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ اسکول آنے کے بعد کس تیزی سے دوڑ کر واش روم میں داخل ہوتی تھی اور اپنا لباس تبدیل کرتی تھی تا کہ وہ ہم سب کی طرح لگے۔

اس قتل کی واردات نے کینیڈا جیسے پرامن ملک میں صدمہ کی لہر دوڑا دی۔ اخبار نویسوں نے ٹورنٹو میں کافی عرصہ سے مقیم ایک پاکستانی خاتون کا انٹرویو کیا تو اس نے کہا کہ ” حجاب کبھی بھی پاکستانی معاشرے کا حصہ نہیں رہا، یہ عرب سے آیا ہے اور عربی ثقافت پاکستان سے مختلف ہے“۔ اس خاتون سونیا احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شخص (محمد پرویز) اب یہ سمجھتا ہو گا کہ اس نے صحیح قدم اٹھایا ہے اور وہ سیدھا جنت میں جائے گا جہاں 70 حوریں اس کا انتظار کر رہی ہوں گی۔ اس خاتون نے بتایا کہ ہم پاکستانی جنوبی ایشیائی باشندے ہیں اور جنوبی ایشیا کے باشندوں کا کلچر جداگانہ ہے۔

ایک اور خاتون عاصمہ خان جو رسالہ مسلم گرل کی چیف ایڈیٹر ہیں، نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر ضیا الحق نے اپنے دور حکومت میں عرب وہابی علماء اور جنگجوﺅں کو مدعو کیا جنہوں نے روسیوں کے خلاف جہاد کے علاوہ پاکستانی خواتین سے شادیاں کیں اور خاوندوں کے کہنے پر حجاب کی روایت کا پاکستان میں آغاز کیا۔ ضیا الحق سے پہلے حجاب کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسلم گرل کی ایڈیٹر انچیف نے نوجوان لڑکیوں پر والدین کی مرضی مسلط کئے جانے کی سخت مخالفت کی۔

عورت پر ظلم کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج اپنوں اور غیروں کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ میرے حساب سے اس سوال کا جواب تو بہت سادہ اور عام فہم ہے۔ ایک بات تو سب پر واضح ہے اور یہ بات طے شدہ بھی ہے کہ جاگیردارانہ نظام رسم و رواج اور معاشرت سے ہم نکل نہیں سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری اہم حقیقت بھی ہمارا منہ چڑا رہی ہے اور وہ ہے ہمارا اسلامی فقہی لٹریچر۔ اس سلسلے میں مجھے زیادہ کچھ نہیں کہنا کہ اس میں بہت سے ” پردہ نشینوں “ کے نام بھی آتے ہیں۔ مگر ان فقہی علوم میں عورت سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ فقیہہ نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہی فساد برپا کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ بات کہے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ عورت کے بارے میں ہمارا تصورِ دین ناقص ، فرسودہ ، جاگیردارانہ اور بغض و تعصب پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فقہی لٹریچر کے زیر سایہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے بارے میں ایک ” مضبوط “ ناقص سوچ پیدا ہو گئی ہے اور یہ نقص شدہ سوچ نہ صرف کشور حسین شاد باد میں اپنا گھر بنا چکی ہے بلکہ اس کی سرحدوں سے باہر مغرب میں بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔

ہم جہاں جاتے ہیں اسی ناقص سوچ کی گٹھڑیاں سر پر اٹھائے جاتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ مغرب ایک جمہوری معاشرہ ہے۔ یہاں پر ہر ایک کو اپنی بات کہنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کیا یہاں عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر نہیں ہوتی؟ برطانیہ یا کینیڈا ، ہالینڈ یا امریکہ کسی ایک نسل یا ثقافت کا ملک نہیں رہا بلکہ سارا مغرب ایک ملٹی کلچر یا کثیر الثقافتی ملک بن چکا ہے۔ مگر اس کثیر ثقافتی معاشرے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہاں کی صدیوں پرانی اقدار اور تہذیب پر کوئی دوسری تہذیب مسلط کر دی جائے۔

سچائی ایک ہی ہوتی ہے اور صاحبان عقل اس کی اپنے اپنے حساب سے تشریح کرتے ہیں۔ آج کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والے ملاﺅں ، مولویوں ، علما کرام اور نام نہاد دانشوروں کی اکثریت ساتویں اور آٹھویں صدی کی اسلامی روایات اور رسم و رواج کو مثالی سمجھتی ہے۔ نئے وقت کے نئے تقاضوں کو پس پشت ڈالتی ہے۔ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھولتی ہے اور ان کو یقین ہے کہ ان روایات کی بحالی ہی دنیا پر اسلام کو غلبہ دلانے کا واحد طریقہ ہے۔ آج ” باشعور “ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس گروہ کو ساتویں صدی کی ذہنیت سے باہر نکالے اور اسلام کی ایسی عصری شکل مرتب کریں جو دوسرے مذہب و تہذیب و تمدن اور روایات کے ماننے والوں کو بھی قابل قبول ہو۔

جیسا کہ سب جاتے ہیں برصغیر کی تہذیب لگ بھگ ایک جیسی ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بھارت سے آ کر یہاں مغرب اور امریکہ و کینیڈا میں بسنے والوں نے اس مغربی تہذیب کی اہمیت کا نہ صرف احساس کر لیا ہے بلکہ اسے قبول بھی کر لیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان میں نہ صرف ہندو اور سکھ شامل ہیں بلکہ بھارتی مسلمان بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ میرے حساب سے پاکستان سے تارکین وطن کی پہلی نسل تک اپنے اپنے عقائد اور مسلک و فرقہ ہی لے کر بیرون ملک آئے تھے۔ ان مولویوں اور علما کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی۔

پھر یہ ہؤا  کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے مغربی ملکوں کی ہر گلی اور ہر محلے میں ” علما “ کے ساتھ ان کے مسالک ، عقائد اور فرقے بھی پہنچ گئے۔ ان لوگوں نے مملکت خداداد اور پاک سرزمین کی طرح مغرب میں بھی فرقہ وارانہ اور تنگ نظری کے ڈھول پیٹنے شروع کر دئیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس معاشرے کو کفرستان سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاشرے کی برائیاں گنا گنا کے نئی نسل کو ایسا پیغام دیا کہ اس میں محمد پرویز جیسے مسلمان کھمبیوں کی طرح اگنے لگے۔

میرے حساب سے اگر یہ مسلمان جس کے اہل ہیں وہ خود کو اس کے اہل ثابت کر دیتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کی اہمیت میں اضافہ نہ ہوتا اور ہمیں اسلام اور اسلامی روایات کا دفاع نہ کرنا پڑتا۔ آج ہم ان مولویوں اور ان کی خود ساختہ روایات کی اموات کا ماتم ہی نہیں کر رہے بلکہ اس مغربی معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کی موت کا بھی ماتم کر رہے ہیں۔ کینیڈا میں مقیم محمد پرویز دراصل اس معاشرہ کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔ کبھی بھی حصہ نہیں بن سکتا تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ محمد پرویز واپس اپنے لوگوں میں پلٹ جائے؟

کیا آپ کو میری ان شکایتوں ، حکایتوں ، روایتوں یا میری باتوں اور وارداتوں میں کوئی ربط نظر آتا ہے؟ اور کیا آپ بھی وہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہا ہوں ............ ؟