علم کیوں ضروری ہے

  • جمعرات 19 / فروری / 2015
  • 5714

ہر جاندار کو زندہ رہنے کیلئے غذاکی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ توانائی حاصل کرکے اپنی سرگرمیوں کو انجام دے سکے ۔ انسان بھی ایک جاندار کی حیثیت سے دنیا میں اپنا وجود رکھتا ہے اور اسے بھی اپنی زندگی گزارنے یا یوں کہئے کہ اپنی سرگرمیوں کی تکمیل کیلئے توانائی درکار ہوتی ہے۔ جس کیلئے وہ مختلف طرح کی غذا کا استعمال کرتا ہے۔

چونکہ انسان اللہ رب العزت کی پسندیدہ تخلیق ہے اس کے پاس ایک اہم خاصیت ہے جو کسی دوسرے جاندار میں نہیں، وہ ذہن یا دماغ کا ہونا ہے جس کے بل بوتے پر وہ اپنا اچھا برا اورنیکی بدی سے واقفیت حاصل کرتا ہے ۔ جس طرح جسم کے لئے غذا ک ضروری ہے بالکل اسی طرح ذہن کو بھی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کیلئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جسم کیلئے اناج ، سزیاں، گوشت، پانی سیمت دیگر وہ تمام اشیا ء جو جسمانی غذا کیلئے ضرورت ہوں انہیں استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن ذہنی کی نشوونما کیلئے جو چیز درکار ہوتی ہے اسے علم کہا جاتا ہے ۔

انسان کی زندگی یہ نہیں کہ جانوروں کی طرح کھایا پیا اور عمر کے تمام مراحل مکمل کئے اور جہان فانی سے کوچ کرلیا بلکہ انسان اشرف المخلوق ہے لہٰذا اس کی زندگی کا مقصد بھی مختلف ہے ۔ یہ اللہ کا دنیا میں خلیفہ بن کر آیا ہے اور اس نے دنیا میں حکومت کرنی ہے ۔ حکومت کرنے کیلئے ضروری ہے اسے علم بھی ہو کہ حکمرانی کرنی کیسے اور کیسی ہے۔ تو سمجھ لیجئے کہ تعلیم کا حصول اس کیلئے ناگزیر ہے ۔ انسان کی زندگی اور اس کی اہمیت کی بنیاد گویا کہ علم کا ہونا ہے۔

ہر نبی نے دنیا میں علم کا پرچار کیا ۔ چار آسمانی کتابیں بنیادی طور پر علم کا منبع ہیں جس میں آخری کتاب قرآن مجید کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کا نزول علم کی آگاہی سے شروع ہوا اور علم کی اہمیت پر 800مقامات پر مختلف آیات نازل کی گئیں ۔ ان میں واضح کردیا گیا کہ علم والے اور بے علم دونوں الگ الگ ہیں ۔ علم تہذیب و تمدن کو جنم دیتا ہے۔ تقویٰ و پرہیز گاری کو فروغ دیتا ہے ۔ اخلاق کو بلند اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے ۔ مسلمانوں کے یہاں علم کو ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔
 

 اسلام سے قبل اہل عرب علم کی بنیاد پر دیگر اقوام پر اپنا تسلط رکھتے تھے ، انہیں خطابت کا ہنر آتا تھا ، داستان گوئی ان کی میراث تھی۔ لیکن قرآ ن نے مسلمانوں کو وہ علم دیا جس کی بدولت انہوں نے دنیا کو فتح کرلیا ۔ شاعری ، فن ، تخلیق اور ہنر بھی اسی علم کی بدولت پروان چڑھے ۔ موجودہ دور میں اگر ہم مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لیں تو ہمیں اس امت کی پستی کی وجہ بھی یہی دکھا ئی دیتی ہے کہ اب اس کے معاشرے میں علم کی قدر و منزلت کم ہوچکی ہے ۔ جس دور میں مسلمان دنیا میں ایک طاقت بن کر ابھرے تھے اس وقت ان کے پاس علم کی ایک عظیم طاقت تھی ۔ قرآن پر گفتگو کی جاتی تھی، تفسیر کی ایک بہت بڑی تاریخ اس کے پاس تھی،علم الحدیث کا زمانہ تھا ، لوگ ہر زبان اور ہر تہذیب کا مطالعہ کرتے تھے ۔ علم کے ذرائع محدود نہیں کئے گئے تھے ۔ مسلمان سائنسدانوں نے نمایا ں کارنامے انجام دئے تھے، علم کدے بنے ہوئے تھے ، عالم اور طالب علم کی معاشرے میں تکریم کی جاتی تھی۔ بالخصوص یہ دنیا میں ایک امن و سلامتی کی پہچان تھے ۔

لیکن جو ں جوں مسلمانوں نے علم کو محدود کردیا پستی نے انہیں آجکڑا ۔ اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ علم کا حصول صرف روزگار تک محدود ہوگیا ہے ۔ ڈاکٹر ، انجینئر یا کچھ اور بننا فقط روپیہ کمانا رہ گیا ہے اور اس میں کوئی تحقیق ہورہی تو وہ بھی کمانے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ۔ استاد اول تو اسکول جاتے نہیں اور جو جاتے ہیں وہ وقت گزاری یا مزید مراعات کا حصول چاہتے ہیں۔ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ انہیں پڑھانے کے رموز بھی نہیں آتے جس کی وجہ سے علم کا دائرہ مزید محدود کردیا گیا اور طلباء میں علم کی اہمیت ختم ہوگئی ہے ۔ گھروں میں کوئی علمی ماحول نظر نہیں آتا ۔ٹی وی دیکھنا ایک حد تک درست ہے مگر علم کا حصول اور تہذیب و تمدن سے یہ آگاہی کا کوئی موثر ذریعہ گرداننا نالائقی سے کم نہیں ۔

ملک کی آبادی 18کروڑ کہی جاتی ہے لیکن ملک میں رسالہ جات کی خرید 25ہزار سے بھی کم ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ معاشرہ علم کے فقدان میں گرفتا ر ہے ۔ ہمیں 5ہزار کا جوتا یا کپڑا تو سستا لگتا ہے لیکن 2سو کی کتاب بہت زیادہ مہنگی لگتی ہے ۔ سماجی ادارے بھی خواب غفلت میں مبتلا ہیں ۔ علم کی ترویج اور معاشرے کی بہتر اصلاح کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ۔ کسی دور میں سرکاری سطح پر قریب قریب ہر علاقے میں لائبریریاں قائم تھیں جو وقت کی تیز رفتاری کے باعث غیر فعال جبکہ بیشتر بند کی جاچکی ہیں۔ اسی طرح نجی سطح پر ا ن کا وجود اب نظرہی نہیں آتا ۔ ادیب ، شاعر اور دانشور جو کسی ملک یا قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جارہی ۔ جس کے باعث وہ نان شبینہ کو محتاج ہیں اور پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے تمام اصلاحی کام چھوڑ دال روٹی کمانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔

گویا کہ ہمارا معاشرہ علم کے حوالے سے قحط زدہ ہوچکاہے۔ ایسے میں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کا ادارہ لائق تحسین ہے جو ہمیں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمداقبال کے اس شعر کی جانب لے کر جارہا ہے کہ
دل مردہ دل نہیں ، اسے زندہ کر دوبارہ
یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

 اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس چھ سال سے ملک بھر میں عمومی طور پر جبکہ کراچی کی دہشت زدہ فضا میں بالخصوص علم کے فروغ کیلئے کوششیں کررہا ہے ۔ ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر کے شاعر، ادیب اور دانشور اکٹھے کرتا ہے ، بے شمار اجلاس منعقد کرتا ہے ، کئی کتابوں کی رونمائی ہوتی ہے ۔لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے اور حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے جو یقیناًایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ رواں برس بھی اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے ادبی میلے کا انعقاد کیا گیا جو کشت و خون کے آلودہ اور بارود کے ماحول میں ہوا کا خوشگوارجھونکا تھا ۔ میلے میں سوا لاکھ افراد شریک ہوئے جبکہ پاکستان کے علاوہ بھارت، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بنگلہ دیش اور روس کے ادیب اور دانشور شریک ہوئے۔

تین دن کے دوران 86 اجلاسوں میں 30 کتب کی رونمائی ہوئی۔ اس میں پاکستان اور بیرونِ ملک کے 200 ادیبوں، شاعروں، اداکاروں، فنکاروں اور ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔میلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اپیل کی کہ پاکستان میں لائبریری کلچر کو فروغ دیا جانا چاہیے اور ایوارڈوں کے ذریعے لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تقریب میں ضیا محی الدین نے اپنے مخصوص انداز میں مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں سے اقتباسات پڑھ کر حاضرین سے داد حاصل کی۔ضیا محی الدین کے مطابق انھوں نے مشتاق یوسفی کی تحریروں کا انتخاب انشا جی کی وجہ سے کیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ ہم عہد یوسفی میں جی رہے ہیں ۔ اس ادبی تقریب کا اختتام ان کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔حسینہ معین کا کہنا تھا کہ آج کے ڈراموں میں کمرشل ازم زیادہ اور پروفیشنل ازم کم ہوتا ہے جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔

معروف بھارتی مصنفہ نین تارا سہگل کی کتاب سیاسی تخیل کی تقریب رونمائی کے موقع پر مصنفہ نین تارا سہگل نے ترقی پذیر ممالک سے لکھنے والے کردار کی اہمیت پرگفتگو کی اور کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے ادیبوں کو اپنے ملک کے لیے لکھنا چاہیے۔ سندھ ساگر اور قیام پاکستان کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں حمیدہ کھوڑو کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان میں سندھ کا بنیادی اور کلیدی کردار ہے، جبکہ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانیوں کو اپنا تشخص تلاش کرنا چاہیے۔

کراچی ادبی میلے میں تعلیم کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں ممتاز ماہر تعلیم زبیدہ جلال، عارفہ سید زہرہ، عشرت حسین، سبرینہ داؤد اور امینہ سید نے شرکت کی اور پاکستان میں تعلیم کی صورت حال پر توجہ دلائی۔کراچی کے اس ادبی میلے میں صرف کراچی ہی کے نہیں، اندرونِ سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے بھی لوگوں نے نمایاں تعداد میں شرکت کی۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے میلے صوبائی حکومتوں کو کرنے چاہییں اور سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی ادبی میلے بھی ہونے چاہییں۔ میلے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شریک ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ تاہم ہر سوچ کی سیاسی و سماجی شخصیات، انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز کے کارکنوں کی بھی تعداد غیر معمولی تھی۔

یہ صرف ایک تنظیم یا ادارہ ہے ۔ایسے کئی اداروں اور سماجی حلقوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے ہم دنیا میں فقط کھانے پینے اور وقت گزاری کیلئے نہیں آئے بلکہ ہماری زندگی کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ مختلف اور سب سے بلند اور نمایاں ہیں۔